ٹرمپ پالیسیاں، دنیا بھر میں مخالفت ،دو مسلم ممالک کی حمایت

ٹرمپ پالیسیاں، دنیا بھر میں مخالفت ،دو مسلم ممالک کی حمایت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کئے گئے اقدامات پر چار امریکی ریاستیں ڈٹ گئی ہیں۔ ایک ہزار افسروں کی جانب سے حکم عدولی کی گئی ہے۔ سات مسلم ممالک کے شہریوں اور تارکین وطن کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے فیصلے پر امریکہ سمیت دنیا بھر میں احتجاج اور سخت نا پسندیدگی کااظہار کیا جا رہا ہے۔برطانیہ' جرمنی' فرانس اور دیگر یورپی ممالک اس فیصلے کو نہ صرف تسلیم کرنے سے انکاری ہیں بلکہ ان ممالک کی جانب سے ایسا رد عمل بھی متوقع ہے جیسا کینیڈا کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ مگر دوسری جانب حیرت انگیز امر یہ ہے کہ دو مسلم ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ٹرمپ کے حکمنامے کے دفاع میں بیان جاری کیا ہے۔ سعودی عرب یہ ماننے کو بھی تیار نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اعلان کے مطابق ان سے تیل کی خرید و فروخت بند کردیں گے۔ متحدہ عرب امارات بھی اپنے مفادات کا اسیر ہے۔ یہ مسلم ممالک اگر امریکہ اور یورپ سمیت دنیا بھر میں ٹرمپ کی مسلم ممالک کے خلاف مبنی بر تعصب اور مخاصمانہ پالیسیوں کی کھل کر مذمت اور احتجاج کی جرأت نہیں رکھتے تھے تو ان کو کم از کم ٹرمپ کے احکامات پر انگوٹھا لگانے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے کی بجائے خاموشی اختیار کرلینی چاہئے تھی۔ پاکستان میں قومی اسمبلی میں اس ضمن میں قرار داد مذمت لانے کاعمل سپیکر نے قواعد کے مطابق قرار داد لانے کا کہہ کر روک دیا ہے۔ جماعت الدعوة اور جیش محمد پر پابندی یقینی بنانے اور مشکوک افراد کے ملک چھوڑنے پر پابندی کے اقدام کو خواہ جو بھی گردانا جائے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اقدامات کے پس پردہ عوامل میں امریکہ میں آنے والی نئی حکومت اور اس کی پالیسیاں ضرور ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ مسلمانوں کے حوالے سے جس تعصب کاشکار ہیں اس کی جب خود امریکہ اور یورپ میں شدید مخالفت ہو رہی ہے ہونا تو یہ چاہئے کہ مسلم ممالک بھی اس شدت کے ساتھ اس کی مخالفت کریں اور سفارتی سطح پر متحرک ہو کر مسلمانوں کے خلاف امتیاز کی پالیسی کی بھرپور مزاحمت کریں۔ خود ہماری صفوں میں ٹرمپ کو حامی میسر آگئے ہیں جس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ حالات و واقعات سے یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مقررہ نوے دنوں کی تکمیل تک اس پالیسی پر کار بند رہ پائیں گے یا پھر اس کی تکمیل کے بعد تو اس پالیسی میں توسیع تو خارج از امکان نظر آتی ہے ۔ اگر ان کو امت مسلمہ ہی میں یک آواز مخالفت کی بجائے حمایت ملے گی تو ان کو جواز میسر آئے گا۔ مسلم ممالک کو اس ضمن میں مفادات سے بالا تر ہو کر ٹھوس موقف اپنانا چاہئے یا کم از کم مصلحت کی ردا اوڑھ کر خاموشی ہی اختیار کی جائے۔
نواز شریف ٹائون بعد میں ،بحالی پہلے
گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا کا میرانشاہ میں جدید سہولیات سے آراستہ نواز شریف ٹائون بنانے کا اعلان اپنی جگہ خوش آئند ضرور ہے لیکن مخصوص قبائلی طریقہ بود و باش وہاں کی ضروریات اورروایات کے تناظر میں اس میں عوام کی دلچسپی کا کم ہونا اپنی جگہ فطری امر ہوگا۔دیکھا جائے تو اس وقت میرانشاہ میں نواز شریف ٹائون کی شاید اتنی ضرورت نہیں جتنی لوگوں کے نقصان رسیدہ مکانات' آبی نظام' بجلی اور دیگر سہولیات بلکہ بنیادی ضروریات کی بحالی کی ہے۔ میران شاہ کے معروف بازار کو اگر ترجیحی بنیادوں پر بحال کیا جائے تو اسے نواز شریف ٹائون کے قیام سے زیادہ پذیرائی ملے گی۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے عوامل اور اسباب کے خاتمے کے لئے قبائلی طرز معاشرت میں تبدیلی ہونی چاہئے لیکن اس کی ابتداء قبائلی عوام کو درپیش مشکلات اور ان کے مسائل کے حل سے کی جائے تو زیادہ موثر اور بہتر ہوگا۔
نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر ٹیکس؟
صوبائی حکومت کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی دوبارہ اور باقاعدہ رجسٹریشن کے بعد ان پر ٹیکس عائد کرنے پر غور کرنا اپنی جگہ' اس ضمن میں سب سے پہلے اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا صوبائی حکومت ملاکنڈ ڈویژن کے ٹیکس فری زون میں ٹیکس عائد کرنے کا مجاز ہے اور قانون میں اس کی گنجائش ہے یا پھر اس کے لئے قانون سازی کی ضرورت پڑے گی۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے حوالے سے ایک تاثر یہ ہے کہ پرتعیش اور قیمت میں سستی گاڑیاں رکھنا ملاکنڈ ڈویژن میں ایک سہولت بلکہ عیاشی ہے جو دوسرے علاقوں کے عوام کو میسر نہیں۔ بلا شبہ بعض عناصر اس سہولت کا تعیشانہ فائدہ اٹھا رہے ہوں گے مگر ملاکنڈ ڈویژن کے پسماندہ' صنعتوں اور کاروبار کے مواقع سے محروم علاقوں میں بیشتر افراد کا روز گار اور کاروبار کسی نہ کسی طریقے سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سے وابستہ ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ یہ گاڑیاں چلا کر روزی روٹی کماتے ہیں اور لوگوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر آتی ہے۔ حکومت کو تمام عوامل کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔

اداریہ