Daily Mashriq


پشاور پشاور ہے

پشاور پشاور ہے

راستے وہی ہیں بس گلبہار والے فلائی اوور نے کچھ الجھن میں ڈال دیا پھر لمحہبھر بعد سمجھ میں آگیا کہ اگلے یو ٹرن سے واپسی لازم ہے۔ آپ اس یوٹرن کو ہمارے د وست عمران خان کے ''یوٹرنوں'' جیسا نہ سمجھ لیجئے گا۔ خان سیاستدان ہے مگر سیاسی مکتب کی شاگردی کے بغیر میدان سیاست میں اترنے کی وجہ سے خان نے بعض فیصلے ایسے کئے جن کی وجہ سے اسے یوٹرن لینا پڑا۔ اسکے حریفوں نے تو بس بات کا بتنگڑ بنا لیا۔ اچھے بھلے عمران خان کو یوٹرن خان کہتے ہیں۔ بری بات ہے' اختلاف کیجئے۔ ویسے یوٹرن کس نے نہیں لیا۔ بھٹو صاحب کو پھانسی چڑھوانے والے مولوی اور قوم پرست پھر ایم آر ڈی میں شامل نہیں ہوئے؟۔ اے این پی نے اپنے ''ارمانوں'' کی قاتل مسلم لیگ سے سمجھوتہ اقتدار کرکے راج محل کے مزے نہیں لوٹے؟آج فوجی عدالتوں کو انصاف کا قتل قرار دینے والے مولانا فضل الرحمان جنرل احتشام ضمیر کے دفتر میں بننے والی ایم ایم اے کے سیکرٹری جنرل اور مشرف کی سرکاری حزب اختلاف کے اپوزیشن لیڈرنہیں بنے۔ ارے صاحب یہاں سب جائز ہے مگر اپنے لئے۔ ایک پرانی کہاوت ہے ''کھوتا کھرکا سب حلال جہاں میرا نور جمال'' رہنے دیجئے یہ ہم کس طرف نکل لئے۔ ہمیں پشاور کی باتیں کرنا ہیں۔ پھولوں کے شہر پشاور کی۔ کبھی ایک دوست نے سوال کیا تھا' شاہ جی! تمہاری زندگی میں کن شہروں کی اہمیت ہے؟عرض کیا جنم دینے والی ماں کے شہر ملتان کی سب سے زیادہ' وہاں پائوں پائوں چلنا سیکھا۔ میری مادر مہربان اسی ملتان میں مدفون ہیں۔ پیر فرید (خواجہ غلام فرید) کے بقول '' میرا قبلہ کعبہ مدینہ'' پھر کراچی' جہاں چوتھائی صدی بسر ہوئی۔ محنت و مشقت کے ساتھ تعلیم حاصل کی ۔ یہیں صحافت کے کوچہ میں قدم رکھا۔ پشاور لگ بھگ بائیس سال اس شہر کے اخبارات سے حصول رزق کا رشتہ رہا۔ تین سال کی دکھ بھری جدائی کے بعد ایک بار پھر ''مشرق'' سے بطور کالم نگار منسلک ہوگیا ہوں۔ پشتون دوستوں نے مبارکباد بھرے پیغامات میں کہا' شاہ جی اپنے دوسرے گھر میں خوش آمدید۔ لاریب پشاور میرا دوسرا گھر اور تیسری محبت ہے۔ سولہ سترہ برس تک اس شہر میں رہا۔ گلیاں کوچے گھوما بہت دوست بنائے۔ ہمیشہ ان کے لئے دعا گو رہتا ہوں۔ سچے اور اجلے دوستوں کے لئے جو مجھ ہجرتوں کے مارے کے لئے فکر مند رہتے ہیں۔ پرسوں سے دو دن ادھر لگ بھگ 6 سال بعد پشاور پہنچا۔ پروگرام تو طویل تھا کہاں جانا ہے کس سے ملنا ہے مگر ''مشرق'' میں دوستوں کی محفل جمی تو وقت کا احساس نہ ہوا۔محبی سردار فنا بہت یاد آئے۔ معلوم ہوا کہ علیل ہیں۔ دست دعا بلند کیجئے اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کلام کے صدقے انہیں شفا عطا فرمائے۔ خوب مجلسی انسان ہیں' اردو پشتو اور ہندکو روانی سے بولنے والے سردار فنا کو ہزاروں اشعار' ضرب المثل اور لطیفے از بر رہے۔ ان سے 1991ء میں محبت بھرا تعلق قائم ہوا اور پھر میں جب تک پشاور رہا ان کی محبت اور مہربانیوں سے فیض یاب ہوتا رہا۔ منظر نقوی اب اسلام آباد چلے گئے ہیں۔ پروفیسر نذیر تبسم اور دیگر دوست سب کے لئے دعا گو ہوں۔ عزیزی مودے ڈیں پٹاس کو بہت تلاش کیا۔ تین برسوں پر پھیلی جدائی کا بوجھ لئے نجانے کہاں گم ہوئے۔ ''مشرق'' کے دفتر میں جاوید احمد' عزیز احمد چترالی' عباداللہ اور دیگر پرانے ساتھیوں سے محفل خوب جمی۔ عہد نو کے بانی اور ہمارے سانجھے بزرگ جناب سید تاج میر شاہ مرحوم مغفور کی یادوں نے آن لیا۔ ان کی محبت بھری انسان دوست یادوں کا تذکرہ شروع ہوا تو سب نے اپنا حصہ ڈالا۔ آغا جی مرحوم با کمال انسان تھے۔ شفیق و مہربان بزرگ اور محبت کرنے والے دوست۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ پھولوں کے شہر میں گزرے سات گھنٹے برسوں پر پھیلی جدائی کا مداوا ہر گز نہیں پھر بھی تجدید تعلق کے لئے غنیمت ہیں۔ موٹر وے سے اترتے ہی جونہی شہر کی سمت گاڑی مڑی مجھے اپنے دو شہید دوست بہت شدت سے یاد آئے۔ سید قمر عباس بخاری اور بشیر احمد خان بلور' آنکھیں نم ہوگئیں۔ اپنی اپنی ذات میں انجمن تھے۔ پشاور بلکہ یوں کہیں خیبر پختونخوا کی سیاست میں ان کے رخصت ہو جانے سے جو خلا پیدا ہوا وہ بھرنے کا نہیں۔ حاجی عدیل احمد مرحوم خدا ان کی مغفرت فرمائے صاحب علم دوست تھے۔ یادوں اور یاروں سے بھرے پھولوں کے شہر میں زندگی کے بہت سارے ماہ و سال گزرے تھے۔ شب ہجراں اور غم جاناں کے روگ بہت ۔ مجھے آج بھی اعتراف ہے کہ پروفیسر ظہور احمد اعوان اور جناب پروفیسر طہٰ خان مرحوم جیسے صاحبان علم کی قدم بوسیوں کا شرف حاصل رہا۔ بہت کچھ سیکھا ان صاحبان علم سے۔ پروفیسر طہٰ خان نے پشتو زبان کے صوفی شاعر حضرت رحمن بابا کے کلام کا منظوم اردو ترجمہ کیا۔ ایک بیش بہا علمی خزانہ دیا اردو زبان کو انہوں نے۔ میرے شفیق بزرگ سیدی حضرت سید امیر حسین شاہ گیلانی کی یادوں نے آن گھیرا۔ حضرت نے امام نسائی رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی سید ابوالحسن امام علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم پر عربی تصنیف کا اردو ترجمہ کیا تھا جس سے ہم سے طالب علموں نے فیض پایا۔ ان کی محبت اور شفقت کو زندگی کے آخری سانس تک نہیں بھلا پائوں گا۔ کیسے کیسے عظیم اور اجلے لوگ سفر حیات طے کر چکنے پر پشاور کی مٹی میں آسودہ خاک ہوئے۔ جناب پروفیسر خاطر غزنوی مرحوم اردو پشتو اور ہندکو کے با کمال شاعر کی یادیں قطار اندر قطار اترتی چلی آرہی تھیں۔ یادوں سے کو ن بھاگ پاتا ہے۔ زندہ آدمی کے لئے یادیں اور علم دونوں اثاثہ ہیں۔ طالب علم کا فخر یہ ہے کہ صاحبان علم کی یادیں سرمایہ ہیں اور ان سے ملا فیض ہمیں کچھ لکھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ گیلانی مرحوم کہا کرتے تھے حیدر بیٹے کاش دوسرے نوجوان بھی (اس وقت آتش جوان تھا) صوفیائے کرام کی تعلیمات سے رہنمائی لیا کریں۔ جب بھی ان کی قدم بوسی کے لئے حاضر ہوا شفقتوں اور دعائوں سے نوازتے۔ سات گھنٹے پھولوں کے شہر میں رہا پھر آنے کے وعدے پر رخصت ہوا۔ پشاور بھی ملتان کی طرح میرے اندر بستا ہے۔ پورا سچ یہ ہے کہ پشاور پشاور ہے۔

متعلقہ خبریں