Daily Mashriq


لاکھوں پاکستانیوں کو مردم شماری سے باہر رکھنے کا منصوبہ

لاکھوں پاکستانیوں کو مردم شماری سے باہر رکھنے کا منصوبہ

سپریم کورٹ کے اصرار پر آخر کار چھٹی مردم شماری کی سکیم کا اعلان شماریات بیورو کے سربراہ نے کر دیا ہے۔ آئین کی رو سے حکومت ہر دس سال بعد ملک میںمردم شماری کروانے کی پابند ہے۔ پہلی مردم شماری 1951ء میں ہوئی تھی ۔اس طرح چھٹی مردم شماری 2001اور ساتویں مردم شماری 2011ء میںہونی چاہیے تھی لیکن مختلف وجوہ کی بنا پر مردم شماری جو مختلف صوبوںکے درمیان وسائل کی تقسیم ' انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں اور محاصل کی وصولی کے حوالے سے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے ملتوی کی جاتی رہی۔ گزشتہ ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ سے التواء کا جواز یہ پیش کیاجاتا رہا ہے مردم شماری کے لیے فوج کی مدد ہو گی تو مردم شماری ہو سکے گی۔ مختلف سیاسی رہنماؤں اور صائب الرائے شہریوں کی طرف سے مردم شماری کے حوالے جن تحفظات کا اظہار کیا جاتارہا ان پر توجہ نہیں دی گئی تاکہ انہیں دور کیا جا سکتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ مردم شماری کی سکیم پرمختلف اہم سوالات کھڑے ہو گئے جن پر پارلیمنٹ کی فوری توجہ کی ضرورت محسوس کی جانی چاہیے۔ مثال کے طور پر مردم شماری کی سکیم کے مطابق چھ ماہ سے زیادہ عرصہ سے بیرون ملک مقیم رہنے والے پاکستانیوں کو شمار نہیں کیا جائے گا۔ جس کی وجہ سے ایک کروڑ کے لگ بھگ بالغ پاکستانی پاکستان کی آبادی کا حصہ شمار نہیں ہو سکیں گے۔ ان میں زیادہ تر تعداد بلوچستان' خیبر پختونخوا اور آزادکشمیر کے لوگوں کی ہو گی جہاں کے تقریباً ستر لاکھ لوگ مشرق وسطیٰ کے ممالک میںملازمتیںکرتے ہیں اور کئی کئی سال کے ویزے پر وہاں جاتے ہیں۔ اگر یورپ' امریکہ اور دیگر ممالک میںمقیم پاکستانیوںکی تعدادتقریباً تیس لاکھ شمار کر لی جائے تو کل ایسے پاکستانیوںکی تعداد جو 2017ء کی مردم شماری میں پاکستان کی آبادی میں شمار نہیںہوں گے ایک کروڑ کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ یہ لوگ جب مردم شماری میں جب آبادی کا حصہ شمار نہیںہوں گے تو ان کے ووٹ بھی نہیں بنیں گے اور یہ انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔ سترلاکھ کے قریب جوپاکستانی مشرق وسطیٰ میںملازمتیں کرتے ہیں وہاں انہیں شہریت نہیں دی جاتی۔ وہ اقامہ پر وہاں رہتے ہیں اور وہاں کی آبادی میں ان کا شمار نہیں ہوتا۔ اس طرح مردم شماری کی سکیم کے تحت یہ ستر لاکھ بالغ پاکستانی نہ ان ممالک کے شہری شمارہوں گے جہاں یہ ملازمتیں کرتے ہیں اور نہ پاکستان کی آبادی میں ان کا شمار ہو گا جوان کا وطن ہے ۔صوبوں میں وسائل کی تقسیم 'عام انتخابات میں رائے دہی ، محاصل کی وصولی اور دیگر سماجی سہولتوں کا انحصار مردم شماری کے اعداد و شمار پر ہوتا ہے۔ اس طرح چھ ماہ سے زیادہ اپنے علاقوں سے باہر رہنے والوں کے علاقے ظاہر ہے متاثر ہوں گے۔ اپنے صوبے کے باہر دوسرے صوبے میں چھ ماہ سے زیادہ مقیم رہنے والوں پر بھی اسی اصول کے اطلاق کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس طرح مثال کے طور پر کراچی' اسلام آباد اور پنجاب میں ملازمتیں کرنے والے اور خودروزگار لاکھوں پشتون اور بلوچ اپنے صوبے کی آبادی میں شمار نہیں ہو سکیں گے تاآنکہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر 15مارچ سے پہلے اپنے علاقوںمیں واپس نہ چلے جائیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اس سکیم کے اجراء سے بہت پہلے افغان مہاجرین کی ان صوبوں میں موجودگی کے حوالے سے تحفظات کااظہارکیاجارہا ہے۔ بلوچستان کی آبادی بلوچوں اورپشتو بولنے والوں کامرکب ہے جن میں ہزارہ اور دیگر کمیونٹیاں بھی شامل ہیں۔ پشتو بولنے والے بالعموم افغانستان سے ملحقہ پشتون بیلٹ میں پائے جاتے ہیں۔ پاکستان افغانستان کی سرحد کیونکہ تاحال موثر سرحدی انتظام سے محروم ہے اس لیے افغانستان کے باشندوں کا پاکستان میں آناجانارہتا ہے۔ تاہم بلوچ رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ پہلے صوبے میں مقیم پانچ لاکھ افغان مہاجرین کواپنے وطن واپس بھیجا جائے اس کے بعد مردم شماری کی جائے کیونکہ افغان مہاجرین کی موجودگی میں یہ امکان ہے کہ انہیں پشتون بیلٹ میں شمار کیا جائے گااوریوں صوبے کی آبادی کی بُنت تبدیل ہو جائے گی اور خدشہ ہے کہ بلو چ اپنے ہی صوبے میں اقلیت ہوکررہ جائیں گے۔ یہ اہم اعتراض ہے جس پرخاطر خواہ غورنہیں کیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ صوبے میں پانچ لاکھ افغان مہاجرین کی تعداد تو معلوم ہے لیکن اس کے علاوہ بھی افغان باشندے پاکستان میں موجود ہیں۔ ان میں سے بیشتر ایسے ہیںجنہیں افغانستان میں حامد کرزئی کے دور میں افغانستان کی آبادی میں شمار نہیں کیا گیا تھا۔ اسی بنا پر یہ لوگ پاکستانی شہری ہونے پر اصرار کر سکتے ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد آباد ہے ۔ اقوام متحدہ کے مہاجرین کمیشن کے اعداد و شمار میں رجسٹرڈ افغانوں کی تعداد 16لاکھ ہے لیکن ان کے علاوہ پندرہ لاکھ غیررجسٹرڈ شدہ افغان مہاجرین خیبر پختونخوا میں رہتے ہیں۔ انکے مردم شماری میںشمار ہونے سے صوبے کے مختلف علاقوں کی آبادی کا تناسب بدل جائے گا جو انتخابات میں رائے شماری ، وسائل کی تقسیم پر اثرانداز ہوگا۔ اس لیے ان دونوں صوبوں کی مختلف سیاسی جماعتوں کامطالبہ ہے کہ مردم شماری سے پہلے افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جائے یا انہیں صوبوں کی آبادی سے الگ کیاجائے۔ شماریات بیورو کے سربراہ نے کہا ہے کہ اس کے لیے نادرا کے ڈیٹا بیس پرانحصار کیا جائے گا جس نے افغان مہاجرین کے ایک لاکھ پاکستانی شناختی کارڈ مسترد کیے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس ایک لاکھ کی تعداد کے سوا پاکستان میںمزید غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود نہیں ہیں۔ اور پھر افغان مہاجرین کے بارے میں تو نادرا کے ڈیٹا بیس کا ذکر کیا جارہا ہے لیکن بیرون ملک ملازمتیںکرنے والوں کے حوالے سے اس پر انحصارنہیں کیا جارہا جن کا شمار نہایت آسان ہے کیونکہ وہ پاسپورٹ اور سفری دستاویزات پر ملک سے باہر جاتے ہیں اور ان کا شمار آسانی سے کیا جا سکتاہے۔

متعلقہ خبریں