بھارتی دہشت گردی اور پاکستان

بھارتی دہشت گردی اور پاکستان

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے یہ کوئی نئی بات نہیں کی کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرواتا ہے اور ان کی سرپرستی کر رہا ہے۔ اور بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کی مذمت کے پراپیگنڈے کے پس پردہ دہشت گردی بھارت کی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔ پاکستان میں سبھی لوگ اس حقیقت کو جانتے ہیں۔ آج سے نہیں سالہا سال سے یہ حقیقت عام معلومات کا حصہ ہے۔ ترجمان کے بیان میں البتہ نئی بات یہ تھی کہ سلامتی کونسل کی پابندیاں لگانے والے کمیٹی نے بھارت کی یہ تجویز مسترد کر دی کہ پاکستان میں کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کا نام القاعدہ سے تعلق کے الزام کے تحت سلامتی کونسل کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جائے۔ سلامتی کونسل کی سینکشنز کمیٹی نے بھارت کی تجویز کو بے بنیاد اطلاعات پر مبنی قرار دیا۔ بھارت کی اس ناکامی پر تبصرہ کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ درحقیقت بھارت دہشت گردی کی مذمت کی آڑ میں خود پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اس ضمن میں ترجمان نے بھارتی نیوی کے پاکستان میں زیر حراست حاضر سروس جاسوس افسر کلبھوشن یادیو کا بھی ذکر کیا ہے جسے کئی ماہ پہلے بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پاکستانی ٹی وی چینلز پر اس کے اعترافی بیان کی ویڈیو بھی چلی تھی۔ لیکن پاکستان کے دفتر خارجہ نے بین الاقوامی کمیونٹی کو کلبھوشن یادیو کی سرگرمیوں اور پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اسلحہ اور سرمایہ فراہم کرنے کی مذموم کارروائیوں سے باخبر کرنے کے لیے کیا کیا یہ سوال اہم ہے۔ بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی کا بیانیہ عام کرنے میں کامیاب ہے جب کہ پاکستان مسلسل دہشت گردی کا ہدف ہے۔ پاکستان کے ملزم سیاسی رہنما برسر عام بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی کو مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ بھارت سے انہیں پاکستان میں تخریب کاری کی کوئی توقع ہے تبھی تو وہ بھارت کو آواز دیتے ہیں۔ یہ توقع کیوں قائم ہوئی ہے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ' بھتہ خوری اور دہشت گردی کے گرفتار ملزم اعتراف کر تے ہیں کہ انہوںنے بھارت میں تخریب کاری کی تربیت حاصل کی۔ وہاں انہیں پناہ کیوں ملتی ہے؟ اپنے آپ کو پاکستان کے باغی کہنے والے لیڈر اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے کچھ عناصر پاکستان سے فرار ہو کر بھارت چلے گئے ہوں گے۔ جہاں انہوں نے تخریب کاری کی تربیت بھی حاصل کی ''ہوگی''۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کسی دہشت گردی اور تخریب کاری کے نیٹ ورک کی موجودگی کے بغیر تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہونے والے پاکستانی بھارت میںتربیت کا اعتراف کرتے ہیں۔ بھارت کا رویہ ایسے شخص کو بھارت کا افسر اعلیٰ یعنی وزیر اعظم منتخب کرتا ہے جسے دنیا گجرات کا بوچڑ قرار دیتی ہے۔ اور وہ وزیراعظم گجرات میں حکمرانی کے دوران مسلمانوں کے قتل عام پر کسی پچھتاوے یا افسوس کا اظہار نہیں کرتا۔ بھارت کے اس انتہا پسند سوچ کو وزارت عظمیٰ تک لانے میں یہ بات واضح ہے کہ بھارت پاکستان دشمنی اور مسلمان دشمنی میں ہر حد پار کر سکتا ہے۔ ساری دنیا دیکھتی ہے کہ نہتے کشمیریوں کی پرامن جدوجہد پر بھارتی فوج گولیاں برساتی اور چھرے دار بندوقوں سے بیسیوں کشمیریوں کو بینائی سے محروم کر دیتی ہے اور تین سو کے قریب پرامن احتجاج کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔ یہ کوئی خفیہ کارروائی نہیں ہے جس کے ثبوت تلاش کرنا پڑیں۔یہ سب بین الاقوامی میڈیا میں نشر ہو چکا ہے۔ لیکن پاکستان جو کشمیریوں کی جدوجہد کی سیاسی ' اخلاقی اور سفارتی مدد کا دعویدار ہے کشمیریوں کے بدنوں کو داغدار بنانے ' ان کو بینائی سے محروم کرنے اور زندگی سے محروم کرنے کا مقدمہ بین الاقوامی کمیونٹی کے سامنے اس بہیمیت کے انسانی پہلو کو اجاگر کرنے کی خاطر خواہ سعی نہیں کرتا۔ کیا یہ محض ٹیکنیکل بحث ہے کہ ایک گولی سے فائر ہونے والی بندوق اور متعدد چھرے فائر کرنے والی بندوق دہشت گردی ہے یا نہیں؟ انسانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا۔ ان کی جائز اور قانونی جدوجہد کو دبانے کے لیے ان کے چہرے مسخ کرنا۔ انہیں بینائی سے محروم کرنا، ان کے بدن داغدار کرنا ، کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے؟ کیا انسانیت دشمنی نہیں ہے؟ پاکستان کا فرض تھا کہ بین الاقوامی کمیونٹی کے سامنے اس انسانیت سوز کارروائی کو اجاگر کرتا اور کشمیریوں کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کی جاتی۔ گزشتہ ستمبر میں وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا ۔ اس میں کشمیریوں کی حمایت تو تھی لیکن پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بھارت کی دہشت گردی کی پالیسی کا ذکر نہیں تھا۔ اس وقت کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کو کہا جاتا ہے کہ بھارت کی دہشت گردی پر مشتمل ایک ڈوزیئر پیش کیا گیا۔ لیکن اس میں کیا تھا جو سیکرٹری جنرل کو اتنا متاثر نہ کر سکا کہ اس کے اثرات ظاہر ہوتے۔ اگر کوئی اثرات کسی وجہ سے ظاہر نہیں ہوئے تھے تو اس ڈوزیئر کی نقول جنرل اسمبلی کے ارکان کو کیوں پیش نہ کی جا سکیں۔ پھر کہا گیا کہ بھارت کی دہشت گردی کے ثبوت امریکی وزیر خارجہ کو پیش کر دیے گئے۔ یہ بھی خبر آئی کہ یہ ثبوت سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو پیش کیے جا رہے ہیں۔ کیا یہ سرگرمیاں صرف پاکستانیوں کو طفل تسلی دینے کے لیے ہیں یا ان کا مقصد بین الاقوامی کمیونٹی کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ اگر بین الاقوامی کمیونٹی کی حمایت حاصل کرنا مقصود ہے تو یہ ثبوت دنیا کے انسانی حقوق کے اداروں' دانشوروں کے اداروں' فنکاروں کی کی انجمنوں اور سول سوسائٹی کو پیش کیے جانے چاہئیں۔ اب ترجمان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کی سرگرمیوں اور بھارت کی پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کے اضافی ثبوت اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کو پیش کیے جائیں گے۔ لیکن بین الاقوامی کمیونٹی کو متوجہ کرنے کے لیے کیا کیا جائے گا؟

اداریہ