Daily Mashriq

ملائیشیا: سابق وزیراعظم نے اربوں ڈالر کے اسکینڈل میں بیان ریکارٖڈ کروادیا

ملائیشیا: سابق وزیراعظم نے اربوں ڈالر کے اسکینڈل میں بیان ریکارٖڈ کروادیا

ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق 1 ملائیشیا ڈیولپمنٹ برہد (1 ایم ڈی بی) اسکینڈل میں سرکاری فنڈز میں ملٹی بلین ڈالر کے مجرمانہ الزامات پر پہلی دفعہ پیش ہوگئے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نجیب رزاق پر الزام ہے کہ انہوں نے سابق 1 ایم ڈی بی یونٹ ایس آر سی انٹرنیشنل سے غیر قانونی طور پر ایک کروڑ ڈالر وصول کیے جنہیں نومبر میں پروسیکیوشن کی جانب سے کیس ثابت کرنے کے بعد اپنی صفائی پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

تاہم انہوں نے ایس آر سی کیس میں اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی، منی لانڈرنگ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزمات کا انکار کردیا تھا۔

سابق وزیراعظم کی گواہی کے موقع پر وکیل صفائی محمد شفیع عبداللہ نے کہا کہ ان کے موکل کے پاس یہ بات تسلیم کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ کس قسم کی غیر قانونی رقم انہیں منتقل کی گئی۔

وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ نجیب رزاق ایس آر سی کے فنڈ میں کسی قسم کی بدعنوانی میں ملوث نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے کسی شخص سے رشوت لی۔

سوال جواب کی صورت میں ان کی گواہی کی ابتدا میں سابق وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کس طرح 2009 میں 1ایم ڈی بی شروع کیا اور ایک اسکینڈل کے مرکزی کردار ملائیشین فنانسر جھو لو اس فنڈ سے کیسے منسلک ہوئے۔

کمرہ عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے نجیب رزاق نے کہا کہ ’جھو لو نے اپنے آپ کو مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والی بااثر شخصیت کے طور پر پیش کیا تھا جس پر مجھے یقین تھا کہ وہ پارٹنرشپ کی صورت میں سرمایہ کاری میں معاونت فراہم کرسکتا ہے‘۔

رپورٹس کے مطابق جھو لو پر ملائیشیا اور امریکا میں 1 ایم ڈی بی میں خردبرد کا الزام لگایا گیا تھا تاہم انہوں نے کسی قسم کے غلط افعال کی تردید کی اور وہ اب بھی مفرور ہیں۔

امریکا کے محکمہ انصاف نے کہا تھا کہ 1 ایم ڈی بی کے ذریعے منتقل کیے گئے 4 ارب 50 کروڑ ڈالر جھو لو اور ان کے ساتھیوں نے ایک کشتی، پرائیویٹ جیٹ، پکاسو ک پینٹنگ، زیور اور املاک خریدنے کے لیے استعمال کیے۔

خیال رہے کہ ملائیشیا میں غیر متوقع طور پر انتخابات میں شکست پانے والے نجیب رزاق 1 ایم ڈی بی فنڈز میں ایک ارب ڈالر وصول کرنے کے حوالے سے بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے درجنوں مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔

ان الزامات میں نجیب رزاق کو جرم ثابت ہونے پر بھاری جرمانے اور ہر الزام پر 15 سے 20 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں ملائیشیا میں ہونے والے انتخابات میں نجیب رزاق کو شکست کے بعد ان پر اب تک سرکاری خزانہ لوٹنے کے 32 سے زائد مقدمات درج ہوچکے ہیں۔

ان پر 4 اختیارات کے ناجائز استعمال اور 21 منی لانڈرنگ کے مقدمات درج ہیں جن کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ یہ ان کے خلاف اب تک کے سب سے سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں۔

09 مئی 2018 کو مہاتیر محمد کے وزیراعظم بننے کے بعد اتحادی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 1MDB فنڈ میں مبینہ کرپشن کی ازسرنو تحقیقات کرے۔

متعلقہ خبریں