Daily Mashriq

کیا طلبا انگڑائی لے رہے ہیں؟

کیا طلبا انگڑائی لے رہے ہیں؟

بہت سے نوجوانوں سے ان دنوں میری گفتگو رہتی ہے۔ ڈیڑھ برس پہلے تک ان کی اچھی خاصی تعداد عمران خان کی قیادت سے حقیقی تبدیلی کی امید لگائے بیٹھی تھی۔ توقع تھی کہ نئے پن کا نعرہ لگا کے برسرِ اقتدار آنے والی حکومت تعلیمی اداروں میںگھٹن، کرپشن اور دیگر بے اعتدالیوں کے خاتمے اور طلبا کو کم ازکم کیمپس کی چار دیواری میں درپیش مسائل پر آواز بلند کرنے کا حق دینے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔مگر حالات بہت تیزی سے اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کی سمت عمودی انداز میں جا رہے ہیں۔ نئے دور میں تعلیمی بجٹ میں اضافے کے بجائے کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں ٹھیک ٹھاک کٹوتی ہوئی ہے مگر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گھبرانا نہیں۔

ہم ایلیٹ نہیں ادھار پر کام چلانے والے ہیں

حال ہی میں سندھ یونیورسٹی میں ہاسٹل کے طلبا نے پانی کی قلت اور غیر معیاری سہولتوں کے خلاف مظاہرہ کیا تو کئی طلبا کے خلاف بغاوت کی ایف آئی آر کٹ گئی۔ یونیورسٹی آف انجینرنگ لاہور میں فیسوں میں اضافے پر آواز بلند کرنے کی پاداش میں چھ طلبا کا داخلہ منسوخ کر دیا گیا۔ گورنر بلوچستان کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے تحت بلوچستان یونیورسٹی میں طلبا کی سیاسی سرگرمیوں کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ اقدام جنسی ہراسگی کا ایک سکینڈل سامنے آنے کے بعد طلبا مظاہروں کے ردِعمل میں کیا گیا۔ جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ نے کیمپس کے اندر سے ایف سی کی موجودگی فوری طور پر ختم کرنے کے لیے جو حکم جاری کیا اس پر کس قدر عمل درآمد ہوا؟ کوئی بھی قطعی طور پر بتانے کو تیار نہیں۔جتنی بھی سرکاری و نجی یونیورسٹیاں ہیں ان میں داخلے کے وقت طلبا و طالبات سے ایک حلف نامے پر دستخط کروائے جاتے ہیں کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے۔ سیاسی سرگرمی سے کیا مراد ہے ؟ اس کی حلف نامے میں کوئی وضاحت نہیں۔ چنانچہ اگر کوئی طالبِ علم پانی، رہائش، ٹرانسپورٹ، فیس، بدعنوانی، ہراسگی سمیت کسی بھی معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کرے تو اسے بھی سیاسی سرگرمی قرار دے کر تادیبی کاروائی ہو سکتی ہے اور ہو رہی ہے۔جیسے اسلام آباد کی بحریہ یونیورسٹی میں حال ہی میں چوتھی منزل سے گرنے والی ایک طالبہ کی ہلاکت پر طلبا کی بے چینی کو سیاسی سرگرمی قرار دے کر طلبا کی زباں بندی کے لیے دھمکیوں سمیت ہر حربہ استعمال ہوا۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں دس برس تک فارن فیکلٹی کا جعلی پروگرام چلایا گیا اور اس کی آڑ میں ستر لاکھ ڈالر کا فنڈ خرد برد ہو گیا۔ مگر طلبا اگر اس پر سوال اٹھائیں تو وہ سیاسی سرگرمی کے زمرے میں آجاتا ہے۔طلبا یونینوں پر پابندی 1984 میں جنرل ضیا الحق کی آمریت کے دوران لگی تھی۔ ضیا دور تو انیس سو اٹھاسی میں ختم ہو گیا۔ مگر اس دور کے خاتمے کے بعد اگر پرویز مشرف کے دس سالہ دور کو بھی منہا کر دیا جائے تب بھی اب تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی تین تین اور تحریکِ انصاف کی ایک حکومت آ چکی ہے۔ ان میں سے کوئی جماعت ایسی نہیں جس نے بطور حزبِ اختلاف یہ وعدہ نہ کیا ہو کہ برسرِ اقتدار آنے کی صورت میں وہ طلبا یونینوں کی بحالی کے لیے قانون سازی کرے گی۔ اور ان میں سے کوئی جماعت ایسی نہیں جس نے اپنے اس وعدے پر عمل کیا ہو۔بلکہ ضیا آمریت میں لگی اس پابندی کو ضیا مخالف یا ضیا دوست ہر جماعت نے والدہ کے جہیز میں ملنے والے لوٹے کی طرح حفاظت سے رکھا۔ حتی کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو بااختیار بنا دیا گیا مگر طلبا یونینوں کی بحالی کے بارے میں پالیسی کو چھیڑا تک نہیں گیا بلکہ اس میں مزید سختی آ گئی۔حال ہی میں سندھ اسمبلی نے ایک جواں سال رکن ندا کھوڑو کی جانب سے طلبا یونینوں پر سے پابندی ہٹانے اور صحت مند طلبا سرگرمیوں کی اجازت دینے سے متعلق قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ جب قرار داد کی محرک رکن سے پوچھا گیا کہ بی بی صوبے میں پچھلے گیارہ برس سے آپ کی جماعت ( پیپلز پارٹی ) مسلسل برسرِ اقتدار ہے اور اس عرصے میں سندھ اسمبلی نے کئی پروگریسو قوانین کی منظوری بھی دی ہے۔ تو پھر قرار داد کے بجائے طلبا یونینوں پر سے پابندی ہٹانے کا بل کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ اس پر محرک ندا کھوڑو نے کہا کہ صوبائی وزارتِ قانون طلبا یونینوں کی بابت سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ اس کی روشنی میں قانون سازی ہو سکے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ کا مذکورہ فیصلہ پڑھا ہے۔ تو فرمایا کہ میں نے نہیں پڑھا۔ اب پڑھوں گی۔ اسی غیر سنجیدہ اور دوغلے رویے کے نتیجے میں تعلیمی اداروں میں پڑھنے والی نئی پیڑھی اب اپنی مدد آپ کے تحت کھڑے ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ میری نسل نے وہ زمانہ دیکھا ہے جب طلبا طاقت سے حکومتیں گھبرایا کرتی تھیں۔ طلبا یونین طلبا اور انتظامیہ کے درمیان مسائل کے حل کے لیے پل کا کام کرتی تھی اور بیشتر مسائل افہام و تفہیم سے سلجھ جاتے تھے۔یونین سازی کے زریعے طلبا کی جمہوری تربیت اور تشدد کے بجائے دلیل استعمال کرنے کی تربیت ہوتی تھی اور تعلیمی ادارے سیاسی جماعتوں کو تازہ قیادتی خون فراہم کرتے تھے۔ مگر پینتیس برس پہلے یہ نرسری بند ہو گئی ۔اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ آج سیاسی جماعتوں کی قیادت میں اکثریت ذہنی بانجھ لوگوں کی ہے۔ جو ڈبیٹ اور دلیل کے مینرازم سے عاری ہیں۔ ان کی سیاست گالی سے شروع ہوتی ہے اور گالی پر ختم ہوتی ہے۔اس بے بہرہ سیاسی پود کو یہ تک نہیں معلوم کہ پاکستان اس لیے بن پایا کیونکہ علی گڑھ یونیورسٹی، اسلامیہ کالج پشاور اور پنجاب یونیورسٹی سمیت درجنوں تعلیمی اداروں کی نرسری نے قائدِ اعظم کو وہ تازہ خون اور ذہن فراہم کیا جس کے سبب پاکستان کی شکل میں ایک ناممکن ممکن ہو پایا۔ اور آج اسی پاکستان کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ہر طالبِ علم اور طالبہ کو حلف نامہ دینا پڑتا ہے کہ وہ سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوگا۔

شکستگی نے یہ دی گواہی بجا ہے اپنی یہ کج کلاہی

سنو کہ اپنا کوئی نہیں ہے، ہم اپنے سائے میں پل رہے ہیں

(بشکریہ اردو نیوز)

متعلقہ خبریں