ٹرمپ کی پالیسیاں اور ایران و پاکستان

ٹرمپ کی پالیسیاں اور ایران و پاکستان

سات مسلمان ملکوں کے باشندوںپر ٹرمپ نے امریکہ آمد پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ اس طرح ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران چار پانچ اہم نکات اور وعدوں میں سے جو ظاہراًآسان کام تھا اور فوری طور پر ہونا ممکن تھا ، پورا کر کے دکھایا ۔ لیکن جونہی اس آرڈر کے اثرات امریکی ائیر پورٹس پر سینکڑوں افراد کی رکاوٹ کی صورت میں سامنے آئے تو امریکی عوام نے ائیر پورٹس کے سامنے اور سڑکوں پر مظاہرے کئے۔ امریکہ کے اندر ٹرمپ کی بطور صدر کامیابی پر پہلے ہی بہت بڑی اکثریت مخالفت میں مظاہرے کر چکی ہے اور پچھلے دنوں یورپ اور امریکہ کے اندر لاکھوں خواتین نے مظاہرے کئے۔ یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹرمپ اور اُس کی پالیسیاں سخت عدم مقبولیت کا شکار ہیں ۔ ان سات مسلمان ملکوں کے باشندوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے پاس امریکی ویزہ یا گرین کارڈ ہے ۔ اگرچہ امریکی عدالتوں نے اس حکم کے خلاف فیصلہ دیا ہے اور امریکی ویزہ اور گرین کارڈ ہولڈرز کو اس صدارتی حکم سے مستشنیٰ قرار دیا ہے ، لیکن ٹرمپ نے ابتدائی طور پر نوے 90دن کے لئے جو پابندی لگائی ہے وہ فی الحال موثر ہے اور امریکہ میں رہائش پذیر مسلمانو ں اور دیگر ملکوں کے باشندوں میں بے چینی پیدا کرنے کا سبب بنی ہوئی ہے ۔ امریکہ اور یورپی ممالک میں عوام اور اُن کے قانون دستور کا کمال یہ ہے کہ بہر حال وہاں کچھ لوگ مذہبی ، نسلی اور جغرافیائی تعصبات ، تنگ نظریوں کے سخت خلاف ہوتے ہیں ، اور ایسے مواقع پر عموماً حق کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں ۔مسلمانوں کے خلاف موجودہ پابندیوں پر امریکہ کے اندر امریکی ویلکم ، السلام علیکم ، کے بینر اُٹھا کر شامی مہاجرین اور امریکی ویزہ کے حامل مسلمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ یہ یقینا امریکہ اور مغرب کا وہ پہلواورہے جو ان کے جمہوریت پسند اور مہذب ہونے کا اظہار ہے۔ لیکن اس وقت جو مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ ٹرمپ کی جو پالیسیاں ہیں وہ بہر حال کسی نہ کسی صورت میں نافذ ہونے والی ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ممالک مل کر او آئی سی کے فورم پر ایسی متحدہ پالیسیاں بنائیںجن کے ذریعے امریکہ کے پالیسی میکرز دبائو محسوس کریں۔ان سات مسلمان ملکوں میں سے ایران کی طرف سے ترکی بہ ترکی جواب آیا ہے کہ اگر ایرانی باشندوں پر امریکہ آمد پر پابندی لگی تو اران بھی امریکی باشندوں پر ایران آنے پر پابندی لگائے گا۔ اس میں شک نہیں کہ ایران انقلاب کے بعد ایک انقلابی ملک ہے اور اسی بناء پر غیرت و خود داری کی حفاظت کے لئے بڑی قربانیاں دے چکا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انقلاب ایران کے بعد امریکہ اور یورپ نے مل کر ایران کے انقلاب کو اقتصادی پابندیوں کے ذریعے محصور بنا کر رکھ دیا ہے۔اگرچہ ایران پٹرول کی مصنوعات اور ایک خود دار قوم ہونے کے سبب اپنی بقا کے لئے دن رات کوشاں رہا اور کسی حد تک کامیاب بھی رہا لیکن عوام میں انقلاب کے لئے گرم جوشی میں بہت کمی واقع ہوئی اور اس کا نتیجہ انتخابات میں احمدی نژاد کی ناکامی اور امریکہ سے تعلیم یافتہ حسن روحانی کے بطور صدر انتخاب کی صورت میں سامنے آیا۔ ایران نے اپنی نئی نسل کو امریکہ اور یورپ کی طرف سے پابندیوں کی مشکلات سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے ایٹمی پروگرام کو ترک کرکے امریکہ کے ساتھ معادہ کیا جس سے ایران کو اقتصادی میدان میں کشادگی کی راہیں نظر آنے لگی تھیں۔ لیکن اب شاید ایک دفعہ پھر ایران کا امتحان ہونے جا رہا ہے۔ لیکن مجھے غم اپنے پاکستان کا ہے۔ پاکستان جسد واحد کی طرح ایک قوم نہیں ہے بلکہ یہاں تو بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے اکثریت میں ہیں۔ پاکستان کا شروع سے اب تک امریکہ پربڑا انحصار رہا ہے اور اس وقت لاکھوں پاکستانی امریکہ میں معاش و روز گار میں لگے ہوئے ہمارے لئے زر مبادلہ کما رہے ہیں۔ لہٰذا ٹرمپ کی پالیسیوں پر جذباتی رد عمل کے بجائے سوچ سمجھ کر اور امت مسلمہ کے اہم اور بڑے ممالک سے مل کر کوئی متفقہ و متحدہ موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ دل تو ہر غیور و ایماندار پاکستانی کا یہی چاہتا ہوگا کہ جو ملک ہمارے لوگوں کو اپنی سر زمین پر اترنے نہیں دیتا ہم کیوں اس کو سر آنکھوں پر بٹھائیں۔ لیکن ہمیں سوچنا ہوگا کہ امریکی اگر پاکستان نہ بھی آئیں تو ان کا کوئی کام رکتا نہیں ۔ لیکن ہماری امریکہ جانے کی راہیں بند ہوگئیں تو ہمارے معاملات دگر گوں ہوسکتے ہیں کہ آخر ہم نے اپنے ملک کو ستر برسوں میں اس حال تک پہنچایا ہے کہ خودی اور خود داری کا نام و نشان تک نظر نہیں آتا۔ بھلا جس ملک کی رگ رگ میں کرپشن نے سرایت کی ہو اور اس کا اقتصادی نظام اور درآمدات و برآمدات آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کا محتاج ہو وہ سر اٹھا کر بات کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ہیں۔ عمران خان کی دعا اور خواہش کی قدر و قیمت سے انکار ممکن نہیں لیکن یہ تب ممکن ہوتا اگر پاکستان کومائوزے تنگ' ڈنگ سبائوینگ جیسے لیڈر ملتے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو قیام پاکستان کے بعد دس بارہ برس ملتے تو آج یقینا پاکستان ویسا ہی ہوتا جیسا عمران خان کی خواہش و دعاہے۔ لیکن فی الحال امریکہ کی طرف سے ٹرمپ کی کامیابی کاجو طوفان مسلمان ملکوں کی طرف اٹھا ہے اس کے مقابل کھڑے ہو کر مصیبتیں مول لینے کے بجائے Lie Low( ذرا لیٹ کر) امریکہ اور یورپ کے ان رہنمائوں اور عوام کے ہاتھ مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں جو ٹرمپ کی پالیسیوں کے مخالف اور نا قد ہیں۔ شاید اس طرح کچھ اپنی بچت ہو جائے۔

اداریہ