Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت قاضی ابوسعید مبارک کے حلقہ ارادت میں شامل ہونے کے بعد بھی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کا دل اس دنیا سے اچاٹ ہی رہتا تھا آپ چاہتے تھے کہ ایک بار پھر ان ہی بیابانوں کی طرف نکل جائیں جہاں سکوت اور ویرانی کے سوا کچھ نہ ہو۔دراصل اس گوشہ نشینی کی وجہ بغداد کے وہ سیاسی اور معاشرتی حالات تھے جنہوں نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے قلب حساس کو بہت زیادہ متاثر کیا تھا۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی نے اپنی ایک تقریر میں اس وقت کے علماء کی ظاہری حالت اس طرح بیان فرمائی ہے۔''اے علم و عمل میں خیانت کرنے والو! تم کو ان سے کیا نسبت؟ تم کھلے ظلم اور کھلے نفاق میں مبتلا ہو اے عالمو! اے زاہدو! شاہان و سلاطین کے لئے تم کب تک منافق بنے رہو گے ان سے دنیا کا زر و مال اور لذتیں لیتے رہو گے؟ تم اور اکثر بادشاہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کے مال اور اس کے بندوں کیلئے ظالم اور خائن بنے ہوئے ہیں۔ اے اللہ! تواسی بے پناہ اور بے مثال طاقت سے منافقوں کی شوکت توڑ دے اور ان کو ذلیل فرما پھر انہیں توبہ کی توفیق دے اور ظالموں کا قلع قمع فرما اور زمین کو ان سے پاک کردے یا پھر ان کی اصلاح فرما دے''۔حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی پر سوز تقریر پڑھ کر ایک عام مسلمان بھی اندازہ کرسکتا ہے کہ اس وقت کے علماء اور شیوخ کی اکثریت کس بے حسی کے ساتھ دنیا سے چمٹی ہوئی تھی اور کس بے ضمیری سے اپنی غیرت دینی کو سلاطین کے درباروں میں فروخت کررہی تھی۔ مگر اس ولی اللہ نے ایسے حالات میں بھی حق گوئی میں ذرہ بھر مصلحت کا مظاہر ہ نہیں کیا۔
حضرت بابا فرید کی دعائوں سے لاکھوں انسان فیضیاب ہوچکے تھے۔ کسی کی خاطر دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لئے تو اللہ کے کرم سے اس پر سیم و زر کی بارش ہوگئی۔ مگر خود حضرت بابا فرید کی زندگی بڑی عسرت میں گزر رہی تھی… اوریہی حال ان درویشوں کا بھی تھا جو آپ کی نگرانی میں سلوک کی منزلیں طے کر رہے تھے۔حضرت بابا فرید کثیر الاولاد تھے۔ تین بیویاں تھیں۔ ایک بار خاتون بیگم حاضر خدمت ہوئیں۔ ان کی آنکھوں سے اشک جاری تھے۔ ''بی بی! کیوں روتی ہو؟'' حضرت بابا فرید نے شریک حیات سے پوچھا۔ ''بھوک کی شدت سے میرابچہ قریب المرگ ہے۔ ''خاتون بیگم کی آواز گھٹ کررہ گئی۔ حضرت بابا فرید کے چہرہ مبارک پر ایک لمحے کے لئے عکس ملال ابھرا۔ پھر فرمانے لگے۔'' یہاں سب بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔ مرضی مولا یہی ہے اسے لے جا کر دفن کردو۔''
خاتون بیگم سنبھل گئیں۔ '' مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے میں تو صرف اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئی تھی۔'' '' مجھے خبر ہے۔'' حضرت بابا فرید نے اہل صبر کے لہجے میں فرمایا۔'' میں بیماری کے متعلق جانتا ہوں مگر علاج میرے پاس نہیں ہے۔ مسیحا کے دروازے پر دامن پھیلائو۔ وہ چاہے گا تو ا پنے بندوں کو شفا بخش دے گا۔''

اداریہ