Daily Mashriq


بلندی دیر تک

بلندی دیر تک

یہ بھی خوب ہے کہ جو اپنے خلا ف ثبوت ما نگ رہے ہیں وہ حافظ سعید کو بنا ء کسی ثبوت کے نظر بند اور ایک فلاحی تنظیم کے فنڈ کومنجمند کر رہے ہیں۔ حافظ سعید کی نظر بندی کی جو خبر جاری کی گئی اس میں بتایا گیا کہ پنجا ب حکومت نے ان کے اور ان کے دیگر پانچ ساتھیوں کی نظربندی کے احکا مات جا ری کئے ہیں ۔ گویا یہ فیصلہ پاکستان کے صوبہ پنجا ب کا ہے ، مگر اگلے روز وفاقی وزیر چودھری نثار نے پریس کانفرنس میں جو جو از دیا ایک تو وہ اپنی جگہ بودا تھا اور یہ بھی ظاہر ہو ا کہ اس کھیل میں پنجاب حکو مت تنہا نہیں ہے۔ حافظ سعید کی نظر بندی سے متعلق جو کچھ ذرائع ابلا غ میں آرہا ہے اس میں یہ بھی کہا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ بھی اس معاملے میںایک صفحہ پر ہے ، جبکہ فوج کے ترجما ن نے اپنے بیان میں بتایا کہ نظربندی کا فیصلہ ریا ستی مفا د میںکیا گیا ہے ۔ گویا ہر طرف کا نقطہ نظر یہ اکتشاف کررہا ہے کہ ملک کے مفاد میں قدم اٹھا یا گیا ہے۔ اس میں ملک کا کیا مفاد ہے اس بارے میں کسی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیںلائی گئی ۔ امریکی حکا م نے جو الزام لگا یا ہے کہ جماعت الدعوة منی ٹریل کے ذریعے پیسہ دہشت گردی کے لیے استعما ل کر رہی ہے یہ رپو ر ٹ خفیہ ایجنسیوں کی فراہم کردہ ہے ، کیا خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ بلا تفتیش وتحقیق عمل درآمد کیا جا سکتا ہے ۔ انہی خفیہ ایجنسیو ں نے اطلا ع دی تھی کہ عراق ایٹمی ہتھیا ر بنا رہا ہے ، یہ رپو رٹیں اب تک امریکا کے گلے پڑی ہوئی ہیں۔ یہا ں یہ سوال پید ا ہو تا ہے کہ اگر امریکا یہ کہہ دے کہ ہر پا کستانی سے خطرہ ہے تو کیا پورے ملک کو نظر بند کر دیا جا ئے گا ۔ جماعت الدعوة کے بارے میں وفاقی حکومت کئی بار کہہ چکی ہے کہ وہ دہشت گردی میں ملو ث نہیں اور نہ ہی حافظ سعیداور ان کی تنظیم نے پاکستان میںکوئی دہشت گردی کی ہے اورنہ ہی کوئی جر م کیا ہے ۔ پاکستان کے عوام جا نتے ہیں کہ پا کستان ایک خودمختار ریاست ہے اوراس نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیا ں دی ہیں جس کی دنیا میںکوئی ملک مثال نہیں پیش کر سکتا ۔ جب پا کستان ایٹمی قوت بنا تھا اس وقت بھی پا کستان کے عوام کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ اب اس کی خود مختاری پر حرف نہیں آسکتا ، اس کا دفاع مضبوط ہو گیا ہے۔ مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ حکمر انو ں نے جو ہر ی قوت کے حامل پاکستان کو دباؤ کا شکار کردیا ہے ۔ جو منی ٹریل کی بات ہو رہی ہے تو پاکستان کو بھی چاہیے تھا کہ وہ کلبھو شن کی منی ٹریل کی بات کر تا کیا وہ بلو چستان میں منی لانڈرنگ میں ملو ث نہیں ہے۔ پاکستا ن میں دہشت گردی کے لیے اس کے پا س سرمایہ کہاں سے آرہا تھا ۔ اس کو پیش کیا جا ئے تو وہ سب اگل دے گا کہ کس کس کو سرما یہ فراہم کیا اور اس کو کس ذریعے سے حاصل ہوا اور پاکستان میں وہ کن مقاصد کے لیے خرچ کررہا تھا جو اس کے معاونین تھے ان سے بھی سچ اگلوایا جا سکتا ہے ۔ جہاں تک امریکا کی دھمکی کی بات ہے تو وہ یہ کھلی ہے کہ نو از حکومت کو کہا گیا تھا کہ اگر حافظ سعید کے خلا ف اقدام نہ کیا گیا تو پاکستانی حکام اور ان کی آل اولا د کے ویز ے منسو خ کر دیئے جا ئیں گے ۔ حکمر ان طبقہ کے لیے یہ بہت گہر ی اورہولنا ک کھا ئی ہے کیوں پا کستان کے حکام کہ چاہے وہ کسی شعبے سے تعلق رکھتے ہو ں ان کے بچو ں کی اکثریت یو رپ اور امر یکا میں پڑھتی ہے اورتعلیم سے فارغ ہو کروہیںکے ہو رہتی ہے جہا ں وہ نو کر ی یا کا روبار کر تے ہیں ۔بھارتی صوبے بہا ر کے لا لو پرشاد کا فارمو لہ تھا کہ بچھڑے کو پکڑ لو اس کی گا ؤ ماتا خودکھچی چلی آئے گی چنا نچہ بچوں کے ویزوں کی تڑی کا م اسی طر ح کر گئی جس طر ح پرویز مشرف جیسا دلا ور ایک ٹیلی فون کا ل پر لیٹ گیا تھاپا کستان میں قانون ہے کہ غیر ملکی شہریت رکھنے والا پاکستانی پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا ، پاکستان کے کئی پار لیمنٹیرین کو اپنی رکنیت بحال رکھنے کے لیے غیر ملکی شہریت تر ک کر نا پڑی تھی۔ ان میں رحمان ملک اور اعظم ہو تی بھی شامل تھے۔ جبکہ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما کو جب نو از شریف نے پنجا ب کا گورنر مقرر کیا توان کو بھی برطانو ی شہریت تر ک کر نا پڑی تھی۔ اسی طر ح پاکستان کی وزارت خارجہ میں کوئی ملازم دہر ی شہر یت کا حامل نہیںہو سکتا ، لیکن وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور امریکی قومیت کا حامل ہو نے کے با وجود امریکا میں پاکستانی سفارت خانے میںملا زم ہیں ۔عمر ان خان نے درست کہا تھا کہ امریکا پاکستانیوںکے ویزوں پر پابندی لگا دے تاکہ پا کستان کو ترقی دی جا سکے ، پاکستانیوں کی کر یم امریکا اوریو رپ کے مما لک میںکا م کرتے ہیںاور ان کی ترقی میں اہم کر دار ادا کرتے ہیں پا کستان کو اپنے ان شہر یو ں سے کوئی فائد ہ حاصل نہیںہو تا ۔ امریکا کو یہ اختیا ر نہیںہے کہ وہ کسی ملک کے خلا ف پابند ی عائد کرے یہ کا م اقوام متحدہ کا ہے۔ حافظ سعید اور ان کے ساتھیو ں کی نظر بندی کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار داد پر عمل کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرا ر داد پر کئی سالو ں کے بعد عمل درآمد کی کیا ضرورت آپڑی ۔ حافظ سعید اور ان کے ساتھیو ں کی نظر بندی اور ان کی تنظیمو ں پر پا بندی سے پاکستان کے غریب بری طرح متا ثرہو ں گے ، جما عت الدعوة کے ساٹھ ہزار رضاکا ر امدادی سرگرمیوں میںمصروف ہیں۔پا بندی سے یہ فلا حی کا م متاثر ہو جائیں گے ۔

جب مو دی برسر اقتدار آئے تھے تو انہو ں نے سندھ کے ہندوئوںکو دعوت دی تھی کہ وہ بھارت چلے آئیں ان کی خدمت کی جا ئے گی ۔مگر فلا ح خدمت فائونڈیشن نے تھر پارکر اور سندھ کے دوسرے ایسے دیہا ت میں جہاںہندو برادری کی بہتا ت ہے خدما ت انجا م دیں کہ انہو ں نے بھا رت سر کا ر کوانگھو نگو ٹھا دکھایاکہ وہ اپنے وطن پا کستان کو چھو ڑ کرنہیںجا سکتے ۔پا کستانی حکمر انوں کا فرض تھا کہ وہ امر یکا کو بتا تے کہ حافظ سعید کی کارکردگی کیا ہے ، پھر پاکستان کی عدالتوں میںان پر یا ان کی تنظیم پر کوئی الزام یا جر م ثابت نہیںہو سکا ہے ۔ اگرکسی کا دعویٰ ہے تو ثبوت دے ۔بھارت کے ممتا ز شاعرمنو ر نے خوب کہا ہے کہ

بلندی دیر تک کس شخص کے حصہ میں رہتی ہے

بہت اونچی عمارت ہر گھڑی خطرے میں رہتی

متعلقہ خبریں