آزادی اور دہشت گردی میں فرق

آزادی اور دہشت گردی میں فرق

نائن الیون کو امریکہ کے جڑواں مینار گر پڑے تو ان کا ملبہ بظاہر تو دائیں بائیں اسی مقام پر گرا جسے اب گرائونڈ زیرو کہا جاتا ہے اور جہاںامریکی ہر سال جمع ہو کر نائن الیون کی روح فرسا یادوں کو تازہ کرتے ہیں مگر ان میناروں کے مضر اور منفی اثرات کا ملبہ اور معنوی کرچیاں ،کنکر اور روڑے دنیا کے کونے کونے میں بکھر کر رہ گئے ۔امریکہ سے باہر انسانوں کی جس پٹی پر یہ ملبہ گرا وہ مسلمان دنیا تھی ۔پندرہ سال گزرنے کے باوجود یہ دنیا اس ملبے تلے دبی ہوئی کراہ رہی ہے ۔اس عرصے میں مسلمان دنیا ہنسنا بھول گئی اور رونے کا موسم اس پر سایہ فگن ہو کر رہ گیا ۔ روتی ہوئی یہ دنیا اوروں کی خبر کیا رکھتی اسے اپنی خبر تک نہ رہی ۔اس کا حسن بھی قبیح صورت بنا کر رکھ دیا گیا ۔اس کے مقبول کرداروں کو ولن بنا کر رکھ دیا گیا ۔جوچیز مغرب کے لئے جائز تھی مسلم دنیا کے لئے ممنوع قرار پائی ۔مسلم دنیا اس شعر کی عملی تصویر بن کر رہ گئی 

تمہاری زُلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامہ ٔ سیاہ میں ہے
اسلام آباد میں رابطہ عالم اسلامی کے تعاون سے منعقد ہونے والی معتدل مکالمہ اور پیام امن کانفرنس کے اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ دنیا کو دہشت گردی اور آزادی کی تحریکوں میں فرق کرنا ہوگا ۔دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔اسے اسلام سے جوڑنے والے درحقیقت اسلام کا پھیلائو روکنا چاہتے ہیں۔اس کانفرنس سے بہت سے حکومتی اور سیاسی زعماء ،سکالرز سمیت رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے بھی خطاب کیا ۔رابطہ عالم اسلامی بھی نائن الیون کے بعد اُڑنے والی گرد میں گم ہوجانے والی عالم اسلام کی ایک معروف غیر حکومتی تنظیم ہے اور ایک دور میں یہ تنظیم مسلمانوں کو درپیش مسائل کے بارے میں بہت جرات مندانہ اور دوٹوک موقف رکھتی تھی ۔نائن الیون کے بعد مسلم دشمنی کی جو لہر چلی اس نے بہت سے اداروں کو غیر فعال اور بہت سی شخصیات کو دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا ۔اسی عہدِ آشوب میں رابطہ عالم اسلامی بھی غیر فعال ہوتی چلی گئی ۔اب بہت مدت کے بعد رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل اسلام آباد میں دیکھے گئے ہیں اوران کی یہاں موجودگی اور اسلام آباد کانفرنس میں شرکت نے اس ادارے کی دوبارہ فعالیت کا اشارہ دیا ہے ۔ رابطہ عالم اسلامی کے اعلامیے میں آزادی اور دہشت گردی کی تحریکوں کے درمیان فرق روا رکھنے کی بات کرکے آج کی مسلم دنیا کے دلوں کی ترجمانی کی ہے ۔آزادی اور دہشت گردی میں ہمیشہ سے فرق رہا ہے ۔آزادی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے اور آزادی پسند اپنے اس حق کے لئے آخری حد تک جاتا ہے ۔حتیٰ کہ اپنی جان قربان کرنے سے گریز نہیں کرتا ۔دہشت گرد کا مقصد انسانوں کو زک پہنچاکر اپنے پوشیدہ مقاصد کی تکمیل ہوتا ہے ۔دہشت گرد کسی دوسری طاقت کی پراکسی ہوتے ہیں جبکہ آزادی پسند اپنے ضمیر اور ایمان اور عقیدے کا ایجنٹ اور ترجمان ہوتا ہے ۔دہشت گرداپنی سرگرمیوں کے لئے ردعمل کو بنیاد بنا تا ہے جبکہ آزادی پسند اپنی جدوجہد کو قانونی بنیادوں پر استوار کرتا ہے ۔دہشت گرد ی کی صرف ایک صورت ہوتی ہے اور وہ بھی زیر زمین رہ کر اپنا وجود منواتی ہے جبکہ آزادی کی جدوجہد کی کئی جہتیں ،کئی چہرے مہرے ہوتے ہیں ۔جیسا کہ سیاسی سفارتی اور عسکری وغیرہ وغیرہ ۔ نائن الیون کے بعدجو دنیا تشکیل ہوئی امریکہ اس کا ٹھیکیدار اور چوہدری تھا اور امریکہ کے دو سٹریٹجک پارٹنر شہ بالے اسرائیل اور بھارت کی صورت میں سامنے آئے ۔ ان میں اسرائیل تو ہمیشہ سے امریکہ کا پسندیدہ اور محبوب ِنظر رہا ہے مگربھارت اس محبت کا نیا شراکت دار تھا ۔یہ دو ملک تھے جنہیں عشروں سے مسلمان اکثریتی آزادی کی تحریکوں کا سامنا تھا ۔اسرائیل کے مقابلے میں فلسطینی عوام اپنی زمین اور آزادی کی لڑائی لڑ رہے تھے تو بھارت کے مقابلے میں کھڑے ہوکر کشمیری عوام آزادی اور رائے شمار ی کا مطالبہ کر رہے تھے ۔اپنے ان دونوں شہ بالوں کو اس عذاب سے نجات دلانے کے لئے امریکہ نے آزادی اور دہشت گردی کی اصطلاحات کو گڈ مڈ کر دیا ۔ہر مسلح جدوجہد کو دہشت گردی کہہ کر مطعون کیا جانے لگا ۔دہشت گردی کے نام پر اتنی گرد اُڑائی گئی کہ عام آدمی کے لئے دونوں میں فرق کرنا مشکل ہوگیا۔اب اسلام آباد کانفرنس نے اسی جانب اشارہ کیا ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ ان دونوں اصطلاحات میں فرق روا نہ رکھ کر امریکہ اور اس کے ہمنوائوں نے دنیا کا عدم استحکام بڑھانے کے سوا کچھ اور نہیں کیا ۔اب بھی اگر ہوش کے ناخن لئے جائیں دونوں اصطلاحات کو اصل تناظر اور سیاق وسباق کے مطابق دیکھا ،استعمال اور برتا جائے تو دنیا میں جاری فتنہ وفساد کم کیا جا سکتا ہے ۔ سردست امریکہ کی حد تک اعتدال اور معقولیت کی راہ پر آنے کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنے پہلے خطاب میں اسلامی شدت پسندی کی اصطلاح کااستعمال ،نریندر مودی کو پہلا ٹیلی فون بتا رہا ہے کہ امریکہ دہشت گردی اور آزادی کی تحریکوں میں حدِ امتیاز قائم کرنے کو تیار نہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اب دو عشروں سے گرم کیک کی طرح فروخت ہونے والا یہ بیانیہ اب دنیا کا اسلوب بنتا دکھائی نہیں دے رہا۔

اداریہ