Daily Mashriq

نیا سال اور سوچ کا بنددریچہ

نیا سال اور سوچ کا بنددریچہ

نئے سال کی پہلی صبح جب انگلیاں لیپ ٹاپ کی سکرین پر اپنے حروف ثبت کررہی تھیں تو دیکھتا ہوں کہ سوچ کادریچہ تو ابھی وا ہوا ہی نہیں ہے ۔یہی ایک دریچہ ہی تو بچتا ہے کہ جس سے کوئی کرن پھوٹتی ہے اور آس پاس اور ارد گر د کی تاریک اشیاء اپنے وجود کا اظہارپاتی ہیں۔ دریچے پر دستک بھی نہیں دی جاسکتی کہ دریچہ خودمختار ہے جب کھل جائے اور جب بند ہوجائے اور ہم جیسوں کو بھلا سوچ کے دریچے کا قفل ابجد کب ہاتھ آیا ہے کہ یہ تو اسم اعظم ہے کہ ولیوں کونصیب ہوسکتا ہے اور ہم ٹھہرے عاصیوں کے عاصی ۔سوچتا ہو ں شاید کیلنڈرمیں ایک برس کے نئے صفحے کی تبدیلی ہی وجہ ہو جو سوچ کادریچہ خاموش ہے حالانہ صفحے کی تبدیلی بھلا کیا حیثیت رکھتی ہے ۔وہی ہندسے ایک سے اکتیس تک ، وہی پیر سے اتوار تک سات دن ،وہی جنوری سے دسمبر تک بارہ مہینے پھر بھلا فرق کیا ہے پرانے اور نئے سال میں ۔بس اتنا ہی فرق تو ہے ایک گزر گیا اور دوسرا گزرنے والا ہے ۔پچھلے برس کی آخری رات جب گھڑی کی سوئیوں نے بارہ کے ہندسے کو عبور کیا تھا نیند سے بوجھل آنکھوں کو کئی منٹوں تک انتظار کرنا پڑا تھا کہ آتش بازی اور فائرنگ کا دھوم دھڑکا تمام ہو تونیند کی سفر پر گامزن ہوا جائے ۔مگر ساتھ ہی ایک احساس تھا کہ یہ آتش بازی اور یہ فائرنگ اس برس کو الوداع کہنے کے لیے تھی یا نئے سال کے استقبال کے لیے ؟اگر گزشتہ برس کے الوداع کے لیے یہ سارا ہنگامہ تو اس ہنگامہ سے ایک تاثر لیا جاسکتا ہے کہ جیسے تیسے ہم نے ایک برس کاٹ ہی دیاہے ۔ اور اگر یہ ہنگامہ نئے سال کے استقبال کے لیے تھا تو اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ ہم نئے سال خوشیوں کے خوگر ہیں ۔ اور انسان خوشیوں کا متلاشی ہی تو رہتا ہے ۔ یہ اور بات کہ خوشیوں کے اس سفر میں خوشیاں کم ہی ملتی ہیںاور قدم قدم پر دکھ بن بلائے مہمان بن کر ساتھ چل پڑتے ہیں ۔ارزانی وفراوانی کا یہی مسئلہ ہوتا ہے کہ ہر جگہ اپنے وجود کا اظہار کردیتی ہیں ۔ خوشیاں ،سونا ،موتی اور ہیرے کی مانند ہیں کہ نہ تو ارزاں ہیں اور نہ ہی فراواں ۔انہیں تلاش کرکرکے اور کھود کھود کر نکالا جاتا ہے ۔ ایک ہی میدان میں کتنے لوگ تیشہ لیے زمین کھودتے ہیں لیکن کسی ایک کو سونا ملتا باقیوں کو مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لگتا مگر

زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی
ہاں زندگی تو کرنی ہے ۔امید کو تو زندہ رکھنا ہے اور امید کا زندہ رہنا ہی اصل حیات ہے ۔انسان کمیاب اور نایاب چیزوں کا متلاشی ہے ۔تبھی تو انسان ہے ۔ وہ زندگی کو فرہاد کی طرح تیشہ لیے کھودنے پر مائل ہے ۔یہی شاید زندگی کا مفہوم بھی ہے ۔طفل ناداں کو بھی دیکھو تو وہ ہی چاہتا ہے جو اس کا دل کرتا ہے ۔ وہ خوش رہنا چاہتا ہے تبھی تو کھیل کھلونے اسے مطلوب ہوتے ہیں ۔نادان اس لیے ہوتا ہے کہ شعور سے عاری ہوتا ہے اورطلب پر طلب رکھتا ہے ۔ شعور انسان کومحتاط کردیتا ہے لیکن اس کی طفلانہ خواہشوں کو کہاں ختم کرسکتا ہے ۔ شعور ی زندگی کے ساتھ ہی انسان ایک ایسی فینٹسی میں بسیرا کیے رہتا ہے کہ جس میں انسان اپنی خواہشوں کے پھول کھلائے رہتا ہے ۔ اسی دنیا کی طلب وہ اس حقیقی دنیا میں رکھتا ہے ۔
کون ہے جسے وہ تصوراتی زندگی حقیقت میں ملی ہو۔تصور تو انسان کا اپنا گھڑا ہوا ہوتا ہے اور تصور بہرحال تصور ہی ہوتا ہے ۔اصل حیات تو یہی ہے کہ جس میں ہم سانس لے رہے ہوتے ہیں۔ اب اس حیات کو کیسے گلزار بنایا جائے کہ یہ تو کلی طور پر انسان کے بس میں ہوتا ہی نہیں ۔وقت انسان کا دوست بھی ہے اور دشمن بھی ۔ یہی وقت انسان کو اس کی منزل کی جانب لے جاتا اور یہی وقت انسان کو منزل کے بہت قریب لاکر بھٹکا بھی دیتا ہے۔اس وقت کی دَین انتظار ہے جو امید سے جنم لیتا ہے ۔امید کا یہ انتظار وقت کے دھاگے کے ساتھ جڑا ہوتا ہے اور لمحہ لمحہ زندگی کا سفر اس منزل کی جانب ڈھلتا رہتا ہے ۔ اس ڈور کے آخری سرے کو کوئی پالیتا ہے تو کوئی اس ڈور کو اتناا لجھا لیتا ہے کہ سلجھنے کا نام ہی نہیں لیتی یہ ڈور۔یہ زندگی ایک گورکھ دھندہ ہے کون سمجھ پایا ہے اس کو ۔بس ایک انہماک ہی انسان کو سکون دے سکتا ہے۔ اب یہ انہماک کیا ہوتا ہے تو شاید ہر کسی کے لیے کچھ دلچسپ ہوتا ہے اس دلچسپی میں ڈوبنے کا نام انہماک ہے ۔ دراصل انسان کی دلچسپیاں بھی تو کہیں اندرہی سے پھوٹتی ہیں ۔ خود انسان ہی ان دلچسپیوں جیسا ہوتا ہے ۔سو ان دلچسپیوں میں انہماک خود انسان کا اپنی ذات میں انہماک ہوتا ہے ۔ اپنی ذات میںگم ہوجانا کیا کم ہے ۔2017کی بوگی زندگی کی ٹرین سے منسلک ہوگئی ہے۔پلک جھپکتے ہی یہ اپنے ٹریک پر چلتے چلتے 2018کے سٹیشن پر بالآخر رک جائے گی۔ براؤسنگ کے دوران احمد فراز کی ایک غزل نکل آئی سوقارئین کی نذر۔۔
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے نکل جائے گا
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزرجائے گا
اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا
ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں
میں نہیں کوئی تو ساحل سے اتر جائے گا
زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا
تیری بخشش تیری دہلیز پہ دھر جائے گا
ضبط لازم ہے مگردکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا

اداریہ