Daily Mashriq


بینکنگ نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت

بینکنگ نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت

ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے حکمران ہمیشہ ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جس میں غریب عوام کے مفادات کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا اور ان کو مزیدٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا یا جاتا ہے۔موجودہ حکومت نے کچھ عرصہ پہلے ایک ٹیکس عائد کیاہے جو عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔جو لوگ بینکوں میں رقوم جمع کرائیں یا پیسے نکالیں گے یا چیک کے ذریعے ایک بینک سے رقوم دوسرے بینکوں میں ٹرانسفر کریں گے تو ان تمام صورتوں صارف 0.6ٹیکس ادا کرے گا۔یا اگر ایک بینک اپنی کسی دوسری برانچ کو پیسے ٹرانسفر کرے گا تو اس صورت میں صارف کو 0.4 فی صد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔مثال کے طور اگر صارف بینک سے ایک لاکھ روپے نکالے گا تو اس صورت میں اس کو 600 روپے ٹیکس ادا کرنا پڑے گا اگر وہ ان پیسوں کو بار بار اپنے اکائونٹس سے نکالے گا اور جمع کرتا رہے گا تو بار بار ٹیکس دینا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ عام صا رفین نے بینکوں سے اپنی رقوم نکالنا شروع کردی ہیں اور وہ اپنے پیسے کسی صورت بینکوں میں نہیں رکھتے۔ اسی وجہ سے بینکوں کا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بینکوں کے ذریعے سالانہ 7ٹریلین یعنی7 ہزار ارب روپے کا کاروبار ہوتا ہے اور اس قسم کے کا روبار اور 0.6 فی صد ٹیکس سے 40ارب روپے فائدہ ہوتا ہے۔ مگر اسکا منفی اثر یہ ہوا کہ اب عام صارف بینک میں پیسے نہیں رکھتا ۔ حالانکہ انہی پیسوں پر صارفین مختلف شکلوں میں پہلے سے ٹیکس ادا کرتے رہتے ہیں۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ بینکوں کے 0.6فی صد ٹیکس کی وجہ سے سمندر پار پاکستانی اپنی رقوم بینکوں کے بجائے ہنڈی کے ذریعے بھیجتے ہیں۔ سیکورٹی ایکسچینج کے سربراہ کے مطابق سمندر پار پاکستانی تقریباً 17ارب ڈالر ہنڈی کے ذریعے پاکستان بھیجتے ہیں۔ جس سے ملک کی معیشت کو نُقصان پہنچتا ہے۔اگر حکومت اور بینکوں نے 0.6فی صد ٹیکس ختم کیا اور سمندر پار پاکستانیوں کو آسانیاں دی گئیں تو وہ بینکوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ رقوم پاکستان بھیجیں گے جس سے پاکستان کی معیشت کو زیادہ فائدہ ہوگا۔یہاں یہ بات اہم ہے کہ اب عام لوگ بینکوں میں پیسے نہیں رکھتے اور کاروبار کے لئے بڑی بڑی رقوم ایک شہر سے دوسرے شہر میں تجارت اور کاروبار کے لئے ذاتی طور پر لے جاتے ہیں جسکی وجہ سے ڈاکہ زنی اور راہ زنی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ۔ گزشتہ دنوںایک رپورٹ کے مطابق جب کا روباری حضرات ایک جگہ سے دوسری جگہ پیسے منتقل کر رہے تھے تو راستے میں ڈاکوئوں نے لوٹ لیا اور وہ ایک بُہت بڑی رقم سے محروم ہوگئے۔یہاں یہ بات اہم ہے کہ اس وقت مختلف ممالک میں94 لاکھ سمندر پار پاکستانی ہیں جس میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے 45 لاکھ اور پنجاب سے 22 لاکھ پاکستانی ہیں۔ اگر بینکوں نے ٹیکس ختم کر دیا تو یہ لوگ بینکوں کے ذریعے رقوم بھیجیں گے جس سے وطن عزیز کو بے تحا شا فائدہ ہوگا۔

آج کل بینکوں کے ملازمین ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ لہٰذاء وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کو چاہئے کہ وہ ٹیکس پالیسی پر نظر ثانی کریں اور یہ ٹیکس جلدی سے جلدی ختم کریں۔ ہم تھو ڑے سے فائدے کی خاطر بڑا نُقصان کر رہے ہیں۔اگر دیکھیں توعالمی سطح پر ہنڈی کا کاروبار ممنوع ہے۔ کیونکہ اس کاروبار کے بارے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ یہ عالمی دہشت گر دی میں بروئے کار لایا جاتا ہے۔اور ہنڈی کے ذریعے رقوم کی ترسیل ایک بین الاقوامی جُرم سمجھا جاتا ہے۔بین الاقوامی ادارہ برائے روک تھام جر ائم اور منشیات کے کا روبار، منشیات، انسانوں کی سمگلنگ،غیر قانونی طور پر لکڑیوں کی سمگلنگ،اغواء برائے تاوان کو بین الاقوامی جرائم گردانا ہے۔لہٰذا حکو مت پاکستان کو اس بین ا لاقوامی جُرم میں شریک نہیں ہونا چاہئے ۔ ہنڈی کے ذریعے لوگ اسلئے رقوم بھیجتے ہیں کیونکہ اس کا طریقہ کار بینکوں کی نسبت آسان ہے۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ0.6فی صد ٹیکس ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بینکنگ کے نظام کو مزید آسان ، سہل اور متحرک بنائے تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین اور سمندر پار پاکستانی بینکوں کے ذریعے رقوم جمع کریں اور بیرون ممالک سے بینکوں کے ذریعے بھیجیں۔جہاں تک ہنڈی کاروبار سے وابستہ افرادکا تعلق ہے تو ان لوگوں کو متبادل روزگار دیا جائے تاکہ وہ بے روزگار نہ ہوں۔ انکو حکومت کی طرف سے قرضہ حسنہ دیا جائے تاکہ یہ لوگ ہنڈ ی کے متبادل کوئی دوسرا کاروبار شروع کر سکیں۔ کیونکہ یہ ہنڈی کا روبار بھی ایک غیر قانونی صنعت ہے اوراس غیر قانونی صنعت کے ساتھ بھی بڑے لوگوں کا رزق اور کا روبار وابستہ ہے۔

متعلقہ خبریں