Daily Mashriq


بے لگام ٹمبر مافیا

بے لگام ٹمبر مافیا

قدرتی حسن سے مالا مال ضلع دیر کے علاقے شرینگل میںجنگلات کی بے دریغ کٹائی سے دلکش وادیوں کا حسن ماند پڑنے کی مشرق میں شائع شدہ خبر اور تصویر جنگلات سے تحفظ اور بلین ٹری سونامی منصوبہ رکھنے والی حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ محکمہ جنگلات کو اس تصویر کے آیئنے میں اپنا چہرہ ضرور دیکھنا چاہیئے۔ ہمارے نمائندے نے جنگلات کی کٹائی کی صورتحال اور حالات وواقعات کی جو تصویر کشی کی ہے یہی صورتحال چترال کی بھی بتائی جاتی ہے صرف چترال اور دیر کے جنگلات ہی نہیں سوات شانگلہ کوہستان اور قبائلی اضلاع میں بھی ٹمبر مافیا پوری طرح سرگرم عمل ہے ۔ جو محکمہ جنگلات کے اعلیٰ افسران کے علاوہ مقامی سول انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک قدم آگے بڑھ کر سرکاری گاڑیاںٹمبر کی سمگلنگ میں استعمال ہورہی ہیں۔ اس طرح جنگلات سے لکڑی درگئی باڑہ اور صوبائی دارالحکومت پشاور تک بآسانی لائی جاتی ہے۔ جہاں اس سطح کی ملی بھگت ہو وہاں حکومتی اقدامات اور حکومتی عزم دونوں کے لاحاصل اور مبنی بر تکلف ہونا کوئی کہانی نہیں حقیقت ہے۔ حکومت چاہے تو ٹمبر مارکیٹ کا ایک سروے کروا کے لکڑی کی قسم اور اس کے پیداواری علاقے کی جائزہ رپورٹ مرتب کرے تو تیراہ وشرینگل اور چترال کے جنگلات کی لکڑی یکساں طورپر دستیاب ہونے کا عقدہ کھل جائے گا۔ اس قومی دولت کا ضیاع ہی المیہ نہیں بلکہ درختوں سے زمین کا سینہ خالی کرنے سے زمینی کٹائو، ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تبدیلی جیسے عوامل بھی سامنے آئے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اس قسم کے معاملات کا سنجیدگی اور سختی سے نوٹس لینا چاہیئے۔ محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام ریسٹ ہائوسز کے جھگڑے سے نکل کر اگر تحفظ جنگلات کی ذمہ داری نبھائیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔

ریاست مدینہ کی تکرار بند کی جائے

حکومت کی حج پالیسی اور اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ پر حزب اختلاف کی تنقید اپنی جگہ لیکن وزیرمذہبی امور جیسی قابل احترام شخصیت نے پشاور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس کا جو جواب دیا ہے وہ مناسب نہیں۔اولاًپاکستان ریاست مدینہ نہیں اسے ریاست مدینہ کے طرز پر استوار کرنے کیلئے یہاںاسلامی نظام کے نفاذ کی ضرورت ہوگی جس کی موجودہ حکومت ہی نہیں حزب اختلاف بھی عملی طور پر نہ تو قائل ہے اور نہ ہی اس ضمن میں اقدامات دکھائی دیتے ہیں۔ فلاحی ریاست مدینے کی ریاست میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے صرف عوام کی فلاح اور ان کو سہولتیں دینے سے فلاحی ریاست کا تصور تو ممکن ہے مدینے کی ریاست اس سے کہیںبڑھ کر ہے جہاں بھوک تکالیف اور سختیاں جھیل کر صرف اور صرف دین اسلام کا علم بلند رکھا گیا تھا۔ آج ہم میں سے کوئی ایک بھی سختیاں جھیلنے کیلئے تیار نہیں۔ حکمرانوں کے تواندازواطوار ہی نرالے ہیں جو جمہوری طرز حکومت کو ریاست مدینہ کا ماڈل بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ریاست مدینہ کا مطلب لوگوں کو مفت حج کرانا ہو یا نہ ہوریاست مدینہ میں ان افعال وعوامل کی بھی گنجائش نہیں جو آج حکمرانوں اور اس معاشرے کا وتیرہ ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ریاست مدینہ کی تکرار ترک کر کے حکومت حتی الوسع عوامی مشکلات میں کمی لانے کی سعی کرے۔ ریاست مدینہ کے قیام میں جہاد بالنفس اور جہاد بالسیف دونوں ہی اہمیت کے حامل رہے آج کے حکمران اور سیاسی قائدین اور ہم سب جہاد بالنفس یہاںتک کہ ریاضت کیلئے تیار نہیں ایسے میں ریاست مدینہ کا سوال اور مفت حج کرانے کا تذکرہ ہی بے معنی ہے۔

بہادر پولیس اہلکار کی مثالی قربانی

رامداس چوک میں رہزنوں کا تعاقب کرنے پر ٹریفک پولیس کے اہلکار کو فائرنگ کرکے شہید کرنے کا واقعہ اس بناء پر خاص طورپر توجہ کا حامل ہے کہ ٹریفک پولیس کے اہلکار نے بہادری کا مظاہرہ کرکے جان نچھاور کردی وگرنہ پولیس تاخیر سے پہنچنے اور سانپ گزر جانے کے بعد لکیر پیٹنے کے لئے مشہور ہے۔ بہادر پولیس اہلکار کے اس اقدام سے پولیس پر عوام کے اعتماد کا بڑھنا فطری امر ہوگا۔ اصولی طور پر یہ ٹریفک پولیس کے اہلکار کے بنیادی فریضے کا حصہ نہ تھا کہ وہ رہزنوں کاتعاقب کرتا لیکن اس نے ایسا کرکے اپنے محکمے کے ساتھیوں کے لئے مثال قائم کی۔ جہاں تک رہزنوں کی گرفتاری اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ذمہ داری کا سوال ہے وہ محکمے کا فرض ہے لیکن ساتھ ہی یہ امر نہایت ضروری ہے کہ دوران ڈیوٹی جان کی قربانی دینے والے کے لواحقین اور اہل خاندان کو مشکلات کا شکار نہ ہونے دیا جائے اور ان کی مروجہ مراعات کے علاوہ بھی خصوصی مدد کی جائے۔ ان کے بچوں کی تعلیم کا خاص طور پر معقول اور پہلے سے بہتر بندوبست ہونا چاہئے۔ ان کے بچے نو عمر ہوں تو ان کے کسی بھائی کو پولیس میں ملازمت دی جائے۔

متعلقہ خبریں