Daily Mashriq

وزیر اعظم کا خیبر پختونخوا کی ترقی بارے عزم

وزیر اعظم کا خیبر پختونخوا کی ترقی بارے عزم

وزیر اعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا حکومت کو کرک اور ڈی آئی خان میں پینے کے پانی کے مسئلہ کے حل کیلئے پلان تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم نے صوبہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کے بے پناہ مواقع کی موجود گی اورسیاحت کے فروغ سے نہ صرف صوبائی بلکہ قومی معیشت کو تقویت ملنے کا بھی تذکرہ کیا۔ وہ گزشتہ روز کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی سے ملاقات میں گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ عوام الناس کی زندگیوں میں حقیقی معنوں میں واضح تبدیلی لانا پی ٹی آئی حکومت کا منشور ہے، صوبہ خیبرپختونخوا کے عوام کی بہتری کیلئے پچھلے دور میں کئے جانے والے اقدامات کومزید آگے بڑھائیں گے تاکہ تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں تبدیلی کا عمل مستحکم ہو اور لوگوں کے معیار زندگی میں تبدیلی آئے۔ جنوبی اضلاع کی پسماندگی اور خاص طور پر پینے کے صاف پانی کی کمی ایک ایسا سنجیدہ مسئلہ ہے جس پر خود تحریک انصاف کے گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں توجہ نہ دینے کی شکایات ہوتی رہیں۔ ان شکایات کی تصدیق خود اس پورے علاقے بلکہ خطے کے اراکین اسمبلی کی وزیر اعظم سے ملاقات اور ان مسائل کے حل کے ضمن میں اعانت کا حصول ہے۔ ان اراکین اسمبلی کو بجا طور پر توقع ہوگی کہ وزیر اعظم وفاقی حکومت کے فنڈز اور وسائل سے ان علاقوں میں آبنوشی کی سہولت کی فراہمی اور بہتری کے منصوبے شروع کروائیں گے لیکن وزیر اعظم کے ایسا کرنے کی بجائے صوبائی حکومت کو اس ضمن میں ہدایات یقینا کوئی خوشگوار صورتحال نہیں جس پر جنوبی اضلاع کے عوامی نمائندوں کو اطمینان ہوتا۔ اس ملاقات میں کرک کا کوئی عوامی نمائندہ شامل نہ تھا حالانکہ آبنوشی کا سب سے بڑا مسئلہ کرک کے عوام کا ہے جس کے حوالے سے کرک سے ممبر قومی اسمبلی حال ہی میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات میں بات چیت کرچکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پورے جنوبی اضلاع میں اہمیت کے حامل اس مسئلے کے حل کے لئے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ کوہاٹ سے کرک ' لکی مروت' ٹانک' بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈویژن اور اضلاع بے آب و گیاہ علاقے ضرور ہیں لیکن ان علاقوں میں تیل اور گیس کے جو بے پناہ ذخائر موجود ہیں ان میں سے بعض کی دریافت اور استفادہ جاری ہے جبکہ بہت سے منصوبوں پر ابھی توجہ نہیں دی گئی۔ ٹانک میں ایک بہت بڑے منصوبے پر کام شروع ہونے کی شنید ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کوہاٹ اور کرک کے اضلاع میں خاص طور پر گیس کے ذخائر سے جو آمدنی حاصل ہوتی ہے اس کی رائلٹی اور منافع ہی اگر حکومت مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود اور مسائل کے حل کے لئے مختص کرے تو ان علاقوں کے عوام کو ان کا حق مل سکتا ہے۔ اسی طرح بنوں غلام خان سرحد سے تجارت کے مواقع کو بڑھا کر حاصل ہونے والی آمدنی سے مقامی مسائل کا حل ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ٹانک میں بڑے منصوبے کے آغاز کے لئے بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ کم از کم علاقے کے عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے۔ جہاں تک وزیر اعظم عمران خان کے سیاحت کی ترقی سے صوبے کو بے پناہ وسائل کی فراہمی کے مواقع کا سوال ہے یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع ہوں یا قبائلی اضلاع یا ملاکنڈ ڈویژن ہر علاقے میں تاریخی مقامات کی موجودگی ثقافتی طور پر قابل سیاحت ہونے کے علاوہ قدرتی مناظر کے باعث سیاحوں کے لئے خاص طور پر کشش رکھتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ گرمی کاموسم ہو یا سردی کا ان علاقوں کے اپنے اپنے رنگ اور ثقافت یکساں دلچسپی کا باعث اور سیاحت کے مواقع فراہم کرتے ہیں خاص طور پر ملاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ ڈویژن و گلگت بلتستان گرمیوں میں قدرتی مناظر اور سردیوں میں برفباری اور برفانی کھیلوںکے مواقع رکھتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی دولت سے مالا مال علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لئے اگر علاقائی وسائل ہی کو چند سالوں کے لئے مختص کرکے ان علاقوں میں سیاحت کی ترقی اور مواصلات کے ذرائع کی بہتری کے لئے اقدامات کے جائیں تو اس سے پورا صوبہ اور ملک مستقل فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کے پاس اور ملکی خزانے میں اتنی گنجائش اور وسعت تو نہیں کہ ان اضلاع کے عوامی مسائل پوری طرح سے یکبارگی کے ساتھ حل کئے جاسکیں لیکن اس سوال کا حکمرانوں کے پاس بھی کوئی جواب نہ ہوگا کہ پانچ سال صوبے پر حکومت کرنے کے باوجود ان اضلاع کے عوامی نمائندے آج بھی اس بات پر مجبور کیوں ہیں کہ وہ وزیر اعظم سے اپنے علاقوں اور حلقوں کے مسائل کے حل کے لئے رجوع پر مجبور ہیں۔ بہر حال گزشتہ راصلواة کے مصداق اب توقع رکھی جانی چاہئے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں ان علاقوں کے بنیادی مسائل کے حل میں مزید تاخیر کا مظاہرہ نہیں کریں گی اور علاقے کے عوام کو ترقیاتی تبدیلی کے عمل سے جلد روشناس کرایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں