Daily Mashriq

'' قتل گاہ''

'' قتل گاہ''

پوری دنیا میں جو نہیں ہوتا وہ پاکستان میں ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں لوگ مذہب کو پیسہ کمانے کا ذریعہ بنانے سے ڈرتے تھے مبادا خدا کی پکڑ میں آ جائیں۔ اب یہ ہچکچاہٹ بھی نہیں رہی اور لوگ پیسے کی ہوس میں مبتلا ہو کر مذہب کے نام سے بھی تجارت کرنے لگے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ حجامہ سنت طریقہ علاج ہے لیکن چونکہ اس میں سرجری کا عمل دخل ہے اس لئے کوئی کوالیفائیڈ سرجن کرے تو بات ہے یہاں تو سنت طریقہ علاج کے نام پر عطائیوں نے وہ لوٹ مار مچائی ہوئی ہے کہ خدا کی پناہ۔صرف راولپنڈی، اسلام آباد میں سینکڑوں کلینک کھل گئے ہیں جن میں لوگوں کے ساتھ بدترین کھلواڑ ہو رہا ہے۔ کوئی ہلکے کٹ لگا کر سرجری کے جوہر دکھا رہا ہے کوئی گہرے کٹ لگا کر لوگوں کا ڈھیروں خون نکال رہا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس عمل میں جو اوزار استعمال کئے جا رہے ہیں انہیں سٹیئر لائیز کیسے کیا جاتا ہے، کیا بھی جاتا ہے یا نہیں؟ ابھی پچھلے دنوں میرے ایک دوست نے اپنی بیوی کا حجامہ کروایا۔ خاتون کچھ عرصے سے بیمار چلی آ رہی تھیں۔ شوہر نے سوچا کہ یہ سنت بھی پوری کر لی جائے ہو سکتا ہے اس ذریعے سے آرام آ جائے۔خاتون میں خون کی خاصی کمی تھی۔ اس پر مستزاد جس عورت نے ان کو کٹ لگائے وہ کوئی سرجن تو تھی نہیں اس لئے گہرے کٹ لگا بیٹھی جس کی وجہ سے بہت خون ضائع ہو گیا اور مرض میں بھی کوئی افاقہ نہ ہوا۔ کچھ روز بعد خاتون کی طبیعت زیادہ بگڑی تو انہیں خون کی بوتلیں لگانا پڑیں۔جس علاقے میں میری رہائش گا ہ ہے وہاں حجامہ کے چھ سات کلینک کھلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک کلینک کے پاس سے گزر ہوا تو معلومات کے لئے اندر چلا گیا۔ '' سرجن'' والی کرسی پر ایک بارہ سال کا لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا آپ حجامہ کرتے ہو؟ بولا نہیں بڑے بھائی کرتے ہیں۔ آپ تشریف رکھیں میں فون کر کے انہیں بلاتا ہوں ۔ میں نے کہا تھوڑا رکو، ابھی مجھے حجامہ نہیں کروانا صرف معلو مات لینی ہیں۔پہلے تو مجھے یہ بتائو کہ آپ کے جو بھائی صاحب حجامہ کرتے ہیں وہ ڈاکٹر یا سرجن ہیں؟ بولا نہیں۔ اچھا تو اس سے پہلے کیا کرتے تھے بولا کپڑے کی دکان پر بیٹھتے تھے۔ انہوں نے کسی ڈاکٹر یا سرجن کے ساتھ کبھی کام کیا ہو بولا نہیں؟میں نے اس کلینک کے اندر بڑی باریکی سے دیکھنے کی کوشش کی کہ شائد کوئی سند، کوئی سرٹیفکیٹ آویزاں ہو مگر اس طرح کی کوئی چیز وہاں نہیں تھی۔ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ایک صحت مند آدمی ہر چھ ماہ بعد خون عطیہ کرے تو یہ اس کی صحت کے لئے اچھا ہے۔کمزور و ناتواں آدمی کو ڈاکٹر کبھی خون نکلوانے کا مشورہ نہیں دیتے لیکن ان حجامہ سنٹرز میں کالے یرقان سمیت ہر قسم کے موذی امراض میں مبتلا مریضوں کا خون ضائع کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان امراض میں مبتلا مریضوں کا مرض حجامہ کے بعد اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے لیکن ان عطائیوں کو اس سے کیا لینا دینا،یہ لوگ تو بس پیسے کے پجاری ہیں۔ ان کے آلودہ اوزاروں سے نہ جانے کتنے صحت مند لوگ امراض خبیثہ میں مبتلا ہو رہے ہیں اور ریاست بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ اپنے لوگوں کو برباد ہوتے دیکھ رہی ہے۔وہ ریاست کہ جس پر یہ آئینی پابندی ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرے۔جو ان عطائیوں کو پکڑنے اور انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ذمہ دار ہے۔ اس ریاست میں ہمارے بچوں کو بڑی بڑی دودھ فروش کمپنیاں دودھ کے نام پر زہر یلا دودھ پلاتی ہیں۔ایسا کیمیکل ملا دودھ جس سے لاشوں کو لمبے عرصے تک محفوظ رکھا جاتا ہے۔ پردہ اعلیٰ عدالت میں اٹھتا ہے۔ جج صاحب فرماتے ہیں ، اگر ہم اپنے بچوں کو صحت مند دودھ بھی نہیں دے سکتے تو ہمیں یہاں بیٹھنے کا کئی حق نہیں۔پارلیمنٹ میں واقعے کی بازگشت سنائی دیتی ہے تو کف افسوس ملا جاتا ہے، چند بیان سامنے آتے ہیں لیکن کسی کو ہتھکڑیاں لگتی ہیں نہ حکومت حرکت میں آکر مارکیٹوںمیںپرے دودھ کے زہریلے ڈبوں کو ضبط کرنے کا حکم دیتی ہے۔

نواز شریف بیمار ہوں تو علاج باہر سے کراتے ہیں کہ پاکستانی ڈاکٹر قابل اعتماد نہیں ۔ زرداری صاحب اپنی صحت کے لئے امریکی اور برطانوی ڈاکٹروں سے رجوع کرتے ہیں ان کے لئے دبئی بھی قابل اعتماد نہیں۔ چوہدری شجاعت علاج کے لئے جرمنی جاتے ہیں۔ اور پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کے کم از کم پچاس لوگ اپنا علاج باہر سے کرواتے ہیں جبکہ عوام کے لئے ان لوگوں نے قصاب نما عطائیوں کو کھلا چھوڑا ہوا ہے۔ پورا ملک ان عطائیوں کے رحم و کرم پر ہے۔ کچھ حکیم بنے بیٹھے ہیں۔ کچھ ہومیو ڈاکٹر اور کچھ حجامہ کے نام پر لوگوں کو برباد کر رہے ہیں۔ کیا چاروں ہائیکورٹس مل کر بھی اس کا سد باب نہیں کر سکتیں؟ کیا سپریم کورٹ کے پاس اتنی طاقت بھی نہیں کہ وہ ان قصابوں سے عوام کی جان چھڑا سکے۔ انتظامیہ کو یہ حکم جاری کر سکے کہ فلاں تاریخ تک اگر ملک کے کسی حصے میں کوئی عطائی دکان کھولے بیٹھا پایا گیا تو انتظامی افسران سیدھے جیل جائیں گے۔میں نے جب یہی سوال اپنے ایک دوست کے سامنے رکھا تو کہنے لگا بھولے بادشاہ افتخار محمد چوہدری جیسا دبنگ چیف جسٹس چینی کے مقرر کردہ نرخوں پر اس کی فروخت کو زیادہ دنوں تک یقینی نہیں بنا پایا تھا تو موجودہ سپریم کورٹ انتظامیہ کو حکم جاری کر بھی دے تو اس کا بھی وہی حشر ہوگا جو افتخار چوہدری کے حکم نامے کا ہوا تھا۔
سوچتا ہوں ہم ایک جمہوری اور آزاد ملک کے باشندے ہیں یا کسی قتل گاہ میں بیٹھے اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں؟

اداریہ