Daily Mashriq

جام جم سے یہ مراجام سفال اچھا ہے

جام جم سے یہ مراجام سفال اچھا ہے

مختلف ٹی وی چینلز پر چلنے والے مزاحیہ پروگراموں کے لکھاریوں کو ایک نیا موضوع ہاتھ لگ گیا ہے اور جلد ہی ٹی وی ناظرین دیکھیں گے کہ ایک نیاگانا ان پروگراموں کا حصہ ہوگا جس کے بول کچھ ایسے ہو سکتے ہیں کہ

جھمکاگرارے

اس سینیٹ کے دربار میں

جھمکاگرا، جھمکاگرا ہائے ہائے ہائے

جھمکاگرارے

ماضی میں تووہ ڈائیلاگ بہت مشہور ہوا تھا کہ کہاں سے لائی ہو یہ جھمکے ،کس نے دیئے ہیںیہ جھمکے؟فلم کا نام تھا غالباً بدنام اور وہ منٹو کی ایک کہانی سے متاثر ہو کر لکھی گئی تھی۔ سوال پوچھنے والا کریکٹر علائوالدین تھا جس نے فلم میں کوچوان کا کردار ادا کیا تھا، فلم نے پاکستانی فلموں کا ٹرینڈ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ،جس ڈائیلاگ کی بات ہم نے کی ہے وہ اصل کہانی کا بھی حصہ تھا۔ فلم اس لئے یاد آگئی کہ گزشتہ روز سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق اجلاس کے دوران وفاقی وزیر شیریں مزاری کا مہنگا جھمکا گم ہوگیا،موصوفہ کم عمری کی شادی سے متعلق ترمیمی بل کی منظوری کے بعد واپس جارہی تھیں تو ان کا جھمکا گرگیا، سینیٹ کے عملے نے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی تاہم ناکامی پر انہیں ایک جھمکے کے ساتھ جانا پڑگیا۔ شکیب جلالی کا ایک شعر ہے جس کا دوسرا مصرعہ یوں ہے کہ شجرپہ ایک ہی پتا دکھائی دیتا ہے،ان کی روح سے معذرت کے ساتھ اس شعر میں تھوڑی سی تحریف کرتے ہیں تو عرض ہے کہ

نہ اتنی تیز چلے سرپھری ہوا سے کہو

بہ گوش ایک ہی جھمکا دکھائی دیتا ہے

یہ کم بخت زیور عورت ذات کی اس قدر کمزوری ہے کہ اب اٹھتے بیٹھتے اس گمشدہ جھمکے کا تذکرہ ہوتا رہے گا، ممکن ہے کہ اردو زبان میںکچھ نئے محاورے اور ضرب الامثال کا بھی اضافہ ہو جائے یا پھر روزمرہ میں تبدیلی آجائے، خاص طور پر خواتین تو شیریںمزاری کے ساتھ غمرازی کے لئے نئے حوالوں سے کام لیں گی ، مثلاً کوئی انہیں ملاقات کے دوران ان کے غم میں شریک ہونے کیلئے اس قسم کا جملہ ادا کر سکتی ہیں، ہائے ، بڑا افسوس ہوا تمہارے جھمکے کا سن کر ،یقین کرو، جس روز تمہارا جھمکا گرا تھا اس روز میرے میاں کے پھوپھا کے سسرال میں ایک ڈیتھ ہوگئی تھی، ہم سب گھر والے بہت غمزدہ تھے، سوگ منارہے تھے مگرتمہارے جھمکے کا سن کر میرا ذاتی غم دوچند ہوگیا تھا بلکہ سچی، میں تو اپنے اس عزیز کا غم ہی بھول کر تمہارے دکھ کا احساس کرنے لگی تھی، کتنا کیوٹ جھمکا تھا، مجھے بہت پسند تھا اور میں نے بھی اپنے میاں سے کہہ دیا تھا اب کی بار میری شادی کی سالگرہ پر تحفہ دینا ہوتو شیریں مزاری کے جھمکے جیسا ہونا چاہیئے۔اسی اثناء میں کہیں سے فون کال پر ایک اور خاتون یوں بھی گویا ہوسکتی ہیں، ہائے شیریں، تمہیں پتہ ہے ، میں دبئی شاپنگ کیلئے گئی تھی ،وہاں نئے ڈیزائن کے زیورات کی عالمی نمائش ہورہی تھی ، ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت ڈیزائن کی جیولری ،میں بہت خوش تھی ، مگر جیسے ہی تمہارے جھمکے کی گمشدگی کی خبر سنی ، یقین جانوں دل بہت خفا ہوا، ساری شاپنگ کرکری ہوگئی۔ وہ تمہارے جھمکے کا ڈیزائن میرے ذہن میں تھا میں چاہتی تھی کہ اگر ویسے ڈیزائن کا سیٹ مجھے بھی مل جائے تو ضرور خریدوں گی مگر کہاں شیریں!! وہاں تو بس کیا بتائوں ،اتنے خوبصورت جھمکے موجود نہیں تھے ، بہت دکھ ہوا، چلو کوئی بات نہیں ، ایسا ہوجاتا ہے ۔اہل مغرب نے اس کا بہت آسان حل نکال لیا ہے، وہاں طویل عرصے سے سونے چاندی کے زیورات کا استعمال ترک کر دیا گیا ہے، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اب وہاں دو طبقے بن چکے ہیں ، ایک تو بہت ہی مالدار طبقہ ہے جو انتہائی قیمتی جیولری کا استعمال کرتا ہے یعنی ہیرے جواہرات سے مزین ایسے زیورات جو پلاٹینم میں جڑے ہوتے ہیں اور ان کی قیمت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے ، اس قسم کے زیورات ایک خاص طبقے تک محدود رہتے ہیں اور عورتیں انہیں بنکوں کے لاکرز میں سنبھال کر رکھتی ہیں ، تاہم یہ طبقہ بہت ہی کم ہے جبکہ دوسراطبقہ عام لوگوں کا ہے جو مصنوعی زیورات اور نیم قیمتی پتھروں یا پھر ان سے بھی کم درجے کے مصنوعی پتھروں سے بنائے جاتے ہیں، اور عام پہناواہوتا ہے ، جن کی نہ چوری کاڈر ہوتا ہے نہ ضائع ہونے کا غم، یعنی اگر اس قسم کے زیورات کہیں کھو بھی جائیں تو کسی کے غمزدہ ہونے کا خطرہ بھی نہیں ہوتا بلکہ وہ بقول غالب کہہ دیتا ہے

اور لے آئیں گے بازار سے گرٹوٹ گیا

جام جم سے یہ مراجام سفال اچھا ہے

ویسے بھی سمجھدار لوگ زیورات سے اپنے جسموں کو سجانے والوں کو یہی مشورہ تو دیتے رہتے ہیں کیونکہ زیورات کی وجہ سے ان کے دل سخت ہونے کا اندیشہ بھی تو ہوتا ہے ، اور ان کو تکبر اور غرور گھیر لیتا ہے ، اس حوالے سے ایک واقعہ چند برس پہلے ہمارے سننے میں آیا ، کہ ہمارے عزیزوںمیں سے کچھ لوگ فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے ایک گروپ کی صورت میں گئے تھے، ان میں ایک خاتون زیادہ دولتمند تھی، انہوں نے وہاں سونے کے زیورات زیادہ ہی خرید لئے تھے اور اپنی ہمسفر رشتہ دار خواتین کے سامنے بار بار ان کی نمائش کرتے ہوئے تفاخر کا اظہار کرتی رہتی تھیں، اور ساتھ جانے والی نسبتاً غریب خواتین کو طنزیہ انداز میں دیکھتی تھیں، شاید ایسی خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کسی شاعر نے کہا ہے

نہ اپنے جسم پہ اتنے جواہرات سجا

جو ہو سکے تو محبت سے اپنی ذات سجا

متعلقہ خبریں