Daily Mashriq


امریکہ کا ایک اور خواب ناتمام

امریکہ کا ایک اور خواب ناتمام

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جنوبی ایشیائی پالیسی کے تحت پاکستان اور افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنے کیلئے خطے میں موجود امریکی کمانڈرز کو ضروری وسائل اور اختیارات دے دیئے ہیں۔ خیال رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے گزشتہ سال اگست میں اعلان کی گئی افغان پالیسی کا مقصد طالبان کو شکست دینا اور کابل میں موجودہ انتظامیہ کے نظام کو قبول کرانا تھا۔ نئی افغان پالیسی کے تحت امریکا کی جانب سے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں دہشتگردوں کی مبینہ پناہ گاہوں پر ڈرون حملوں میں اضافہ کیا گیا اور ان حملوں میں حقانی نیٹ ورک کے کئی کمانڈرز کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا تاہم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کبھی یہ بیان سامنے نہیں آیا تھا کہ امریکی کمانڈرز کو پاکستان میں موجود مبینہ محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنے کیلئے اختیارات دیں گے تاہم گزشتہ شب وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس بات کا اشارہ کیا گیا کہ خطے میں موجود امریکی کمانڈرز کو پاکستان میں موجود مبینہ محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنے کیلئے تمام اختیارات ہوں گے۔ دوسری طرف امریکی ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ جوہن جے سلیوان نے ٹرمپ انتظامیہ کی جنوبی ایشیائی پالیسی کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس پالیسی پر عملدرآمد کیلئے واشنگٹن پاکستان کی حمایت حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ کابل میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری لڑائی افغانستان میں موجود طالبان، انتہا پسند عناصر اور دہشتگرد گروپوں سے ہے اور نئی ایشیائی حکمت عملی خطے کی پالیسی ہے، جس کا مقصد افغانستان میں حالات کی بہتری ہے لیکن یہ پالیسی وسیع علاقائی نقطہ نظر رکھتی ہے، جس میں پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک کیساتھ علاقائی تعاون شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کیساتھ مذاکرات کا عمل جاری رکھیں گے اور ہماری اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیائی پالیسی کے تحت پاکستان کے بارے میں توقعات واضح ہیں۔ امریکی ڈپٹی سیکریٹری اسٹیٹ کا کہنا تھا کہ ہم افغان حکومت کے پاکستان کیساتھ دوطرفہ مذاکرات جاری رکھنے کے عمل کی تائید کرتے ہیں اور پاکستان کا مسئلے کے حل کا حصہ بننا ضروری ہے اور یہی ہماری جنوبی ایشیائی پالیسی کا مرکز ہے۔ ٹرمپ کی جنوبی ایشیائی پالیسی ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب افغانستان کے ستر فیصد حصے پر طالبان کی بالادستی اور قبضے کی باقاعدہ رپورٹ سامنے آئی ہے اور اس سے کسی کو انکار نہیں، صرف افغان حکومت نے اس رپورٹ کا برا منایا ہے۔ جہاں عملی طور پر اس طرح کی صورتحال ہو اور امریکہ کو ایک عشرہ اتحادی افواج کیساتھ افغانستان میں گزارنے، طاقت کے پورے استعمال اور قالینی بمباری کے باوجود مقاصد کے حصول میں ذرا بھی کامیابی حاصل نہ ہوئی ہو ایسے میں دہشتگردوں کے محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنے کیلئے ضروری وسائل اور اختیار دینے کے عمل کا سودمند ہونا یقینی نہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے یہ صرف امریکیوں کی سوچ ہی ہے وگرنہ پاکستان میں نہ تو دہشتگردوں کے ٹھکانے موجود ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ان کیخلاف کارروائی کی امریکہ کو اجازت دی جا سکتی ہے۔ جہاں تک افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا تعلق ہے تو وہاں پر ٹھکانوں کا لفظ اسلئے بے معنی بن جاتا ہے کیونکہ افغانستان کے ستر فیصد حصے پر طالبان کی عملداری ہے جبکہ امریکی تحفظ کے چھتری تلے افغان حکمرانوں کی عملداری کا علاقہ صرف تیس فیصد ہی ہے۔ افغانستان جیسے وسیع وعریض پہاڑی اور رسائی میں مشکل والے ملک کے طول وعرض میں چند ٹھکانوں پر کارروائی سے کیا حاصل ہوگا۔ ایک عشرے سے برسر پیکار امریکی واتحادی افواج سے جو بن پڑا طالبان کیخلاف وہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں کارروائیوں سے اس قدر بھی پر اُمید نظر نہیں آتے کہ وہ کوئی ڈیڈلائن دے سکیں۔ ایسا کرنا اسلئے بھی فطری امر تھا کہ امریکہ نے نائن الیون کے واقعات کے بعد افغانستان میں مبینہ طور پر موجود عناصر کو تین ماہ کے عرصے میں سبق سکھانے کا وقت مقرر کر رکھا تھا مگر تین ماہ کے دوران تو درکنار مہینوں اور سالوں بعد بھی طالبان کا افغانستان کے ستر فیصد پر قابض ہونا امریکہ کی شکست کا مظہر ہے۔ اس صورتحال میں امریکہ کیلئے مناسب یہی تھا کہ وہ طاقت کے استعمال کی پالیسی میں تبدیلی لاتا اور افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے سیاسی مذاکرات اور بات چیت کا راستہ اختیار کرتا اور اس مقصد کیلئے راہ ہموار کرنے کی مساعی ہوتیں۔ طاقت کا استعمال مسائل میں کمی نہیں اضافے کا باعث ثابت ہوا ہے خاص طور پر افغانستان میں طاقت کا استعمال تو تاریخ میں کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوا۔ امریکہ کا اپنے کمانڈروں کو پاکستان میں مبینہ ٹھکانوں کیخلاف اختیار دینے کا اختیار رکھتا ہے لیکن ہمارے کمانڈر اور عوام دفاع کا پورا پورا حق اور حوصلہ رکھتے ہیں۔ پاکستانی قیادت کو اس معاملے پر مصلحت پسندی کی بجائے سخت جواب دینا چاہئے اور عملی طور پر پاکستان کے اندر خواہ وہ قبائلی علاقہ جات ہی میں ہوں ناکام بنا کر اور ان کا مسکت جواب دینے کی پوری تیاری کرلینی چاہئے۔

متعلقہ خبریں