Daily Mashriq


قانون کاموثر راستہ

قانون کاموثر راستہ

ڈاکٹر علامہ طاہر القادری عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد دیگر بیرونی ممالک کا دورہ کرینگے۔ اس دورے سے قبل ایک پریس کانفرنس میں اُنہوں نے احتجاجی سیاست کو ترک کرنے اور قانونی راستے کو اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کو نہایت اہم اور صائب فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اب جبکہ سینٹ کے انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے اور عام انتخابات بھی پروگرام کے مطابق وقت پر ہوں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے اس مثبت فیصلے نے سینٹ کے انتخابات اور عام انتخابات کیلئے راستہ ہموار کیا ہے۔ ورنہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ سینٹ کے انتخابات میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں جبکہ عام انتخابات کا مقررہ وقت پر انعقاد مشکل تھا۔ ہر قسم کی چہ میگوئیاں جاری تھیں لیکن طاہر القادری کے اس اعلان سے یہ سب چہ میگوئیاں دم توڑ گئی ہیں جبکہ دیگر سیاسی پارٹیوں کی جانب سے بھی وقت سے قبل انتخابات کا نعرہ دم توڑ رہا ہے۔انتخابات کا عمل پرامن فضا میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے جو جمہوری قوتوں کیلئے ایک مثبت پیغام ہے۔ جدید دور میں یہی ایک طریقہ ہے جس سے حکومتیں بنتی ہیں اور جمہوریت کا عمل جاری رہتا ہے۔ احتجاجی سیاست جلاؤ گھیراؤ کی پالیسی یقیناً جمہوری روایات کے منافی ہے۔ جہاں تک ماڈل ٹاؤن واقعے کا تعلق ہے یقیناً یہ ایک سانحہ ہے جس میں کئی قیمتیں جانیں ضائع ہوئیں جس کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے قانون کا سہارا لے کر عدالتوں سے انصاف کی توقع کی جا سکتی ہے اور عدالتیں خصوصاً قتل جیسے جرم میں مجرم کو منطقی انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بے گناہ انسان کے قتل کو دنیا کا کوئی قانون معاف نہیں کرتا۔ ماڈل ٹاؤن واقعے کی پوری تفتیش ہونی چاہئے۔ ڈاکٹر صاحب عدالتوں میں پورے کیس کی پیروی کیلئے تمام قانونی وسائل کو بروئے کار لاکر قانونی جنگ جیت کر ان تمام شہداء کے سامنے سرخرو ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری جب اپنے پلیٹ فارم سے ماڈل ٹاؤن کے سانحے کا کیس پیش کرتے رہے تو پذیرائی ملتی رہی۔ عوام کی ہمدردیاں شہداء کے ورثاء کیساتھ تھیں لیکن جب سیاستدانوں نے ماڈل ٹاؤن کے شہداء پر سیاست شروع کی تو اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوا؟ پاکستان عوامی تحریک کیساتھ دو اہم پارٹیوں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کا شو فلاپ ہوا اور وہ موثر طریقے سے اپنے کیس کو پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی ہمدردیاں ماڈل ٹاؤن کے لواحقین سے تھیں کسی سیاسی پارٹی سے نہیں تھی جس نے کوئی خاص اثر نہیں چھوڑا۔ڈاکٹر طاہر القادری نے اس سے قبل لانگ مارچ کا بھی اعلان کیا تھا لیکن اس لانگ مارچ کا بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس وقت بھی یہ کہا گیا کہ قانون کا راستہ سب سے زیادہ موثر ہے۔ اب کی بار جب طاہر القادری نے لانگ مارچ یا احتجاجی تحریک کو خیر باد کہا تو یہ امید پیدا ہو سکتی ہے کہ قانونی راہ اختیار کر کے بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری ایک ہمہ گیر شخصیت ہیں۔ کینیڈا اور پاکستان کی شہریت رکھتے ہیں۔ ضلع جھنگ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور ضلع جھنگ میں چند سال کیلئے وکالت بھی کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب400 سے زیادہ انگریزی، اُردو اور عربی زبان میں لکھے گئے کتابوں کے مصنف ہیں۔ زبردست مبلغ ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی تحریک منہاج القرآن کا آغاز مسجد رحمانیہ شادمان لاہور سے کیا۔ ابتداء میں علامہ طاہر القادری میاں شریف (میاں نواز شریف کے والد) کی درخواست پر اتفاق مسجد میں جمعے کا خطبہ بھی دیتے رہے۔ بعد میں یہ رشتہ منقطع ہوا۔ 1989ء میں عوامی تحریک کی بنیاد ڈال دی گئی۔ نواب زادہ نصراللہ خان (مرحوم) کے عوامی اتحاد کے صدر بننے کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری نے عوامی اتحاد کو خیر باد کہا۔ 29نومبر 2004ء کو قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیا۔ استعفیٰ کا فیصلہ سابق صدر پرویز مشرف سے کاؤنٹر ٹیررازم کی پالیسی سے اختلاف کی بناء پر کیا گیا تھا۔2005ء میں ڈاکٹر طاہر القادری کینیڈا منتقل ہوئے۔ 7 سال کینیڈا میں گزارنے کے بعد 2012ء میں دوبارہ سیاست میں سرگرم ہوئے۔ اب وہ کینیڈا اور پاکستان کی دہری شہریت رکھتے ہیں۔ 2013ء میں لانگ مارچ کیا۔17جون 2014ء کو سانحہ ماڈل ٹاؤن پیش آیا۔ جس میں شہداء کا خون ابھی تک قاتل کو پکار رہا ہے کہ کب ان کوانصاف ملے گا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے1980ء میں منہاج القرآن کی بنیاد ایکNGO کے طور پر رکھی تھی۔ جس کا مرکز لاہور میں ہے اور باقی شاخیں ملک کے طول وعرض کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی موجود ہیں۔ طاہر القادری کی خدمات اسلامی دنیا میں ایک اعلیٰ مقام رکھتی ہیں جبکہ سیاسی طور پر پاکستان میں ان کے پیروکاروں کی وہ تعداد نہیں ہے جس سے وہ پاکستان کی سیاست میں ایک اہم مقام حاصل کر سکیں اور یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں طاہرالقادری کا اوپر آنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

متعلقہ خبریں