Daily Mashriq

معذور ہیں ہم

معذور ہیں ہم

آج دسمبر کے مہینے کی 3تاریخ ہے اور پاکستان سمیت ساری دنیا میں معذوروں کا دن منایا جارہا ہے۔ معذور کا لفظ عذر سے مشتق ہے اور عذر کہتے ہیں مجبوری یا بہانا کو۔ اگر کوئی بندہ کسی کام کو کسی مجبوری کے تحت نہ کرسکنے کی معذرت کرلے اور واقعی وہ بہانہ یا معذرت درست ہو تو آپ اسے معذور کہہ سکتے ہیں۔

گر ترے شہر میں آئے ہیں تو معذور ہیں ہم

وقت کا بوجھ اُٹھائے ہوئے مزدور ہیں ہم

عام طور پر معذوری کی دو بڑی اقسام گنوائی جاتی ہیں جن میں پہلی قسم جسمانی معذوری ہے اور دوسری ذہنی معذوری سمجھی جاتی ہے۔ جسمانی معذور ہاتھوں، پیروں یا جسم کے کسی بھی حصہ کا ناکارہ ہونا متصور کیا جاتا ہے جبکہ ذہنی معذوری کے شکار لوگ ذہنی طور پر پسماندہ گردانے جاتے ہیں۔ جسمانی معذوروں کو دنیا والے لنگڑے، لولے، اندھے، گونگے، بہرے، کوڑھی، کانے، بھینگے، توتلے قسم کے ناموں سے پکارتے ہیں جبکہ ذہنی پسماندگی کا شکار افراد خبطی، جنونی، عاشق، مجنوں، سودائی اور پاگل جیسے خطابات سے نوازے جاتے ہیں۔ پہلی قسم کی معذوری کے شکار لوگوں کی معذوری ڈھکی چھپی نہیں رہتی یعنی اگر کوئی لنگڑا کر چلتا ہے تو دیکھنے والے کو فوراً علم ہو جاتا ہے کہ اس طرح چلنے والے کے جسم کے اس حصہ میں نقص ہے جو چلنے پھرنے کے کام آتا ہے۔ اگر کوئی آپ کی بات سننے کی صلاحیت سے عاری ہو اس سے بات چیت کرتے وقت فوراً آپ پر یہ عقدہ کھلے گا کہ وہ سننے کی صلاحیت سے عاری ہے جسے عرف عام میں ڈورا، یا بہرہ کہا جاتا ہے یہی حالت اندھے یا نابینا افراد کی ہوتی ہے۔ معذور لوگوں کو اپنی معذوریوں کا شدت سے احساس ہوتا ہے ''آنکھوں والو آنکھیں بڑی نعمت ہیں'' میں نے یہ الفاظ ایک اندھے محتاج کی زبان سے اس وقت سنے تھے جب وہ گلی گلی پھیری لگا کر بھیک مانگ رہا تھا۔ اسی قسم کی ایک اور آہنگ بھری آواز''اکھیاں سی ماجوراں میں کناں سی ماجوراں میں ڈاڈا مسکیناں، دیوو اک اک پیسہ، آپڑے بچیاں دا صدقہ'' میرے کانوں میں اب بھی گونجتی رہتی ہے جو آواز لگانے والے کی محرومی، مجبوری یا اس کی معذوری کا احساس دلاکر لوگوں کا دل پسیج لیتی تھی۔ معذور لوگوں کی معذوری دیکھ کر صحت مند لوگوں کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور معذور لوگوں کی مدد کیلئے آگے بڑھنا چاہئے کہ یہی مقصد ہے آج کا دن منانے کا۔

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے

بڑے مجبور ہوتے ہیں یہ معذور لوگ اور ان لوگوں کیلئے عبرت کا نشان بن کر جیتے ہیں جو اچھے بھلے ہوکر بھی ناشکرہ پن کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ پڑھ رکھا ہے کہ سعدی شیرازی ایک بار مسجد سے نماز پڑھ کر نکلے تو ان کی جوتیاں چوری ہوچکی تھیں۔ جس کا ان کو بہت دکھ ہوا، وہ دل ہی دل میں اللہ میاں سے مخاطب ہوکر کہنے لگے کہ ''واہ اللہ، میں نے تیری عبادت کی جس کا اچھا اجر ملا کہ میری جوتیاں ہی کوئی لے اُڑا''۔ وہ اپنے دل میں یہ اور اس سے ملتی جلتی باتیں کررہے تھے کہ دوسرے ہی لمحہ جب انہوں نے ٹانگوں اور پیروں سے محروم ایک شخص کو زمین پر رینگتے ہوئے چلتے دیکھا تو ان کو اس بات کا احساس ہوا کہ میں تو جوتیوں کو رو رہا ہوں لیکن وہ جو معذور شخص ہے اس کے تو پاؤں ہی نہیں، یہ سوچ کر حضرت سعدی شیرازی کو اپنے کہے پر پشیمان ہوکر توبہ استغفار کرنی پڑی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں اس وقت چھ سو ملین افراد معذور ہیں یعنی دنیا میں ہر دس میں سے ایک شخص معذور ہے، ایک حوالہ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں80سے90 فیصد لوگ معذور ہونے کی وجہ سے زندگی کی دوڑ میں حصہ نہیں لے سکتے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کا تناسب50سے70فیصد ہے چونکہ معذور لوگ صحت مند لوگوں کی توجہ اور مدد کے محتاج ہوتے ہیں اسلئے انہیں خصوصی، سپیشل یا قابل توجہ افراد بھی کہا جاتا ہے۔ معذوروں کا عالمی دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے14اکتوبر1992ء میں ہر سال دسمبر کی3تاریخ کو منانے کی منظوری دی تھی جس کا مقصد معذور افراد کی معذوری یا پسماندگی کا احساس پیدا کرنا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں نادرا کی جانب سے معذور افراد کیلئے خصوصی شناختی کارڈ جاری کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ ملک بھر میں معذور افراد کی سپیشل تعلیم کیلئے نگرنگر تعلیمی وتربیتی ادارے معذوروں کو صحت مند زندگی گزارنے کے گر سکھا رہے ہیں، زندگی کی شاہراہ پر ہماری ملاقات ایسے خصوصی افراد سے بھی ہوتی رہی ہے جو معذور ہوکر بھی زندگی کی معمولات حیرت انگیز طور پر انجام دیتے نظر آئے، ہم نے اپنی آنکھوں سے ہاتھوں اور بازوؤں سے محروم افراد کو اپنے پیروں میں قلم پکڑ کر لکھتے دیکھا اور اس وقت تو ہماری حیرت کی کوئی حد نہ رہی جب ہم نے ایک معذور کو اپنے پیروں کی انگلیوں میں موئے قلم پکڑ کر ایک شہکار تصویر بناتے دیکھا، معذوری چاہے ذہنی ہو یا جسمانی، معذور لوگوں پر امتحان بن کر اُترتی ہے اور اس امتحان میں وہ لوگ کامگار وکامران ٹھہرتے ہیں جو ہمت نہیں ہارتے اور اپنے اندر کی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، ایسے لوگوں کی عزم حوصلہ اور ہمت کو دیکھ کر ہم ان کو معذور کہنے کی بجائے ان لوگو ں کو معذور کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو آنکھیں رکھ کر بھی دیکھ نہیں سکتے اور دل رکھ کر بھی خوف خدا سے عاری ہوتے ہیں

اور کچھ دیر ستم سہہ لیں تڑپ لیں رو لیں

اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم

متعلقہ خبریں