Daily Mashriq


شہر کا میلہ اور واحد بخش کا کھیس

شہر کا میلہ اور واحد بخش کا کھیس

بہت ٹھنڈے دل سے سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا سیاست بند گلی کی طرف رواں دواں ہے؟ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے وجہ یہی ہے کہ عام آدمی کے مسائل اور اس پر ٹوٹتے عذابوں سے کسی کو دلچسپی نہیں۔ حکومت ہے بھی اور نہیں بھی۔ جو کام انتظامی محکموں کو کرنے چاہئیں وہ ترجیح نہیں دے رہے۔ امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے۔ غربت‘ بیروزگاری اور تعلیمی وطبعی سہولتوں کا فقدان ہے۔ طبی سہولتوں کا یہ فقدان مثالی نظام والے خیبر پختونخوا میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ فقیر راحموں کو ڈر ہے کہ کسی روز صوبائی وزیر صحت یہ نہ کہہ دیں ’’لوگ بیمار شمار ہوتے رہتے ہیں‘ بیماریاں پہلے بھی تھیں بس اب میڈیا شور زیادہ مچاتا ہے‘‘۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں (زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ انہیں خاندانی کمپنیاں کہا جائے) کے اندر ادارے موجود نہیں۔ آپ دنیا بھر کی سیاسی جماعتوں کے احوال سے آگاہی لیجئے معلوم ہوگا کہ کارکنوں کی تعلیم وتربیت کیساتھ ہر سطح پر مختلف شعبوں کی سمجھ بوجھ رکھنے اور ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں قائم ہیں جو پارٹی کو رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ ہمارے یہاں ایک لیڈر ہوتا ہے اور ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ سر تسلیم خم کہ بالادست ریاستی اشرافیہ کی مرضی سے ہونیوالے پروپیگنڈے کی وجہ سے لوگوں کا سیاسی جماعتوں پر اعتماد کم ہوا اور یہ تاثر پختہ کہ فلاں فلاں ادارہ تو مسیحا ونجات دہندہ ہے، یہ نہ ہوتے تو سیاستدان پھاڑ کھاتے۔ سچ مگر یہ ہے سو فیصد ایسا بھی نہیں۔ بالادستی اور ہر بات سے ماورا ہونے کا زعم بالادست ریاستی اداروں کو بھی چین نہیں لینے دیتا۔ اچھا یہ سپیس ملی کیوں؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہمارا اجتماعی مزاج لشکروں سے محبت بھری عقیدت ہے، اب زمانہ چونکہ ترقی کرگیا ہے حملہ آور لشکر دستیاب نہیں اسلئے ضرورت محبت دستیاب لشکروں سے پوری کرتے ہیں۔

کچھ دوست شکوہ کرتے ہیں کہ اس آڑے وقت میں بالادست ریاستی اداروں کو چیلنج کرنیوالوں کی تائید کرنا بنتا ہے۔ ان کا شکوہ بجا ہے پر سادہ سا سوال ہے عوام کے حق حکمرانی کی راہ ہموار کرنے کیلئے دستیاب قیادتوں نے کیا تیر مارے؟ جناب نواز شریف وزیراعظم تھے تو خاندان‘ رشتہ داروں‘ سسرالیوں اور سمدھیانوں کے26 افراد حکومت کا حصہ تھے۔ کیا اہلیت صرف پارٹی مالکان کا رشتہ دار اور بستہ بردار ہونے کی سند ہے۔ معاملہ دوسری طرف بھی برابر کا ہے۔ سر شام ٹی وی چینلوں پر جلوہ افروز ہوتے دفاعی ماہرین اپنے مخصوص شعبہ کے علاوہ دنیا جہان کے امور کے ماہرین ہیں۔ ان ماہرین کو یہ زعم بھی ہے کہ اگر وہ نہ ہوتے تو لوگوں کو اچھی اچھی باتیں کون بتاتا۔ اس پر سرائیکی وسیب کے دیہاتوں میں صدیوں کا سفر کر چکا ایک لطیفہ یاد آیا۔ ’’واحد بخش اپنے گاؤں سے قریبی شہر میں ایک میلہ دیکھنے گیا۔ سردیوں کے دن تھے ایک عدد گرم کھیس بھی واحد بخش کے کندھے پر تھا۔ میلے کے رش اور دھکم پیل میں اس کا کھیس گم ہوگیا۔ گاؤں واپسی پر دوستوں نے پوچھا سناؤ میلہ کیسا تھا؟ واحد بخش نے جواب دیا‘ میلہ کیا تھا بس میرا گرم کھیس چرانے کا بہانہ تھا۔ چند دن بعد ایک صبح گاؤں والے بیدار ہوئے تو گاؤں کے باہر سے گزرنے والے کچے راستے پر رات کو گزرنے والے قافلے کے قدموں کے نشانات میں ایک بھاری اور چوڑے پاؤں کا نشان بھی تھا۔ سب حیران ہوئے آخر یہ کس بلا کے قدموں کا نشان ہے۔ ادھر ادھر پوچھ تاچھ ہو چکی تو کسی سیانے نے مشورہ واحد بخش کچھ دن پہلے شہر میلہ دیکھنے گیا تھا اسے بلا کر دریافت کرو ممکن ہے وہ بتا دے کہ یہ کس چیز کے پاؤں کے نشانات ہیں۔ واحد بخش کو بلایا اور سارا قصہ اسے سنایا گیا۔ اس نے ماہر کھوجیوں کی طرح پہلے تو قافلے کے سارے نشانات کا جائزہ لیا پھر وہیں راستے کے کنارے بیٹھ کر کبھی رونے اور کبھی ہنسنے لگا۔ گاؤں والوں نے رونے اور ہنسنے کی وجہ دریافت کی تو واحد بخش نے جواب دیا، روتا اس لئے ہوں کہ میرے مرنے کے بعد تم لوگوں کو کون بتایا کرے گا کہ کونسا نشان کس کے قدموں کا ہے یہ سوچتا ہوں تو مجھے اپنے بعد اندھیرا دکھائی دیتا ہے۔ ہنستا اس لئے ہوں کہ اب مجھے بھی یاد نہیں کہ یہ کس آفت کے قدموں کے نشان ہیں‘‘۔

ہمارے تجزیہ کاروں کی اکثریت واحد بخش ہی ہے مگر کیا مجال کہ یہ احساس ہونے دے کہ انہیں کسی بات یا معاملے بارے کچھ معلوم نہیں۔ یہ ہر فن مولا مذہب سے سماجیات‘ سیاست سے معاشیات‘ دفاع سے خارجہ پالیسی تک کے امور پر بے تکان گفتگو فرماتے ہیں۔ درمیان میں کبھی کبھی کرپشن اور مہنگائی پر بھی رائے دے کر ذائقہ بدل لیتے ہیں۔ فقیر راحموں ایک دن کہنے لگے شاہ جی! اگر حکومت چاہے تو اربوں روپے سالانہ کا زرمبادلہ کما سکتی ہے۔ وہ کیسے ہم نے دریافت کیا۔ بولے ان افلاطونی ماہرین کی خدمات اور دوسرے ملکوں کو فراہم کرے۔ بات کچھ کچھ دل کو لگتی ہے مگر پھر ہمارے ٹی وی چینلز تو ویران ہو جائیں گے۔ شمشان گھاٹوں کی طرح جہاں کریا کرم کے بعد عجیب سی ویرانی در آتی ہے۔ حرف آخر یہ ہے کہ ان سطور کے لکھے جانے کے دوران سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے ایک مقدمہ میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نہال ہاشمی کو ایک ماہ قید‘ پچاس ہزار روپے جرمانہ اور پانچ سال کی نااہلی کی سزا سنا دی ہے۔ نہال ہاشمی نے پچھلے سال یوم تکبیر کے موقع پر کراچی میں شریف خاندان کا احتساب کرنیوالوں کو نوید دی تھی کہ ان کا بھی ’’پھٹے چک احتساب‘‘ ہوگا۔ ان کی بدکلامی پر دو آراء ہرگز نہیں البتہ یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ انہوں نے غیر مشروط معافی مانگ کر خود کو عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا تھا، زیادہ مناسب ہوتا کہ اس معافی کو قبول کر لیا جاتا۔ عمومی طور پر عدالتی روایات یہی ہیں خود سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن جناب عمران خان کی معافیاں قبول کر چکے ہیں گو خان صاحب نہال ہاشمی نہیں بنے مگر توہین تو توہین ہی ہوتی ہے۔ مکرر عرض ہے کہ رواداری برداشت اور درگزر سے اداروں کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ سزاؤں سے احترام کشید نہیں ہوتا۔ ’’شاید کے تیرے دل میں اُتر جائے میری بات‘‘۔

متعلقہ خبریں