Daily Mashriq


حج اور سود کی کمائیحج اور سود کی کمائی

حج اور سود کی کمائیحج اور سود کی کمائی

معاشی ترقی کا پہیہ تیزی سے گھومنے کے بجائے کچھوے کی چال چل رہا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق حکومت تاحال ورثے میں ملی اقتصادی صورتحال پر نوحہ گری میں مصروف ہے اور حکومتی اقتصادی منصوبہ بندیوں میں سست روی یا مثبت پیش رفت کے خوشگوار نتائج کے بارے میں بھی متضاد بیانات اور وضاحتوں کے گرداب میں الجھی ہوئی ہے۔اس کا اظہار رواں سال حج پالیسی 2019 ء کی منظوری سے بھی لگایا جا سکتا ہے جس میں حج اخراجات میں ایک لاکھ 56ہزار 975روپے اضافے سے عازمین حج کو شدید ذہنی دھچکا لگا ہے۔

ایک تو حکومت نے حج سبسڈی ختم کردی اور کہا ہے کہ قربانی کے لیے 19ہزار 451 روپے الگ ادا کرنا ہونگے، ہر حاجی کے پاس دو ہزار ریال ذاتی استعمال کے لیے لازمی ہونا چاہئیں جب کہ رواں سال ایک لاکھ 84ہزار210پاکستانی فریضہ حج ادا کرینگے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ اجلاس میں حج پالیسی 2019کی منظوری دیدی گئی ہے، تاہم حج پالیسی کو ریویوکرتے ہوئے سہولتوں کا اعلان بھی کیا گیا، جس کے تحت کوئٹہ سے پہلی بار اور فیصل آباد سے بھی فلائٹ آپریشن ہونگے۔ حج کے لیے دس ہزار سیٹیں سینئر شہریوں کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ بائیومیٹرک کی سہولت دور دراز علاقوں میں میسر ہوگی، 10ہزار بزرگ شہریوںکوحج کوٹہ دیا جائے گا، کم آمدن والے 500 افراد کے لیے حج کوٹہ رکھا گیا ہے۔کیا خوب مر اعات کا اعلا ن کیا ہے کہ کم آمد ن والے پانچ سو افراد کے لیے مخصوص کو ٹہ بھی مقر ر ہو ا ہے جبکہ متوسط طبقہ کا فر دبھی جانے سے محروم نظر آرہا ہے ۔

حج اتنا مہنگا کیوں ہو گیا؟ وفاقی وزیر مذہبی امو ر کا کہنا ہے کہ جس نے حج کرنا ہے وہ اپنی استطاعت کے مطابق حج پر جائے ورنہ نہ جائے ہمارے وزیر اعظم تمہیں کیوں سبسڈی دیتے؟ کیا سبسڈی پر حج ہو سکتا ہے؟ جب استطاعت نہیں ہو تو حج کی خواہش ہی کیوں رکھتے ہو؟ کیا ہم بھی سابق حکومت کی طرح سبسڈی دیں؟کیا ہم بھی قومی خزانہ لٹا دیں؟ پیر صاحب کا فرمانا درست ہے ، ملکہ فرانس نے بھی تو کہا تھا کہ اگر روٹی نہیں ملتی تو کیک کھائیں۔

ہما رے یہا ں تو سب اقوال یو رپ کے ہی چلتے ہیں تو سو حج کے لیے بھی سہی۔ کیا شاندار بات وزیر مذہبی امو ر نے کہی ہے کہ سبسڈی نہ دے کر جو روپیہ بچے گا وہ عوام کی فلاح پر خرچ کیا جا ئے گا۔ چھ ما ہ سے عوام کی فلا ح کے کا م ہی تو ہو رہے ہیں کہ مہنگائی ہی مہنگائی کی ترقی عروج پر جا رہی ہے ایک د ن اس کو اوج ثریا تک پہنچا دیا جا ئے گا۔ عوام کیا جانے سبسڈی کیا بلاہوتی ہے؟انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وزیر خزانہ اسد عمر جس اینگرو میں کبھی اعلیٰ عہدے پر کام کیا کرتے تھے اسی اینگرو کو 16 ارب کی 'سبسڈی' دی جا چکی ہے جبکہ آتے ہی کھا د کی قیمت میں چار سو روپے کااضا فہ لگ سے کر دیا گیا تھا ۔

عام آدمی کا سوال یہ ہے کہ نئے پاکستان میں حج اتنا مہنگا کیوں ہو گیا اور مدینے کی ریاست میں مدینے کی مسافت اتنی طویل کیسے ہو گئی؟سوال سبسڈی کا نہیں سوال خلوص نیت کا ہے۔ کیا حکومت نے حج اخراجات کم کرنے کے لیے کوئی کوشش کی ہے؟ گزشتہ حج کے موقع پر یہاں سے ایک وفد سعودی عرب گیا اور رہائش کے اخراجات 3800 ریال سے کم ہو کر 1700 ریال ہو گئے۔ کیا موجودہ حکومت نے بھی ایسی کوئی کوشش کی؟ حج اور عمرہ کے شعبے سے وابستہ لوگوں کا دعویٰ ہے افراط زر اور مہنگائی کے تناسب سے آج حج کے اخراجات 3 لاکھ40 ہزار ہونے چاہئیں۔ حج اخراجات کم کرنے کا واحد راستہ سبسڈی تھا؟ حج پر سبسڈی دینا گوارا نہیں ہے تو فرٹیلائزر، ٹیکسٹائل وغیرہ کی انڈسٹری کے مالکان کو سرچارج کے 125ارب روپے معاف کیوں کیے گئے؟حج پر سبسڈی دی بھی جاتی تو 9 ارب کے قریب رقم بنتی ہے۔نو ارب بہت بڑی رقم ہے مگر ایک سو پچیس ارب کیسے معاف کر دیے کیو ں کہ ایک سو پچیس ارب روپے کم ہیں رپورٹ کے مطابق صرف اینگرو فرٹیلائزرز کو 16 ارب روپے کا سرچارج معاف کر دیا گیاہے۔کیو ں کہ اس میں اسد عمر کسی زمانے میں ملازمت کرتے تھے۔اگر حج صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے توپھر اینگرو انڈسٹری کو سرچارج کے16ارب روپے معاف کرنافرض عین ہو چکا کیا۔ حکومت حج کے معاملات میں سہولت نہیں دے سکتی تو حج پر اس کی اجارہ داری کیوں ہے؟حج ایک عبادت ہے اور آئین پاکستان کی رو سے حکومت پابند ہے کہ لوگوں کو اس باب میں سہولیات فراہم کرے۔اگر حکومت نے یہ کام نہیں کرنا تو مذہبی امور کی وزارت کیسی ؟ ۔

وزارت مذہبی امور حج اور عمرے کے علاوہ آخر کرتی ہی کیا ہے کیا اس کے فرائض میں چھ ما ہ سے قبل ہی حجاج سے پوری رقم لے کر اس رقم سے سود حاصل کر کے مذہبی امور کی وزارت چلائی جا تی ہے کیا سود کھا نا حرام نہیں ہے ۔ اب سوال یہ ہے اگر سبسڈی دینا گوارا نہیں تو حاجیوں کے پیسوں پر سود کھانا کیوں قبول ہے گزشتہ سال سوا تین لاکھ لوگوں نے درخواستیں جمع کرائیں۔ اتنے ہی لوگ اس سال درخواستیں جمع کرائیں تو یہ ایک کھرب اڑتیس ارب بارہ کروڑ روپے بنتے ہیں۔یہ رقم چار پانچ ماہ بنک میں پڑی رہے گی اور حکومت اس پر سود وصول فرمائے گی۔ حج کی رقم سے کیا سود کی کما ئی حلا ل ہے۔ مذہبی امور کے وزیرپیر ومر شد ہیں وہ اس بارے میں خوب تر روشنی ڈال سکتے ہیں ۔ایسا محسو س ہو رہا ہے کہ مو جو دہ حکومت جس نے برسراقتدار آتے ہی ہر سو رقم کھینچنا شروع کر دی ہے ، اس کو گما ن ہے کہ عوام کے پا س سلائی مشینو ں کی آمد نی ہے چنا نچہ سوئی دھاگے سے کام چلائے جاؤ ، اب تو لو گ یہ سوال بھی کرنے لگے ہیں کہ حج کے لیے سبسڈی نہیں دی جا سکتی تو سینما گھرو ں کو کیوں سبسڈی دی جا رہی ہے ۔

متعلقہ خبریں