Daily Mashriq


سیاسی ٹاک شوز

سیاسی ٹاک شوز

میں اس وقت سیاسی ٹاک شوز دیکھنے کا بخار اپنے عروج پر ہے اور اس بخار کی شدت میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جو کہ اس بخار میں مبتلا نہ ہو اور ان ٹاک شوز کو دیکھ دیکھ کر ہر بندہ ایک الگ ہی دانشور بنا ہوا ہے۔ یہ بات یقین سے کی جاسکتی ہے ہمارے معاشرے میں رہنے والا ہر شخص شام کو آفس یا اپنے کام سے واپس آکر اپنی طبیعت ہشاش بشاش کرنے کیلئے ٹاک شوز ضرور دیکھتا ہے لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے کیونکہ ان ٹاک شوز کو دیکھنے کے بعد طبیعت میں بہتری کی بجائے ہیجان ہی پیدا ہوتا ہے۔ ہم میںسے اکثر لوگ صرف یہ دیکھنے کیلئے بھی ٹی وی چلاتے ہیں کہ کون سے ٹاک شو کا اینکر کسی خاص ایشو پر کیا پوزیشن لے رہا ہے اور کسی اہم معاملے کے حق میں بول رہا ہے یا کہ مخالفت میں۔ اسی طرح کچھ مخصوص ٹی وی شوز کسی مخصوص ایجنڈے پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور ان کو دیکھنے والا بھی ایک مخصوص طبقہ ہے جو ان کی رائے سے متفق نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ جو پہلے ہی تقسیم در تقسیم کا شکار ہے، مزید تقسیم ہوتا جا رہا ہے۔ پرویز مشرف کے دور حکومت میں الیکٹرانک میڈیا کو نہ صرف ریاست کے قوانین سے آزاد کیا گیا بلکہ بہت سے دوسری آزادیاں بھی دی گئیں جس کی وجہ سے نیوز چینلز کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ نیوز چینلز کی تعداد میں اس اضافے کی وجہ سے معاشرے پر اس کے بہت سے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ کسی بھی جمہوریت میں میڈیا کی آزادی انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور اس حوالے سے دیکھا جائے تو جمہوریت کی آبیاری کیلئے میڈیا نے بھی پاکستان میں کافی کام کیا ہے۔ اگر میڈیا کی آزادی کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان تیسری دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں پر ذرائع ابلاغ کی آزادی پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ دنیا بھر کے مسلم اکثریت رکھنے والے58 ممالک کی فہرست میں ذرائع ابلاغ کی آزادی کے لحاظ سے پاکستان سرفہرست ہے۔ دوسری جانب، اگر غور کیا جائے تو ہمارے معاشرے پر ذرائع ابلاغ اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کی آزادی کے بہت سے منفی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں میڈیا اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کی کامیابی کی وجہ سے بہت سے سرمایہ کاروں نے اس شعبے میں سرمایہ کاری شروع کر دی ہے اور ایسے لوگ صحافت کے مقدس پیشے میں آگئے ہیں جن کا صحافت یا ٹیلی ویژن سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ ہر نئے میڈیا ہاؤس کیساتھ ایک نئی کہانی وابستہ ہے کیونکہ یہ میڈیا ہاؤسز ان لوگوں نے نہیں بنائے جن کا اوڑھنا بچھونا صحافت ہو۔ ان حالات میں کوئی بڑے سے بڑا صحافی بھی میڈیا ہاؤسز کے مالکان کے بارے میں تحقیق وتفتیش کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔تفتیشی صحافت تو ویسے بھی ہمارے ملک کی صحافت کا سب سے کمزور شعبہ ہے جس کی وجوہات کسی بھی بڑے کاروباری شخص سے پنگا نہ لینے اور اپنی جان بچانے کی فطری خواہش ہے۔ بہت سے کیسز میں یہ ٹی وی چینلز یا میڈیا ہاؤسز سیاسی تحفظ، مخالفین کو دھمکانے اور اپنے مالکان کی ناجائز دولت پر پردہ ڈالنے کے کام آتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی یہ نیوز چینلز دوسرے ایجنڈوں پر بھی کام کرتے رہتے ہیں جن سے ان کے مالی مفادات منسلک ہوتے ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جوکہ الیکٹرانک میڈیا کے اینکرز کے معیار سے مایوس ہیں۔ ان اینکرز کی نہ تو کوئی ٹریننگ ہوتی ہے اور نہ ہی یہ لوگ سیاست کے پیچیدہ اسرار ورموز سے واقف ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹی وی پر بیٹھ کر عوام کی زندگی کا سب سے اہم وقت لینے والے یہ اینکرز تاریخ، ثقافت، سماجی روایات اور معاشی صورتحال سے بھی نابلد نظر آتے ہیں۔ اس سارے شوروغوغا کے درمیان صحافیوں کی ایک اقلیت ایسی بھی ہے جو آج بھی صحافت کو مقدس پیشہ سمجھتے ہوئے اس کے اصولوں کے مطابق کام کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن لڑائی جھگڑوں، الزامات کی بوچھاڑ اور گالی گلوچ میں ایسے لوگوں کی آوازیں کہیں دب کر رہ جاتی ہیں۔ اس بات کا اندازہ لگایا جانا انتہائی مشکل ہے کہ ایک غیر پیشہ وارانہ اور شتر بے مہار میڈیا سیاسی اور سماجی لحاظ سے کسی بھی قوم پر کس طرح اثرانداز ہو سکتا ہے لیکن یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ اثرات مثبت نہیں ہوں گے۔ اپنے کاموں اور دفاتر سے واپس آکر ٹی وی چینلز کے سامنے بیٹھنے والے لوگوں کے رویوں میں آنیوالی منفی تبدیلیاں صاف دیکھی جاسکتی ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں ملک وقوم کے بارے میں منفی خیالات پائے جاتے ہیں جس کا سارا کریڈٹ اینکرز اور ٹی وی چینلز کو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم بطور قوم نفرت، مخالف سیاسی نظریات کی عدم برداشت، جھوٹی افواہوں، مکر وفریب، کسی کی ذاتی زندگی پر حملے اور ریاست کے ہر ادارے کی ساکھ خراب کرنے کو خبر سمجھ لیتے ہیں اور اس پر یقین کرنے کیساتھ ساتھ دوسروں سے بحث بھی کرتے ہیں۔ جہاں تک بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی خراب ساکھ کی بات کی جائے تو اس کا تعلق بھی الیکٹرانک میڈیا سے ہے کیونکہ باہر کی دنیا نے وہی سمجھنا ہے جو ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے ان کو دکھانا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا اکثر اوقات پاکستان کا مثبت تصور نہ صرف چھپا دیتا ہے بلکہ اس کو مسخ بھی کر دیتا ہے۔ اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ میڈیا اپنی جھوٹی خبروں کو عدلیہ کے سامنے سچ ثابت کرنے پر بھی مصر نظر آرہے ہیں۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون، ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں