Daily Mashriq


اے مرگ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے

اے مرگ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے

جھوٹ نہیں بولتا۔ اسے جو نظر آتا ہے وہ دیکھنے والے کو من وعن بتا دیتا ہے۔ یہ الگ بات کہ آئینے کی یہ حرکت دیکھنے والے کو اچھی لگے یا بری۔ ہم جب جوان تھے گھنٹوں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس میں اپنی شکل کے اُتار چڑھاؤ دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ کبھی سلطان راہی بن جاتے تھے اور کبھی وحید مراد کی نقل اُتارنے لگتے۔ آئینے پر ثابت کرتے کہ ہم کسی فلمی ہیرو یا ولن سے کم نہیں۔ آئینہ بھی ہماری ان حرکتوں سے محظوظ ہوئے بنا نہیں رہتا تھا۔ لیکن عمر ڈھلنے کیساتھ ساتھ آئینے کے روئیے میں تبدیلی پیدا ہونے لگی۔ اس کے لب ولہجے کی کرختگی ہم جیسے ناتوانوں کا دل دکھانے لگی۔ کل ہی کی بات ہے جب ہم آئینہ کے سامنے آئے اس نے نہایت کرخت لہجے میں ہمیں ڈانٹتے ہوئے کہا کہ شرم نہیں آتی تجھے ’چٹی داڑھی آٹا خوار‘ کے مصداق اس عمر میں حسیناؤں کو تاکتے ہوئے۔ ہمیں یوں لگا جیسے وہ غالب کا مشہور عالم شعر دہرا دہرا کر پڑھ رہا ہو 

کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب

شرم تم کو مگر نہیں آتی

جب ہم حضرت آئینہ کی یہ بات سنتے ہیں توہیل کرتے ہیں نہ حجت اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر اللہ اللہ جپنے لگتے ہیں۔ ایسے میں ہمیں وہ بابا یاد آجاتا ہے جس کا پوتا روتے ہوئے اس کے پاس شکایت لے کر آیا کہ اس نے میری ٹافی چھین لی۔ کس نے؟ بابا جی نے پوتے سے پوچھا۔ وہ جو پانی کی چاٹی کے اندر ہے۔ اچھا میں دیکھتا ہوں کون ہے وہ۔ بابا اُٹھا اور چاٹی کے اندر جھانکنے لگا۔ چاٹی کے پانی میں اسے اپنا عکس نظر آیا تو وہ اسے کہنے لگا۔ شرم نہ آئی تجھے بوڑھے کھوسٹ بچے سے اس کی ٹافی چھین لی تم نے۔ ظاہر ہے چاٹی کے اندر آئینہ نما پانی نے باباجی کی نقل اُتار کر اسے خاموش کر دیا ہوگا۔ ہم جب آئینے کی جھڑکیاں سنتے ہیں تو خوف خدا طاری ہو جاتا ہے ہمارے دل اور دماغ پر۔ اللہ کا نیک بندہ بننے کا عہد کرکے تارک الدنیا ہونے کی کوشش کرنے لگتے ہیں لیکن ہم ایسا کرنے میں بری طرح ناکام رہتے ہیں۔ باسی جو ٹھہرے اس نگوڑی دنیا کے۔ دنیا بڑی حسین ہے کیونکہ اس میں بہت سے حسن سراپا رہتے ہیں۔ یہ خیال آتے ہی بھول جاتے ہیں کہ کیا کہا تھا ہمیں حضرت آئینہ نے۔ آئینہ سے کچھ ہی مدت دور رہنے کے بعد ایک بار پھر ہم اپنے آپ کو جوان سمجھنے لگتے ہیں۔

جوانی درحقیقت جامہ الزام ہوتی ہے

نظر کتنی ہی اچھی ہو، مگر بدنام ہوتی ہے

لیکن ہم عہد جوانی کی بدنامی کو بالائے طاق رکھ کر ہر حسن سراپا سے نظریں ملانے، ملاکر مسکرانے کا چھچھورا پن کر بیٹھتے ہیں لیکن ہمیں حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ہمارے سامنے آنیوالی ہر پری وش ہمیں دیکھتے ہی آئینہ یا آئینہ نما بن جاتی ہے۔ تب ہمیں معلوم پڑتا ہے کہ صرف آئینہ ہی سچ نہیں بولتا۔ ہم اپنے ارد گرد پھیلے پر شباب ماحول سے گھبرا جاتے اگر بس کا سفر کرنے کے دوران ہمارے عہد پیری پر ترس کھا کر ہم پر احسان جتانے والے اپنی سیٹ خالی کرکے اس پر بیٹھنے کی پیشکش نہ کرتے رہتے۔ بزرگ یا بوڑھا ہونا یا کہلوانا کوئی بری بات نہیں۔ لیکن جب ایک محفل مشاعرہ میں ’’تشریف لاتے ہیں ہمارے بزرگ شاعر جوش ملیح آبادی‘‘ کہہ کر پکارا گیا تو جوش ملیح آبادی نے اپنا کلام سنانے سے پہلے ’’بزرگ ہوں میرے دشمن‘‘ کہہ کر محفل کو زعفران زار بنا دیا۔ وہ جو کہتے ہیں کہ بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال۔ بزرگ عہد پیری کو پہنچتے پہنچتے بزرگ نہیں رہتے کیونکہ ان بے چاروں کی عقل ٹھکانے لگ جاتی ہے۔

مضمحل ہوگئے قویٰ غالب

وہ عناصر میں اعتدال کہاں

کے مصداق پیران سال لوگ لڑھکتے پھرتے ہیں رولنگ سٹون کی طرح۔ ان کی گرتی پڑتی حالت زارکو دیکھ کر تازہ دم نوجوان ان کی جانب بڑھتے ہیں اور ان کو سہارا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے ساتھ ایسا کئی بار ہوا۔ ہم تھامنے والوں کو دعا ئیں دیتے رہے اور وہ ہماری دعائیں سن کر ہم پر اپنی ہمدردیوں کی بارش کر تے رہے۔

جب ہم بوڑھے ہونگے

دوائیوں کے پوڑے ہونگے

یاد نہیں آرہا کب اور کہاں سنے تھے کسی پیروڈی کے یہ بول۔ سچ مچ عہد پیری میں دوائیوں کی پڑیوں یا پڑوں کے بل بوتے پر ہی ہم جیسے ہائے اُف کرنیوالے لوگ زندگی کا قرض چکاتے رہتے ہیں۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ دوائیوں کی قیمتیں ہماری عمر رفتہ کی طرح ایک تسلسل کیساتھ بڑھتی رہتی ہیں۔ یکم فروری 2018 کو دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ کی خبر پڑھ کر ہمیں کچھ ہو جاتا اگر ہم ایسی خبریں پڑھنے کے عادی نہ ہو چکے ہوتے۔ میری طرح میرے بوڑھے، بچے اور جوان قارئین بھی ایسی خبریں پڑھنے اور ملاوٹی اشیائے خورد ونوش کا استعمال کرکے نت نئی بیماریوں کا شکار ہو نے کے عادی ہو چکے ہیں اسلئے کچھ نہیں ہوگا ان کو یہ خبر پڑھ کر کہ: حکومت نے طبی سہولیات سے محروم عوام کی مشکلات میں کمی کے بجائے پریشانیوں میں اضافہ کرتے ہوئے ادویات کی قیمتیں بڑھا دیں۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے رجسٹرڈ ادویات کی قیمتو ں میں سالانہ اضافے کے باضابطہ احکامات جاری کردیئے۔ ادویات کی قیمتوں میں 2.08 فیصد اور نان شیڈول ادویات کی قیمتوں میں2.91 فیصد جبکہ 5 روپے سے کم مالیت کی دوا کی قیمت میں4.16 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس خبر کو پڑھ کر دل ناتواں پہ جو گزری سو گزری، مگر وہ کراہ اٹھا کہ

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شب غم بری بلا ہے

مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا

متعلقہ خبریں