Daily Mashriq


پریشان کن صورتحال

پریشان کن صورتحال

ملک کے طول وعرض میں پیش آنیوالے واقعات سے تشویش کی جو لہر چل نکلی ہے اس میں آئے روز سامنے آنیوالے حالات میں لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ اور اپنے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے مشوش ہونا فطری امر ہے۔ بٹ خیلہ جیسے علاقے میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے کم عمر بچوں کو بلیک میل کرنے میں ملوث منظم گروہ کا انکشاف لمحہ فکریہ ہے جس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ اگر بٹ خیلہ جیسے علاقے میں اس طرح کا دھندا ہو رہا تھا تو بڑے شہروں میں کیا کچھ ہوتا ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دور جدید کے ان پیچیدہ مسائل کو دیکھ کر ہم اپنے بچوں کو اس دور کے تقاضوں سے تو دور نہیں رکھ سکتے البتہ ہم ان کو اس کا محفوظ استعمال اور مثبت امور میں کام میں لانے کی تربیت ضرور دے سکتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ اور جدید ذرائع ابلاغ تک بچوں کی رسائی کی روک تھام ممکن نہیں یہاں تک کہ اگر کسی کے گھر میں ان سہولیات کا سرے سے تصور بھی نہ ہو تب بھی بچوں کو ان سے دور رکھنا ممکن نہیں، ایسے میں سوائے اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے ‘ ان کو اچھے برے، محفوظ اور غیر محفوظ، نیکی اور گناہ سمجھانے اور ان کی اخلاقی ومعاشرتی تربیت پر توجہ دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ ہمارے تئیں محولہ خراب صورتحال اسی وقت ہی پیش آنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں جب بچوں کو اس بارے شعور وآگہی نہ ہو۔ اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سکولوں میں بچوں کی اس خصوصی حوالے سے تربیت اور شعور وآگہی دینے پر خاص طور پر توجہ دی جائے۔ صوبے میں سکولوں میں بچوں کی اخلاقی تربیت کے جس پروگرام کاعندیہ دیا گیا تھا اس کو مربوط منظم اور ٹھوس بنیادوں پر یقینی بنانے پر توجہ دی جائے۔ والدین اور اساتذہ کرام بچوں کو ان امور میں پوری پوری رہنمائی فراہم کریں اور ساتھ ساتھ ان کی غیر محسوس طریقے سے نگرانی اور خیال رکھنے کی ذمہ داریوں پر توجہ دی جائے۔ ہم میں سے ہر کسی کو صرف اپنے بچوں کی مادی ضروریات پوری کرنے کیلئے دن رات کوشاں ہونے کی بجائے اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت اور ان کو اخلاقی طور پر مضبوط بنیاد فراہم کرنے پر بھی پوری طرح توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس قسم کی صورتحال کی روک تھام کی ذمہ دار سرکاری اداروں کی کارکردگی کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی انڈرائیڈ فون سے بغیر پراکسی لگائے کسی بھی فحش ویب سائٹ کو اوپن کیا جاسکتا ہے۔ حکومت اس قدر بے حسی کا شکار ہے کہ اس طرح کے ناپسندیدہ سائٹس کو بلاک کرنے کی ذمہ داری سے بالکل ہی غافل ہے۔ جس تسلسل سے واقعات میڈیا پر آرہے ہیں اس صورتحال میں والدین کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ کار باقی دکھائی نہیں دیتا کہ وہ اپنے بچوں کو گھر سے باہر نہ جانے دیں اور گھر میں بھی ان کو تنہائی میں ابلاغ کی جدید سہولتوں تک رسائی نہ دیں لیکن یہ ممکن نہیں روزبروز اخلاقی انحطاط کی مثالیں سامنے آنے کے باوجود بھی اگر پی ٹی اے حکام‘ ایف آئی اے اوردیگر متعلقہ ادارے اپنا کردار ادا کرنے میں مزید تساہل کامظاہرہ کرتے رہے تو خدانخواستہ اس معاشرے کو تباہی سے دوچار ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ میں ناانصافی

سرکاری رہائشی کالونیوںمیں غیر قانونی طور پر مقیم چارسو کے لگ بھگ غیر حقدار ملازمین سے مکانات خالی کرانے اور مستقبل میں اس قسم کی الاٹمنٹ روکنے کیلئے خیبرپختونخوا میں قانون سازی کا فیصلہ کچھ زیادہ ہی تاخیر سے کیا گیا ممکن ہے اس کی نوبت ہی نہ آئے۔ ہمارے تئیں جہاں قانون سازی کی ضرورت ہے وہاں زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون کی پابندی کی جائے۔ صورتحال یہ ہے ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں صوبائی حکومت نے سرکاری رہائش گاہوں میں مقیم غیرحقدار افراد سے مکانات خالی کرانے کی ہدایت کر رکھی ہے جس کے تحت نشاندہی پر چارسو سے زائد غیرحقدار ملازمین کو مکانات خالی کر نے کے نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ ہمیں اس امر سے قطعاً اتفاق نہیں کہ سرکاری ملازمین کو مکانات کی الاٹمنٹ کیلئے کوئی پالیسی یا قانون موجود نہیں اس میں کسی لمبے چوڑے قانون کی ضرورت بھی نہیں اگر درخواست گزاروں کو ان کی درخواستوں کی وصولی کی تاریخوں کے مطابق نمبروار مکانات کی الاٹمنٹ کی جائے۔ عدالت کی جانب سے چار سو سے زائد غیر قانونی الاٹ شدہ مکانات کو خالی کرنے کے حکم پر بھی عملدرآمد لیت ولعل کاشکار ہونے کا خدشہ ہے جو توہین عدالت کے زمرے میں شمار ہوگا۔ حکومت کو ہر قسم کی پالیسی مرتب کرنے اور قانون سازی کا اختیار ضرور حاصل ہے جس کا اختیار کرنا احسن ہے۔ جب تک قانون سازی نہیں ہوتی تب تک کم ازکم پشاور ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرنے اور مزید مکانات کو شفاف طریقے سے الاٹ کرنے کی سعی تو کی جائے تاکہ درخواست گزاروں کو ریٹائرمنٹ سے قبل سرکاری مکان ملنے کی اُمید تو پیدا ہو۔

متعلقہ خبریں