Daily Mashriq


بلوچستان میں اصلاح احوال کے تقاضے

بلوچستان میں اصلاح احوال کے تقاضے

کچھ عرصہ توقف کے بعد بلوچستان میں تخریب کاری پر آمادہ قوتوں نے ایک بار پھر فرنٹیئر کور کی گاڑی کو نشانہ بنایا ہے جس میں ایف سی اہلکاروں سمیت چھ افراد زخمی ہوئے۔ بلوچستان میں وقتاً فوقتاً ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کو سی پیک منصوبے سے جوڑنا اس لئے غلط نہ ہوگا کیونکہ بھارت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو۔درگاہ شاہ نورانی پر حملے کے بعد یہ بات یقینی ہے کہ ان واقعات کا ہدف سی پیک منصوبہ ہے اور اس کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔مبصرین کے مطابقجب آپ خطے میں تجارت کے ایک وسیع منصوبے پر کام کرتے ہوئے اس کا مرکز بننے جارہے ہوں تو وہاں اس کے مخالفین یہ کام آسانی سے نہیں کرنے دیتے، لہٰذاس میں اچنبھے کی بات نہیںکہ ہمیں اس قسم کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ را کے نیٹ ورک چلانے والے جاسوس کی گرفتاری کے بعد اس امر میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ بلوچستان کے واقعات میں بھارتی خفیہ ایجنسی ''را''اور افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ساتھ خود بلوچستان کے کچھ اپنے لوگ بھی ملوث ہیں، جو کہ مل کر اس طرح کے حملے کرتے اور بعد میں ان کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔بلوچستان میں مکمل طور پر قیام امن کے لئے اب تک کئے جانے والے اقدامات اطمینان کا باعث ضرور ہیں لیکن ابھی اس طرح کے چھوٹے چھوٹے واقعات کی روک تھام کرنا باقی ہے۔ اس مقصد کے لئے انتظامی اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت کو سیاسی طور پر بھی احساس محرومی اور لوگوں کے مسائل کے حل پر توجہ کی ضرورت ہے جس سے بلوچ عوام کی تالیف قلب ہوسکے۔ بلوچ عوام کو ان کا حق دیا جائے تو ان کی تالیف قلب خود بخود ہوگی اسکے بعد وہ حکام سے تعاون کے لئے سنجیدہ طور پر آمادہ ہوں گے۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے سیکورٹی کو روزانہ کی بنیاد پر سخت سے سخت کرنے اور اسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو عدم تحفظ کااحساس دلانے والوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے۔

تعلیمی بورڈوں کی ناقص حکمت عملی

خیبر پختونخوا کے تعلیمی بورڈز پنجم اسسمنٹ ٹیسٹ سے انکاری نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن منسوخ اور میٹرک کی رول نمبر سلپ منسوخ کرنے پر غور ضرور کرے لیکن ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جس سے طلبہ ہراساں ہوں۔ تعلیمی بورڈوں کے ان اقدامات کی مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن ان اقدامات کو عدالت میں چیلنج کرنے سے نجی سکولوں کو ریلیف ملنے کا زیادہ امکان نظر آتا ہے۔ علاوہ ازیں نجی سکول مالکان طلبہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کریں گے حاص طور پر میٹرک کے امتحان سے طلبہ کو روکنا سنگین امر ہوگا بلکہ اس ضمن میں تعلیمی بورڈز کے حکام کی دھمکی سے ہی میٹرک کے طالب علموں اور ان کے والدین کو ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا ہوگا اور اس کے خلاف وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ سکولوں کے مالکان کے اقدام کے باعث طلبہ کو عین وقت پر میٹرک کے امتحان سے روکنا موزوں قدم نہ ہوگا اور نہ ہی ایسا کیا جاسکتا ہے ۔ اگر سکول مالکان تعاون نہیں کرتے تو ان کے سکول سیل کئے جائیں تاکہ طالب علموں کے والدین اپنے بچوں کے لے متبادل بندوبست کرسکیں۔ سرکاری سکولوں کو اس معیار کا بنا دیا جائے کہ والدین اپنے بچوں کو اعتماد کے ساتھ سرکاری سکولوں میں داخلہ دلوائیں۔ جب تک حکومت کی طرف سے کوئی متبادل کا بندوبست نہیں کیا جاتا اس وقت تک نجی تعلیمی اداروں کے خلاف سخت اقدامات کی گنجائش نہیں۔

معمر پنشنروں کو مشکل میں نہ ڈالا جائے

مزدوروں کی نمائندہ تنظیم پاکستان ورکرز فیڈریشن سمیت صوبوں کے محنت کشوں کا یہ مطالبہ قابل غور ہے کہ ای او بی آئی کو صوبوں کے حوالے نہ کیا جائے۔ ملک بھر میں محنت کشوں کی منتقلی اور اداروں کی تبدیلی اور دیگر کئی ایک وجوہات کی بناء پر اولاً ای او بی آئی کو صوبائی حکومت کے زیر انتظام کیا ہی نہیں جاسکتا۔ ای او بی آئی کے اثاثہ جات کی تقسیم اورجمع ہونے والے فنڈز کا حساب اور اس کی تقسیم ممکن ہی نہیںلگتا ۔مستزاد معمر پنشنروں کے لئے یہ امر نہایت مشکلات کا باعث ہوگا کہ وہ ریٹائرڈتو کراچی کے کسی ادارے سے ہوتے ہوں ان کی پنشن کا اجراء سندھ سے ہو رہا ہو اور وہ خیبر پختونخوا کے کسی گائوں اور قصبہ میں مقیم ہوں۔ شہر میں بھی مقیم ہوں تو کسی وجہ سے ان کو آجر ادارے اور رقم فراہم کرنے والے بنک برانچ سے رجوع کرنے کی ضرورت پڑے تو وہ کہاں کہاں مارے پھریں گے۔ صوبائی حکومتوں کو اس ضمن میں متفقہ طور پر اس محکمے کو وفاق کے پاس رکھنے اور اس کا سابقہ طریقہ کار بحال رکھنے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں اگر قانون سازی کی ضرورت پڑے تو اس میں بھی تاخیر نہ کی جائے۔

متعلقہ خبریں