Daily Mashriq

محکمہ انسداد دہشت گردی کے احسن اقدامات

محکمہ انسداد دہشت گردی کے احسن اقدامات

سندھ پولیس کا محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)ماہر ین نفسیات کی مدد سے صوبے کی مختلف جیلوں میں قید 300 عسکریت پسندوں کی بحالی اور ذہنی تربیت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔محکمہ انسداد دہشت گردی کے پیش کردہ اس منصوبے کے تحت زیر حراست عسکریت پسندوں کی نفسیاتی جانچ کی جائے گی جس سے ان کے عسکریت پسند ہونے کے ممکنہ عوامل کا اندازہ لگا کر ان کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جاسکیں گے۔اس حوالے سے سی ٹی ڈی سندھ پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ڈاکٹر ثنااللہ عباسی کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی سندھ نے گرفتار عسکریت پسندوں کی نفسیاتی پروفائل تیار کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا ہے۔نیشنل کائونٹر ٹیرارزم اتھارٹی (نیکٹا) کے طے شدہ پروفارما کے تحت زیر حراست عسکریت پسندوں کی پروفائل تیار کی جائے گی تاکہ نوجوانوں کو بنیاد پرستی کی طرف مائل کرنے والے عوامل کا بہتر اندازہ لگایا جاسکے۔اس ضمن میں جامعہ کراچی یا کسی اور تعلیمی ادارے کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جانے کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ ماہر سائیکالوجسٹ مستقبل میں اہم مشتبہ افراد کی ذہنی جانچ کرکے ان کی پروفائلز تیار کرسکیں۔اس پروگرام کا مقصد لوگوں میں عسکریت پسندی کے رجحان کا باعث بننے والے نفسیاتی عوامل کی نشاندہی اور ان پروفائلز کی مدد سے سندھ میں بحالی کے پروگرام کا آغاز ہے۔ان افراد کی ذہنی تربیت اور بحالی کے لیے مرکز قائم کیا جائے گا جہاں اس مقصد کے لیے انسداد دہشت گردی یونیورسٹی بنانے کا بھی منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔گرفتار عسکریت پسندوں سے چند سوالات، جیسے کہ انہیں اپنے اہل خانہ یا کسی اور کی جانب سے جسمانی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا، دھمکایا گیا، ستایا گیا، کوئی ذاتی نقصان ہوا، مالی مشکلات اور پروفارما میں شامل کچھ مزید سوالوں کی مدد سے یہ جانچ مکمل کی جائے گی۔اس سے قبل جنوری 2016 میں بھی سی ٹی ڈی نے کراچی میں اہل خانہ اور ماہر نفسیات کی مدد سے داعش سے متاثرہ دو عسکریت پسندوں کی ذہنی تربیت اور بحالی کا کام مکمل کیا تھا۔سندھ پولیس محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے ماہرین کی خدمات حاصل کرکے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی ذہنی تربیت اور ذہنی بحالی کے لئے جن اقدامات کا فیصلہ کیاگیاہے اس کی ضرورت و اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس امر کی ضرورت بہر حال ترجیح اول تھی کہ دہشت گردوں کو موقع پر گرفتار کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے اس لئے ان کو موقع پر ہی گولی مار دی جائے۔ اگر کوئی دہشت گرد زخمی حالت میں پکڑا جاتا یا پھر خوش قسمتی سے اسے گرفتار کرنے میں کامیابی ہوجاتی تو پھر ان دہشت گردوں کے جسمانی اور ذہنی علاج کا مرحلہ آتا۔موقع پر موجود دہشت گردوں کو چونکہ بد ترین قسم کے عناصر میں شمارکیاجاتا ہے اس لئے ان کی گرفتاری کے بعد قانون کے مطابق ان کو جلد سے جلد کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہوتا ہے۔ عدلیہ کے نہایت احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے غرض کیا جاسکتا ہے کہ خصوصی عدالتوں سے توقعات بوجوہ پوری نہ ہوسکیں جس کی سب سے بڑی وجہ قانون میں سقم اور کمزور تفتیش اور دیگر قانونی پیچیدگیاں تھیں۔ اس ضرورت کے تحت ہی فوجی عدالتیں قائم کی گئیں جن سے د ہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ضرورت بڑی حد تک پوری ہوئی اور دہشت گردی میں نمایاں کمی آنا دیگر سخت گیر عوامل کے ساتھ دہشت گردوں کو آخری انجام تک پہنچنے کا یقین بھی قرار پاتاہے۔ نا قابل معافی دہشت گردوں کے بعد دوسرے درجے میں قید رکھے جانے اور بالآخر رہا کئے جانے کے حامل عناصر کا مرحلہ آتا ہے جن کی تعداد محتاط سے محتاط اندازے کے مطابق بھی ہزاروںمیں ہے۔ یہ عناصر دہشت گردی کے کسی واقعے میں براہ راست ملوث تو نہیں سمجھے جاتے مگر ان کی رہائی کو بھی خطرے سے خالی نہیں سمجھا جاتا۔ لہٰذا ان کی تعلیم و تربیت اور ذہن سازی کے ساتھ ساتھ ان کو معاشرے کا کار آمد شہری بنانا بھی ہوتا ہے۔ اس ضمن میں پاک فوج کے زیر انتظام سوات اور قبائلی علاقوں میں کافی مساعی کی گئیں مگر سول حکومت کی سطح پر اس ضمن میں جامع پروگرام کے تحت امور کی کمی ہے۔ اس ضمن میں سندھ حکومت کے اقدامات کو ملک بھر میں رائج کرنے کی ضرورت ہے۔ مشتبہ عناصر کی ذہنی جانچ پڑتال کے لئے تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کے ماہرین نفسیات کے علاوہ مختلف سرکاری اداروں میں خدمات انجام دینے والے افراد کی خدمات کا حصول ہی کافی نہیں ہوگابلکہ ان عناصر کو ایسا ماحول فراہم کرنے اور ایسے سود مند کسب و ہنر بھی سکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو منفی سے مثبت میں تبدیل کرنے کو مشکلات سے بھر پور نہیں بلکہ ایسی نئی زندگی کی امید جانیں جس سے نہ صرف وہ خود آسودہ ہوں بلکہ معاشرہ بھی ان کو بخوشی قبول کرے اور وہ معاشرے میں آنے کے بعد اپنے منفی تجربات کی روشنی میں معاشرے کو اس قسم کے منفی خیالات پیدا کرنے کا باعث بننے والوں سے نجات دلانے کے لئے نجات دہندہ ثابت ہونے کو ترجیح دیں۔

اداریہ