مشرقیات

مشرقیات

حسن بن ابو جعفر کہتے ہیں کہ بازار سے امیر شہر نے گزرنا تھا۔ سرکاری پروٹوکول پر مامور لوگوں نے شور مچا دیا: چھوڑ دو' راستہ چھوڑ دو' لوگوں نے فوراً راستہ خالی کردیا۔ ایک بوڑھی عورت جو چلنے سے قاصر تھی وہ فوری طور پر نہ ہٹ سکی۔ ان میں سے ایک بد بخت سپاہی آگے بڑھا اور اس عورت کو مارنا شروع کردیا۔
اہل علم میں سے ایک مستجاب الدعوات شخص حبیب ابو محمد یہ منظر دیکھ رہے تھے' ان سے یہ ظلم برداشت نہ ہوسکا۔ وہ کچھ کر تو نہ سکتے تھے مگر انہوں نے اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھا لیا اور کہا:
''اللہ اس جابر اور ظالم سپاہی کے اس ہاتھ کو کاٹ دے۔'' (جس ہاتھ سے اس نے اس بڑھیا کو مارا ہے)اس واقعہ کو صرف تین ہی دن گزرے تھے کہ یہ سپاہی چوری کا مرتکب ہوتا ہے اس کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا جاتا ہے اور اس کا وہی ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے جس سے اس نے اس بے بس بڑھیا پر ظلم کیا تھا۔(بحوالہ مجابو الدعوة' لابن ابی الدنیا)
حضرت ابن زید نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن منکدر نے فرمایا: میرے پاس ایک شخص نے 100دینار امانت رکھوا لئے۔ میں نے اس سے کہا: بھائی! اگر ہمیں ضرورت پڑی تو اسے خرچ کردیں گے اور پھر آپ کو ادا کردیں گے۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے' پھر ہمیں ضرورت پڑی تو ہم نے اسے خرچ کردیا۔ پھر اس کا قاصد میرے پاس آگیا۔ میں نے کہا:
ہمیں اس کی ضرورت پڑ گئی تھی اور اب ہمارے گھر میں کچھ نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ میں دعا کیاکرتا کہ یا رب! میری امانت خراب نہ ہوجائے' میری امانت ادا کروا دیجئے۔ میں یہ دعا کرکے باہر نکلا تو جیسے ہی میں نے قدم رکھا کہ گھر میں داخل ہو جائوں تو ایک شخص نے میرا کندھا تھاما اور مجھے ایک تھیلی پکڑا دی جس میں 100دینار تھے۔ وہ انہوں نے ادا کردئیے۔
لوگوں کو بھی پتہ نہ چلا کہ وہ شخص کون تھا اور نہ یہ معلوم ہوسکا کہ وہ رقم کس نے دی۔ جب عامر اور منکدر کی وفات ہوئی۔ ایک شخص بتلانے لگا کہ مجھے حضرت عامر یعنی حضرت ابن زبیر نے بھیجا تھا اور کہا تھا کہ یہ تھیلی ان کو دے آئو اور اس کا تذکرہ نہ کرنا۔ یہاں تک کہ میں مر جائوں یا ابن منکدر مر جائے۔
اب جبکہ وہ دونوں وفات پاگئے تو میں تم لوگوں کو بتلا رہا ہوں۔(دل کی باتیں)
حضرت میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعز یز کی خدمت میں ایک راہب آیا تو انہوں نے راہب سے فرمایا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم ہر وقت روتے رہتے ہو، ایسا کیوں ؟اس نے کہا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ انہیں دین سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں لگتی اور اب یہ حال ہے کہ انہیں دنیا سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں لگتی ، لہٰذا میںجان گیا ہوں کہ آج کل موت ہر نیک و بد کے لئے بہتر ہے ۔ جب وہ راہب چلاگیا تو حضرت عمربن عبدالعزیز نے فرمایا کہ اے ابو ایوب یہ راہب سچ کہتا ہے ۔
(دل کی باتیں )

اداریہ