Daily Mashriq


بند دکان کریں ، بے خبری پیشہ کریں

بند دکان کریں ، بے خبری پیشہ کریں

میں نے ایک آٹو رکشہ کی پشت پر لگے انسداد منشیات کی کسی انجمن کا پوسٹر دیکھا۔ میں اس پوسٹر کو اول تا آخر پڑھنا چاہتا تھا۔ مگر کیسے پڑھتا وہ رکشہ پشاور شہر کی سڑکوں پر بھاگے جارہا تھا۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ غرض گو دیوانہ ہوتا ہے سو میں نے بھی دیوانہ وار اس رکشے کے پیچھے بھاگنا شروع کردیا۔

رو میں ہے رخش عمر کہا ں دیکھئے تھمے

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

نجانے کہاں سے آگئی تھی اس عہد پیری میں جوانوں جیسے دوڑنے کی طاقت۔اچھی خاصی دوڑ دھوپ کے بعد میں اس بھاگتے رکشے کو ہاتھ کے اشارے سے روکنے میں کامیاب ہوگیا۔ رکشہ والا سمجھا کہ یہ جودوڑ رہا تھا کوئی پاگل ہے یا رکشہ میں بیٹھ کر کہیں جانا چاہتا ہے ۔ لیکن جیسے ہی اس نے رکشہ روکا میں نے اس سے کہیں جانے کے نرخ بھاؤ طے کرنے کی بجائے اس سے رکشہ کے پیچھے لگے اشتہار کو پڑھنے اور اس اشتہار کی فوٹو کاپی اپنے موبائل سیٹ میں سیو کرنے کی اجازت مانگی۔ وہ میری اس بات کے جواب میں عجیب عجیب نظروں سے میری طرف دیکھ کر کچھ نہ کہہ کر بھی بہت کچھ کہنے لگا۔ انسداد منشیات کی اس انجمن کے اشتہار میں منشیات کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے محرک کا نام شاہد خان لکھا تھا۔ لیکن اس کا کوئی اتا پتہ یارابطہ نمبر درج نہیں تھا۔ سو میں نے اس اشتہار میں پائی جانے والی اس کمی کی شکایت رکشہ والے سے کی اور پھررکشہ والے سے ان نیک دل لوگوں کا اتا پتہ پوچھنے لگا جنہوں نے میری دکھتی رگ کا اشتہار رکشہ کی پشت پر آویزاں کر رکھا تھا۔ جی یہ بلدیہ پشاور کی یونین کونسل کے ناظم شاہد خان ہیں جنہوں نے منشیات کے خلاف مہم چلانے کا بیڑہ اٹھا کر یہ اشتہار چھپوایا ہے۔ اگر آپ ان سے ملنا چاہتے ہیں تو پشاور شہر کے ریلوے سٹیشن سے گزرنے والی دلہ زاک روڈ اور فقیر آباد کے سنگم پر ان کی رہائش گاہ اور یونین کونسل کے آفس میں جاکر ان سے مل سکتے ہیں ۔ اندھے کو کیا چاہئے۔ دو آنکھیں کے مصداق میں نے حیل کی نہ حجت اور اس کے رکشے میں بیٹھ کر پہنچ گئے اس زیر تعمیر پلازہ میں جہاں یونین کونسل کے منتخب ناظم شاہد خان کے ملنے کے امکانات تھے۔ میں رکشہ میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ میں منشیات کے خلاف بر سر پیکار اس مرد جری کے ہاتھ چوموں گا اور اسے رو رو کر اپنے جگر پارے کے منشیات زدہ ہونے کی داستان سناؤں گا۔ اس کی تنظیم کا ادنیٰ کارکن بننے کی خواہش کا اظہار کروں گا۔لیکن افسوس کہ میں وہاں پہنچ کر یہ سب کچھ نہ کرسکا کہ شاہد خان میرے پہنچنے سے پہلے ہی کسی ضروری کام سے کہیں جاچکے تھے۔ چلیں جگہ دیکھ لی یار زندہ صحبت باقی کے مصداق پھر کبھی سہی۔ لیکن بقول کسے پھر کبھی ، پھر کبھی نہیں آتا۔ میں نے شاہد خان کا ٹیلی فون نمبر حاصل کرکے ان سے رابطہ کیا۔ ایک سے زیادہ بار ان کی یونین کونسل کے دفتر اور زیر تعمیر پلازہ میں پہنچ کر ان سے ملنے کی کوشش کی لیکن شومئی قسمت سے قاضی کو شہر کا اندیشہ جیسی ان کی بے پناہ مصروفیت ہماری راہ میں آڑے آئی اور ہم پھر کبھی پھر کبھی کی گردان کرتے ناکام و نامراد واپس لوٹتے رہے۔ وہ ہم سے کھنچے ہم ان سے کھنچے بس بیچ کا دھاگا ٹوٹ گیا اور شاید ٹوٹا ہی رہتا اگر ہم روزنامہ مشرق میں یہ خبر نہ پڑھتے کہ فقیر آباد پشاور میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کرسٹل آئس یا میتھ جیسے تباہ کن منشیات کے متاثرین کے لئے سو بستروں پر مشتمل ہسپتال اور ڈرگ بحالی سنٹر قائم کردیا ہے۔ بڑے بلند بانگ دعوے کئے ناظم اعلیٰ ضلع پشاور نے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کے ساتھ مل کر فقیر آباد پشاور میں سٹیج پر برپا کئے جانے والے اس شو میں جودوسرے ہی دن ایک خبر کی سرخی بن کر روزنامہ مشرق پشاورکے صف اول پر آویزاں تھے ۔ گزشتہ حکومتوں سے تو ہم نے یہ سبق سیکھا ہے کہ وہ وعدہ کیا جو وفا ہو اور وہ دعوے ہی کیا جو پورے ہوں۔ یہ سب باتیں تادم تحریر بس باتیں ہی ہیں ہم خوابوں کی دنیا میں رہنے والے بے شمار خواب دیکھتے ہیں اور خواب وہی ہوتا ہے جس کی کوئی تعبیر نہ ہو۔ ہسپتال اور بحالی مرکز تو پہلے بھی موجود تھے جن میں سے کچھ منشیات زدہ افراد کے ستم رسیدہ وارثوں سے ان کے خون پسینے کی کمائی ہتھیا کر ان کے علاج کی ذمہ داری قبول کرتے ۔اور کچھ بحالی سنٹر ایسے بھی تھے جو منشیات زدہ افراد کی آمادگی کے بغیر ان کا علاج کرنے کی ذمہ داری نہ لیتے ۔ جب ہم کو یہ بتایا گیا کہ ہم مریض کی آمادگی کے بغیر اس کا علاج نہیں کرتے تو بڑی ہنسی آئی ان کا یہ جواب سن کر اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔

واللہ کسی شوق کے مارے نہیں پیتا

پیتا ہوں اس لئے کہ جل جائے جوانی

کی قسم کھانے والے ہوش میں کب ہوتا ہے جو اس کو آمادہ کیا جاسکے علاج کروانے پر ۔ کہنے کو تو وزیر اعلیٰ محمود خان نے ان کم نصیبوں کی ڈھارس بندھا دی جن کے بچے منشیات کی دلدل میں انکی لٹیا ڈبو چکے ہیں۔ اخبار میں چھپنے والی خبر کے مطابق فقیر آباد میں کھلا ہے یہ بحالی سنٹر اور فقیر آباد ہی میں رہتے ہیں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے یونین کونسل کے ناظم اور انسداد منشیات کی انجمن کے بانی، جن سے ٹیلیفون کرکے اس حوالہ سے معلومات حاصل کرنا چاہی تو انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ خبر نہیں ۔ان کی یہ بات سن کر زبان سے بے اختیار نکلا

کچھ کمایا نہیں بازار خبر میں رہ کر

بند دکان کریں بے خبری پیشہ کریں

متعلقہ خبریں