Daily Mashriq


اپنی بوئی ہوئی فصل

اپنی بوئی ہوئی فصل

بچے کافی بنا کر لائے، ہم ٹھہرے پرانے وقتوں کے لوگ چائے پی پی کر ہماری بنیادیں ہل چکی ہیں۔ اگر گرمیوں میں لسی مل جائے تو شوق سے پیتے ہیں لیکن یہ کافی؟ ارے بابا ہم نے کافی تو بہت پی ہوئی ہے لیکن کافی کیلئے موسم بھی تو ہونا چاہئے شدید سردی موسلادھار بارش کی جھڑی تو پھر کافی کے کیا کہنے! ابھی فروری کا آغاز ہے اور دھوپ میں نہیں بیٹھا جارہا، بارش نہ ہونے کی وجہ سے دھوپ کی شدت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ پشاور تو اب کنکریٹ کے اور سریے کے بہت بڑے جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ٹریفک کے ہنگامے، بڑھتی ہوئی آبادی، بازاروں پر نظر پڑتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے بہت بڑا جلوس رواں دواں ہو! رکشے اور موٹر بائیکس خدا کی پناہ! انہیں دیکھ کر اقبال کا شعر یاد آجاتا ہے:

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں

ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے

ریپڈ بس سروس کی تعمیر کی وجہ سے بھی ٹریفک کے مسائل بڑھ چکے ہیں، اللہ کرم کرے یہ جلد ازجلد مکمل ہو تو پشاور کے باسی بھی سکھ کا سانس لیں، کہتے ہیں کہ اس کی تکمیل کے بعد اچھی خاصی آسانی ہوجائے گی فی الحال تو گاڑی میں سفر کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے! بارش کی دعائیں تو بہت مانگی جا رہی ہیں لیکن بادل شاید پشاور کا راستہ بھول چکے ہیں۔ بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ بارش ہو جائے تو زکام کھانسی وغیرہ سے نجات مل جائے گی ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اب وہ زمانے نہیں رہے اب بارش ہوتی ہے تو ہر سڑک تالاب کا منظر پیش کرتی ہے، نالیوں سے پانی باہر آکر بپھرے ہوئے شیر کی طرح سڑکوں پر دوڑتا بھاگتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ بارش سے گرد وغبار بیٹھ جائے گا تو یہ بھی ہماری خام خیالی ہے۔ اب آلودگی اور پشاور کا چولی دامن کا ساتھ ہے، دونوں ایک دوسرے کیساتھ ایک ایسے رشتے میں بندھ چکے ہیں جس میں اب جدائی ناممکن ہے ہر سال جنوری کے آخر میں بھل صفائی کا کام بھی پشاور میں شروع ہو جاتا ہے، جی ہاں پشاور کے گنجان آباد علاقوں سے گزرنے والی اکلوتی نہر کی صفائی! ہر سال اس کی صفائی پر کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات! محکمہ نہر والے اب نہر کے کنارے آباد مخلوق کو پینافلیکس کے ذریعے ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں کہ خبردار! نہر میں کوڑا پھینکنے پر جرمانہ کیا جائے گا اور قید بامشقت کا مزا بھی چکھنا پڑے گا لیکن کس کو کہہ رہے ہو؟ نہر کے کنارے آباد لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ گھر کو کوڑا کرکٹ اس بدنصیب نہر میں ہی پھینکنا ہے ہم نے تو نہر کے کنارے مکانات کی چھتوں پر سے کوڑے کے بھرے ہوئے شاپر کٹی پتنگ کی طرح نہر میں گرتے دیکھے ہیں، لوگ گھر سے باہر نکل کر شاپر پھینکنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے، نہر کے قریب رہنے کا کوئی فائدہ تو ہونا چاہئے ان سارے مکانات کی نکاسی نہر میں ہی ہوتی ہے سارے گٹر اسی نہر میں گرتے ہیں، ہم کئی مرتبہ اس حوالے سے اپنے کالموں میں لکھ چکے ہیں جناب اس نہر کو مکمل طور پر ڈھانپ لیجئے تو بہتر ہے، ہر سال کروڑوں روپے کے اخراجات سے بھی جان چھوٹ جائے گی اور شہر کی آلودگی میں بھی کچھ کمی تو ہو ہی جائے گی لیکن ارباب اختیار کی اپنی منطق ہے ٹھیکیدار کیساتھ ساتھ افسران بالا بھی ہر سال بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں۔ سیاستدانوں کی بددیانتی کا رونا رونے والے خود کیا کر رہے ہیں، ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجئے: دودھ میں پانی، گھی میں کیمیکل، مرغیوں کی انتڑیاں، ہلدی میں مصنوعی رنگ، سرخ مرچ میں اینٹوں کا بورا، کالی مرچ میں گھوڑے کا دانہ، جوس میں جعلی رنگ اور فلیورز، چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے، پھلوں میں میٹھے انجکشن، سبزیوں پر کلر، پٹرول میں ایرانی تیل، بکرے کے گوشت کو پانی کے انجکشن لگا کر وزن زیادہ کرنا، بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا، شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت، منرل واٹر میں نلکے کا پانی، موبائل مارکیٹ میں جعلی اور کاپی فون، دونمبر ادویات اصلی پیکنگ میں، ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹر، بازاروں میں بدنظری اور لڑائی جھگڑے، امتحانات میں نقل، ناپ تول میں کمی، دوستی میں خودغرضی، محبت میں دھوکا، ایمان میں منافقت، نوکری میں سفارش ورشوت، بجلی چوری، بھائی بہنوں میں نفرت، ماں باپ کی عزت نہ کرنا، رشتے داروں سے قطع تعلقی، پڑوسیوں سے بدسلوکی، استادوں سے بدتمیزی، بغیر عمل کے علم، میاں بیوی میں نفرت، بچوں پر غیر ضروری سختی، امیری میں تکبر، اپنے علم پر غرور، روزی میں حرام کی آمیزش، جھوٹ بولنا اور بولتے ہی چلے جانا، ٹیکس کی ادائیگی میں چوری، ڈکیتی، فراڈ، دھوکا، راہزنی، عبادت میں ریاکاری ان سب باتوں کے باوجود ہر وقت حکمرانوں اور سیاستدانوں کو برا بھلا کہنا؟ ہمیں اگر دیانتدار حکمران نہیں مل رہے، اگر آج ہم ایک حقیقی اور باکردار رہنما سے محروم ہیں تو اس کی وجہ صاف ظاہر ہے جیسا منہ ویسا تھپڑ! جیسی روح ویسے فرشتے! ہم خود نہیں سدھرتے اور نہ ہی سدھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں دنیا جہان کی برائیاں دوسروں میں نظر آتی ہیں ہماری آنکھ سب کچھ دیکھتی ہے اگر نہیں دیکھتی تو اپنے آپ کو نہیں دیکھتی! ہم ہر طرف جھانکتے ہیں اگر نہیں جھانکتے تو اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے! ہم دوسروں کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں لیکن ہماری انگلی اپنی طرف نہیں اُٹھتی! آج جو کچھ ہو رہا ہے یہ ہماری اپنی بوئی ہوئی فصل ہے جو آج ہم کاٹ رہے ہیں!

متعلقہ خبریں