سی پیک اور مستقبل کی منصوبہ بندی

سی پیک اور مستقبل کی منصوبہ بندی

اگرچہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے بارے خیبر پختونخوا میں بعض سیاسی عناصر کی جانب سے ابھی تک تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو وفاقی وزراء اور وزرائے اعلیٰ کے ہمراہ دورہ چین کے موقع پر طریقے کے ساتھ رضا مند کرکے مطمئن کرلیاگیا ہے اس کے باوجود مغربی روٹ کی تعمیر اور سی پیک میں خیبر پختونخوا کے مفادات اور حقوق کا معاملہ حل نہیں ہوا بلکہ اس بارے ہم نے اپنا مضبوط موقف بھی رضا مندی کے اظہار کے بعد کھو دیا۔ نا قدین کی اس تنقید کے برعکس وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی جانب سے منصوبے بارے اعتماد میں لینے کے بعد تسلسل کے ساتھ پیشرفت کی سعی میں ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس ضمن میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے اطمینان کے باوجود بھی خیبر پختونخوا کی حکومت اور تحریک انصاف نے اختلاف رائے کا آخری دروازہ بند نہیںکیا وہ یوں کہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے پشاور ہائیکورٹ میں وفاق کی جانب سے صوبے کو اس اہم منصوبے میں مناسب حصہ نہ دینے کے حوالے سے اپنی نالش واپس نہیں لی۔ اس ضمن میں عدالت کی جانب سے وفاق سے وضاحت طلب کرنے کا جواب رواں عشرے عدالت عالیہ پشاور میں کرانا متوقع ہے جس میں وفاق کی جانب سے عدالت میں تحریری یقین دہانی اور منصوبے کی تفصیلات جمع کرایا جانا ہی موزوں جواب لگتا ہے اور امکان یہی ہے کہ وفاق ٹھوس یقین دہانیاں کرائے گا جس کے بعد درخواست گزار کے اطمینان کی صورت میں معاملہ حل ہو جائے گا یا پھر عدالت میں مزید وضاحت اور طول دینے کے اقداما ت بھی غیر متوقع نہیں۔ بہر حال وفاق کی جانب سے ٹھوس اور تحریری یقین دہانیوں کے بعد اس ضمن میں اتمام حجت ہوگا اور مخالفین کے سامنے بھی ٹھوس یقین دہانیاں آنے پر وہ اطمینان کااظہار پھر بھی شاید نہ کریں۔ مگر بہر حال عوامی اور حکومتی سطح پر معاملات پر اطمینان کا حصول تسلی کا باعث ہوگا۔ اگر عدالت میں وفاق کی یقین دہانیاں قابل قبول ثابت نہ ہوئیں تو وزیر اعلیٰ کی جانب سے تسلی کااظہار کرنے کے باوجود صوبائی حکومت اور تحریک انصاف اس معاملے کو دوسرے پلیٹ فارم سے آگے بڑھائیں گی جس میں ان کو دیگر سیاسی جماعتوں اور عوام کی تائید و حمایت بارے زیادہ تردد نہیں کرنا پڑے گا بلکہ اس طرح کی صورتحال کے اثرات وفاق اور صوبے کے تعلقات پر نہایت منفی مرتب ہوں گے۔ بناء بریں پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ وفاق کاعدالت میں جواب تسلی بخش اور اطمینان کا باعث ہوگا جس کے بعد اس فورم پر بھی معاملے پر زیادہ زور دینے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ ضرورت بھی اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کو متنازعہ بنا کر فریقین جتنے سیاسی اور ایک دوسرے کو دبائو میں لانے کے مقاصد حاصل کرنا چاہئے تھے اس کی مزید گنجائش باقی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس عشرے وفاق کے جواب داخل کرنے کے بعد اس بارے مزید کسی تردد کے اظہار کی گنجائش باقی نہیں رہنی چاہئے۔ خیبر پختونخوا میں وزیر اعلیٰ کی جانب سے سی پیک منصوبوں اور اس کے ثمرات کے حصول کے لئے کچھ عرصے سے بڑی سرگرمی دکھائی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں دیگر منصوبوں کے علاوہ وزیر اعلیٰ نے رشکئی صنعتی زون میں ٹیکنالوجی سٹی کے لئے علیحدہ کلسٹر زون بنانے کاعندیہ دیاہے جس کے ثمر آور اور وقت کی ضرورت ہونے بارے دوسری رائے نہیں۔ اس منصوبے کے لئے جس مہارت ' تجربے اور لگن کی ضرورت ہے اگر اس پر پورا اترنے میں مشکلات بھی ہوں تب بھی اگر پورے خلوص اور دیانت سے سعی کی جائے تو کوئی منصوبہ مشکل نہیں۔ خیبر پختونخوا میں سی پیک کے منصوبوں کے ضمن میں وفاقی حکومت کی جانب سے این او سی کے اجراء اور بعض وسائل و تعاون کے ضمن میں صوبائی حکومت کو خدشات ہونا فطری امر ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ تمام تر یقین دہانیوں اور اتفاق کے باوجود وفاقی حکومت نہ سہی بیوروکریسی کی جانب سے ان معاملات کو الجھانے اور عدم تعاون کارویہ غیر متوقع نہیں۔ اس طرح سے مشکلات ضرور ہوں گی جن سے نمٹنے کے لئے صوبائی حکومت کو ابھی سے منصوبہ بندی کرنے اور ان پر قابو پانے کے لئے مناسب حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت کو سی پیک منصوبے کے فوائد و ثمرات اور امکانات بارے ماہرین سے بار بار مشاورت اور مواقع کا باقاعدگی سے مطالعہ اور تلاش کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔ حیات آباد میں سی پیک ٹاور کے قیام اور سی پیک کے رہائشی مقاصد کے ضمن میں تین ٹائون شپ بنانے کے منصوبے احسن ہیں ۔ اس طرح کے طویل المدت منصوبوں اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ چھوٹی سطح ' ذیلی، مختصر المدتی اورو سط مدتی ضروریات اور منصوبوں کا ادراک کرنے اور ان کے حوالے سے بروقت اقدامات کرنے پر بھی توجہ دی جانی چاہئے۔ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سی پیک کے فوائد و ثمرات سے عوام کو مستفید کرنے کے لئے جہد مسلسل کرے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ سی پیک میں صوبے کو جو حصہ ملے اس حصے کو کما حقہ بروئے کار لا کر اس سے زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹے جاسکیں۔

اداریہ