Daily Mashriq

ایک ٹیلی فون کال کی تلملاہٹ

ایک ٹیلی فون کال کی تلملاہٹ

ملک بھر میں پانچ فروری کو کشمیرکی جدوجہد تحریک آزادی کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منانے کی روایت کو اب تین عشرے ہونے کو ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ اسی تسلسل میں پانچ فروری سے چند دن پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سری نگر میں حریت کانفرنس کے راہنما میرواعظ عمرفاروق کو براہ راست ٹیلی فون کیا اور انہیں مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے حکومت کی کوششوں سے آگاہ کرنے کے ساتھ یہ یقین دلایا کہ پاکستان ہر مرحلے پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔اس ٹیلی فونک گفتگو کے بعد بھارت کی تلملاہٹ اور کسمساہٹ دیدنی تھی۔بھارتی وزارت خارجہ نے دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود کو طلب کرکے اس براہ راست بات چیت پر ردعمل کاا ظہار کیا اور اسے بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ۔پاکستان نے جواباََ بھارت کے ہائی کمشنر اجے بساریہ کو دفتر خارجہ طلب کرکے اس اعتراض کو مسترد کیا اور کہا کشمیر بھارت کا اندرونی نہیں بلکہ مسلمہ عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت چاہتا ہے۔میرواعظ عمر فاروق نے شاہ محمود قریشی کی ٹیلی فون کال پر بھارت کی تلملاہٹ کو بلاجواز قراردیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس تنازعے کا ایک فریق ہے اورکشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہا ہے۔ماضی میں پاکستان سے جانے والے حکام اور دہلی میں مقیم ہائی کمشنر اور سفارت کار کشمیرکی حریت پسند سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں ۔بھارتی حکومت ان ملاقاتوں پر تائیدی خاموشی اختیار کرلیتی تھی ۔واجپائی اور من موہن سنگھ کے ادوار میں بھارت خود حریت کانفرنس کی قیادت کو پاکستان روانہ کرتا رہا اور یہاں ان کی ملاقاتیںپاکستان کے حکام کے ساتھ اعلانیہ ہوتی رہی ہیں ۔بھارت جب حریت قیادت کو اسلام آباد کے دورے کی اجازت دیتا تھا تو یہ مذاکرات اور روابط کی سہولت کاری ہی ہوتی تھی ۔واپس جا کر بھارت کی خفیہ ایجنسیاں اور ادارے ان راہنمائوں سے پوچھ گچھ نہیں کرتے تھے کہ انہوں نے اسلام آباد کا دورہ کیوں کیا اور کس سے ملاقات اور کیا بات کی ؟ میرواعظ عمر فاروق اسے تکونی مذاکرات کا نام دیا کرتے تھے ۔ان کا کہنا تھا حریت قیادت مختلف اوقات میںدہلی اور اسلام آباد سے مذاکرات کررہی ہے اور یہ سہ فریقی کی بجائے مذاکرات کا تکونی انداز ہے مگرپھر وقت کچھ اس انداز سے بدل گیاکہ نریندر مودی کے دور میں بیتے کل کا یہ خوب ناخوب بن کر رہ گیا اوربھارت کو ان ملاقاتوں پر اعتراض ہونے لگا اور عملی طور پر اس طرح کی ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔اب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ڈنکے کی چوٹ پر نہ صرف حریت قیادت سے براہ راست ٹیلی فون پر بات کی بلکہ میرواعظ عمر فاروق نے بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کی بجائے پوری قوت کے ساتھ اپنے فیصلے کا دفاع کیا جو اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان اور کشمیری قیادت حالات سے مایوس ہونے کی بجائے زیادہ پراعتماد ہیں ۔انہیں ایک دوسرے کے ربط وتعلق میں بھارت کی بے چینی اور اعتراض کی کوئی پرواہ نہیں۔نریندر مودی پاکستان اور کشمیر کی حریت پسند قیادت کے ساتھ مذاکرات کریں یا نہ کریں پاکستان اور کشمیریوں کے درمیان مذاکرات اورمشاورت کا عمل جاری رہے گا ۔پاکستان کی موجودہ حکومت بھارت کو مسلسل دعوت مذاکرات دے رہی ہے مگر اب تھک کر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ بھارت کے انتخابات سے پہلے بھارت کی طرف سے کسی مثبت جواب اور رویے کی توقع نہیں ۔اس لئے پاکستان نے کشمیر پر اپنا کردار جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ بھارت کو مذاکرات کی بار بار کی پیشکشوں سے حکومت بھی بے وجہ کمزوری اور بچھے جانے کے طعنوں کی زد میںآتی جا رہی تھی ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی میرواعظ عمر فاروق کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو بھی اس تاثر کو دور کرنے کی کوشش ہے کہ حکومت پاکستان اپنا موقف نرم کرکے بھارت سے مذاکرات پر یقین رکھتی ہے ۔گویا کہ دعوت ِمذاکرات اپنی جگہ اور قومی موقف اور پالیسی کا اظہار اور اس پر کاربند رہنا قطعی دو الگ معاملات ہیں۔اسلام آباد اور سری نگر کے درمیان اس تعلق اور روابط پر بھارت کا موقف حد درجہ مضحکہ خیز ہے ۔خدا جانے کشمیر کب سے بھارت کا اندرونی مسئلہ بناہے؟۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اس مسئلہ کو خود اقوام متحدہ میں لے گئے تھے اور اقوام متحدہ میں یہ درخواست جس دن قبول ہوئی تھی اسی دن کشمیر دوطرفہ کی بجائے بین الاقوامی مسئلہ بن گیا تھا ۔اس کے بعد سے بین الاقوامی برادری اس مسئلے کے حل کے لئے پاک بھارت مذاکرات میں ایک خاموش یا اعلانیہ کردار ادا کرتی رہی ۔پاکستان،بھارت اور کشمیری اس تنازعے کے تین فریق ہیں اور کشمیر ی عوام کا کردار سب سے اہم اور بنیادی ہے اوراس وقت کشمیر ی عوام بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں اور پاکستان ایک معاون اور وکیل کے طور پر ان کی مدد کرکے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں اور تقسیم برصغیر کے اصول کے تحت اپنے اس کردار سے روگردانی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

متعلقہ خبریں