Daily Mashriq


100ارب کے بلاسود قرضے یا کرپشن کا نیا راستہ؟

100ارب کے بلاسود قرضے یا کرپشن کا نیا راستہ؟

ہر دور میںپاکستان کی معیشت میں زراعت کو کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے کیونکہ زراعت برآمدات بڑھانے کی ضمانت اور زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ ہے۔ لیکن پاکستان میں جس قدر زراعت کو نظر انداز کیا گیا شاید ہی کسی شعبہ کو نظر انداز کیا گیا ہو، بالخصوص چھوٹے زمینداروں کے لیے تو موجودہ دور میں گزارا کرنا مشکل ہو گیا ہے ، زمین بٹتے بٹتے انتہائی کم ہو گئی ہے جب کہ خاندان وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے رہے ہیں۔ اگر زراعت اور کسان کی بحالی کی بات کی جائے تو اس کا فائدہ ان بڑے کسانوں کو ہوا جو پہلے ہی آسودہ حال تھے۔ اب پنجاب حکومت نے چھوٹے کسانوں کے لیے 100ارب روپے کے بلا سود قرضوں کا اعلان کیا ہے، دو ماہ کا عرصہ ہو چلا لیکن کسی ایک کسان کو بھی حقیقی معنوں میں قرض نہیں ملا ہے، اسی طرح کچھ عرصہ قبل وفاقی حکومت کی طرف سے بھی کسانوں کے لیے 341ارب روپے کے بڑے پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا۔ کسانوں نے دھڑا دھڑا درخواستیں دیں لیکن قرض لینے میں شاید ہی کوئی کامیاب ہوا ہو، باقی رقم کس کی جیب میں گئی کسی کو کوئی علم نہیں۔ وفاقی حکومت کی طرف سے 341ارب روپے کے پیکیج کا اعلان ہوا تو کسانوں نے موجودہ حکومت سے امیدیں وابستہ کر لیں کہ شاید ان کی قسمت بدلنے کے دن آ گئے ہیں۔ اب جب کہ پنجاب حکومت نے 100ارب روپے کے بلاسود قرضوں کا اعلان کیا ہے تو کسان پرانے وعدے بھول کر حکومت سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں کہ شاید اب کی بار ان کی سن لی جائے۔ کیونکہ خادم اعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ 100ارب روپے کے بلاسود قرضے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چھوٹے کاشتکاروں کو فراہم کیے جائیں گے اور کاشتکاروں کو سمارٹ فون بھی مفت فراہم کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے 100ارب روپے کے بلاسود پیکج کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں گندم کی بویائی کے لیے فی ایکڑ 25ہزار روپے کی تین اقساط دی جائیں گی یعنی کل 75ہزار روپے جب کہ دوسرے مرحلے میں چاول کی فصل کیلئے فی ایکڑ 40ہزار کی تین اقساط دی جائیں گی یعنی کل ایک لاکھ بیس ہزار روپے۔ تقریباً دو ماہ قبل اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے پنجاب کے چھوٹے کاشتکاروںکے لئے اس سکیم کا اعلان کیا گیا تھا۔ جس کے تحت لاکھوں کسانوں نے مطلوبہ قرض کے لیے درخواستیں جمع کرائیں۔ دو ماہ گزرنے کے بعد اب جب کہ گندم کی فصل کو پکنے میں صرف ایک ماہ کا وقت باقی رہ گیا ہے تو ابھی تک کسانوں کو قرض نہیں دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 2013کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن کی جب حکومت آئی تو پاکستان کے نوجوانوں کے لیے بھی ''یوتھ لون اسکیم'' کا اعلان کیاگیا تھا اور اس پر ڈھول پیٹا گیا تھا کہ حکومت کی ''یوتھ لون اسکیم'' کے تحت پاکستان کے نوجوان بے روزگار نہیں رہیں گے' اس لون کو حاصل کرنے کے لیے کروڑوں نوجوانوں نے حکومتی بینک کو 100روپے کے ساتھ فارم جمع کرائے تھے، اس مد میں حکومت کے پاس بلاشبہ اربوں روپے جمع ہوئے لیکن ایک عرصے کے بعد پتا چلا کہ اس اسکیم کے تحت کسی کو لون نہیں دیا جا رہا۔ شہریوں کے لئے حکومتیں وقتاً فوقتاً مختلف اسکیموں کے تحت قرض کے پیکجز کا اعلان کرتی رہتی ہیں جن کا مقصد شہریوں کووقتی بحران سے نکالنا ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں مشہور ہے کہ اپنی مرضی کے پروجیکٹس اس لیے بنائے جاتے ہیں تاکہ اپنا کمیشن کھرا کیا جا سکے۔ اپنے کمیشن کے حصول کے لیے ان لوگوں کو بھلے ملک و قوم کو گروی ہی کیوں نہ رکھوانا پڑے۔ سستی روٹی اسکیم ' نندی پور پاور پراجیکٹ کیا اس کی منہ بولتی تصویر نہیں ہے۔ قوم کے اربوں روپے رینٹل پاور پراجیکٹس پر لگا دیے گئے۔ ماضی میں چین سے ٹرین کے ایسے انجن درآمد کیے گئے کہ جب وہ انجن پاکستان آ گئے تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں موجود ٹرین کی پٹڑی پر وہ انجن چلنے کے قابل ہی نہیں ہیں یعنی ان کے سائز مختلف ہیں۔ چین سے ان انجنوں کو خریدنے اور پاکستان لانے پر قوم کی خطیر رقم خرچ ہوئی لیکن کمیشن مافیا کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ پنجاب کے کاشتکاروں کے لیے 100ارب روپے کے بلاسود قرضوں پر حکومتی بقراط ڈھول پیٹ رہے ہیں، اشتہارات کے ذریعے یا اپنے چند من پسند کاشتکاروں کو قرضہ دے کر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ جیسے حکومت نے کاشتکاروں کی قسمت بدل دی ہو جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ، اس لیے خادم اعلیٰ کو چاہیے کہ بھیس بدل کر خود ملاحظہ فرمائیں یا اپنے اعتماد والے افسران کو بھیج کر معلوم کرائیں کہ کاشتکاروں کے نام پر اعلان کردہ پیکیج سے کتنے کسانوں کو قرض دیا گیا ہے۔ اس پیکیج سے حقیقی معنوں میں کسانوں میں خوشحالی آرہی ہے یا اس منصوبے سے بھی چند لوگ ہی خوشحال ہو رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں