Daily Mashriq

سانحہ ساہیوال۔۔۔۔چند سوالات

سانحہ ساہیوال۔۔۔۔چند سوالات

پچھلے بیس دنوں سے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے ساتھ سوشل میڈیا اور گلی محلوں کی بیٹھکوں میں سانحہ ساہیوال سب سے زیادہ زیر بحث آنیوالا معاملہ ہے۔ چار انسان اس سانحہ میں موت کا رزق بنا دئیے گئے' دو بچے زخمی ہوئے۔ سرکار اور اداروں کے موقف میں درجن بھر بار تبدیلی آئی۔ اب ایسا لگتا ہے کہ کسی سطح پر فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ '' مٹی پائو'' پروگرام پر عمل کیا جائے۔ جے آئی ٹی کو بیان دیتے ہوئے گرفتار سی ٹی ڈی اہلکاروں نے کہا' مرنے والے ہماری فائرنگ سے نہیں بلکہ اپنے موٹر سائیکل سوار دہشت گرد ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ یہ موٹر سائیکل کی کہانی بھی دلچسپ ہے جس روز یہ سانحہ ہوا تھا آئی جی پنجاب کے دفتر سے جاری ہونے والے ابتدائی بیان میں کہا گیا' قادر آباد ٹول پلازے سے کچھ فاصلے پر کالے شیشوں والی ایک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی گئی کار سواروں کی فائرنگ اور جوابی فائرنگ سے چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ آئی جی آفس سے قبل سی ٹی ڈی کہہ رہی تھی ایک کار کو رکنے کا اشارہ کیاگیا کار سواروں نے فائرنگ کردی جوابی فائرنگ میں چار ا فراد جاں بحق ہوگئے اور تین موقع سے فرار ہونے میں کامیاب۔ کار میں سوار تین بچوں کو بچا لیا گیا۔ سی ٹی ڈی کے اس موقف کی چند ہی لمحوں میں سوشل میڈیا میں دھجیاں اڑا دی گئیں۔ سوال ہوا '' آلٹو گاڑی میں تین بچوں سمیت 10افراد کیسے سوار ہوسکتے ہیں؟'' اس سوال کے بعد آئی جی آفس کا وہ پریس ریلیز سامنے آیا جس کا بالائی سطور میں ذکر کر چکا۔ درمیانی لمحوں میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ دہشت گرد لاہور سے بچے اغواء کرکے لے جا رہے تھے۔ یہ موقف موقع پر کارروائی کرنے والے سی ٹی ڈی اہلکاروں کے حوالے سے نشر ہوا۔ دو گھنٹے بعد ایک نیا دعویٰ سامنے آیا۔ کار سوار دہشت گردوں کو روکے جانے پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا کار میں سوار دہشت گرد مارے گئے جبکہ موٹر سائیکل پر سوار ان کے دو ساتھی عبدالرحمن وغیرہ فرار ہوگئے۔

اس شناختی کمال کی داد دینا پڑتی تھی لیکن بعد ازاں ایک اور بات سامنے آگئی۔ دہشت گرد عبدالرحمن اپنے ساتھی سمیت کار میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے ذ یشان جاوید کے گھر لاہور میں مقیم تھا جیسے ہی اسے ساہیوال واقع کی اطلاع ملی وہ ساتھی سمیت وہاں سے بھاگ نکلا۔ گوجرانوالہ میں اپنے تعاقب میں موجود سی ٹی ڈی اہلکاروں سے فائرنگ کے تبادلے کے بعد دونوں نے خود کو اڑا لیا۔ موٹر سائیکل پر قادر آباد ناکے پر تو 3افراد سوار تھے دو کے نام دئیے گئے تیسرے کو نامعلوم کہا گیا' پھر یہ بتایا گیا کہ وہ ذیشان کے گھر مقیم تھے۔ سوال یہ ہے کہ وہ تین یا دو موٹر سائیکل سوار قادر آباد سے واپس لاہور ذیشان کے گھر تک کیسے پہنچے؟ پولیس نے سو کلو میٹر سے زائد کے اس سفر میں انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کیوں نہ کی؟ کڑوا سچ یہ ہے کہ موٹر سائیکل سواروں والی کہانی خود ساختہ تھی اس میں جتنے بھی رنگ بھرے گئے وہ مصنوعی تھے۔ ساہیوال اور گوجرانوالہ میں وقوعوں کے مقامات پر کرائم سین صاف کرنے میں جلد بازی کیوں کی گئی؟ کیا چھپانا مقصود تھا؟ حکومت کہہ رہی ہے 72گھنٹوں میں افسران کو معطل کیا اور اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ بہت اچھا کیاگیا لیکن جس ایس ایس پی نے شوٹ ٹو کل (مار دو زندہ کوئی نہ بچنے پائے) کا حکم دیا اسے کیوں گرفتار نہ کیا گیا۔ بیس دن گزر جانے کے بعد بھی کار کی ڈگی سے برآمد کیاگیا اسلحہ اور خود کش جیکٹس کہاں آرام کر رہے ہیں؟ جس ذیشان کو دہشت گردوں کا اب سہولت کار کہا جا رہا ہے پہلے اسے داعش پنجاب کا نائب امیر کیوں قرار دیاگیا؟ داعش پنجاب کے اس مبینہ نائب امیر کا ماضی کیا ہے' کتنے مقدمات اس کے خلاف درج ہوئے تھے ' وہ کن کن کالعدم تنظیموں میں سرگرم رہا؟ ان سوالوں کا جواب دینے سے گریز کی صرف ایک وجہ ہے وہ یہ کہ ایک جھوٹ چھپانے کے لئے سو جھوٹ بولے جا رہے ہیں ورنہ لازم تھا کہ اپنے ابتدائی دعوے کے حق میں دستاویزاتی شہادتیں سامنے لائی جاتیں۔ اس سارے معاملے میں سب سے مشکوک کردار سی ٹی ڈی کے ایک ایس ایس پی قمر جواد کا ہے۔ آپریشن اس کے حکم پر ہوا یہ حضرت قادر آباد ناکہ پر اپنا عملہ تعینات کرکے خود کچھ فاصلے پر تھانہ یوسف والا میں ایس ایچ او کے کمرے میں ہائی ٹی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پہلی فائرنگ کے بعد اہلکاروں نے اس ایس ایس پی کو فون کرکے بتایا تھا کہ کار سواروں کے خلاف آپریشن کردیاگیا اور اس نے دوسرا حکم دیا کہ اگر کوئی زندہ ہے تو اسے ''فارغ'' کردیا جائے؟ یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ پولیس نے پہلی بار جو فائرنگ کی اس سے کار کے ٹائر برسٹ ہونے کے ساتھ اندر موجود سات میں سے 6افراد زخمی ہوچکے تھے ۔دوسری فائرنگ میں دو مردوں اور دو عورتوں کو تاک کر نشانہ بنایا گیا۔ تیسری بار فائرنگ اس وقت کی گئی جب اہلکاروں نے دو خواتین' ماں اور 13 سالہ بچی کے نیچے دبے تین معصوم بچوں کو گاڑی سے نکال لیا تھا۔ یہاں کہانی میں ایک موڑ ہے وہ ہے زندہ بچ جانے والے بچے کا بیان وہ کہہ رہا ہے کہ گاڑی سے ہم چار بہن بھائیوں کو نکالا گیا میری بڑی بہن بھی زخمی تھی پولیس والوں نے کسی کو فون کیا اور پھر باجی کو دوبارہ گاڑی میں ڈال کر فائرنگ کردی۔ سی ٹی ڈی' آئی جی پنجاب آفس' پنجاب کے وزرائے کرام سانحہ ساہیوال پر ابتداء ہی سے بڑ بولے پن میں مصروف تھے۔

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں