Daily Mashriq


امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں مد وجزر نئی بات نہیں

امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں مد وجزر نئی بات نہیں

پاکستان اور امریکا کے درمیان سفارتی لب ولہجہ میں خوشگوار اعتماد پر مبنی تعلقات کا حقیقت میں کوئی وجود نہ تھا اور اگر ایسا تھا بھی تو یہ وجود نامکمل اور ادھورا تھا کیونکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی نوعیت اس معیار تک کبھی پہنچے ہی نہیں جہاں دونوں ممالک کے درمیان پراعتماد تعلقات قائم ہوتے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو اگر طرفین کی جانب سے سودے بازی تک محدود تعلقات قرار دیاجائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ جب بھی امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی امریکہ نے پاکستان کو قریب کرنے کے اقدامات کئے اور جب ضرورت باقی نہ رہی تو پھر امریکیوں نے بھی منہ موڑ لیا۔ افغانستان میں روس کی مداخلت کے بعد پاک امریکہ تعلقات اور سفید ریچھ کو الجھائے رکھنے کی حکمت عملی دونوں ملکوں کی ضرورت تھی، روس اگر پاکستان کی سرحد پر آچکا تھا تو امریکہ کیلئے بھی یہ خطرے کی گھنٹی تھی، بنا بریں دونوں ہی ممالک کو اپنے عالمی اتحادیوں کے اشتراک کیساتھ شیر وشکر ہونے کا معاملہ کرنا پڑا، جب روس پسپائی اختیار کرکے لوٹ گیا تو خود امریکہ ہی کے تربیت یافتگان امریکی اسلحہ وساز وسامان اور عسکری مہارت کیساتھ امریکہ اور سعودی عرب کو للکارنے لگے۔ امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ پیش آیا لہٰذا ایک مرتبہ پھر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت اور ضروریات کا احساس ہوا۔ القاعدہ کا شیرازہ بکھیرنے اور اسامہ بن لادن کی گرفتاری تک امریکہ اور پاکستان میں بدلتے حالات کے باعث دوریاں نظر آنے لگیں، اس کے بعد امریکہ کا ہرجائی پن پوری طرح سامنے آنے لگا اور ڈومور کے جواب میں نومور کہنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئیٹ میں امریکی قیادت کی غلطیوں اور پاکستان سے وابستہ توقعات کے پوری نہ ہونے کا معاملہ نامناسب الفاظ میں طشت ازبام کہاگیا۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے 15سالوں کے دوران پاکستان کو33 ارب ڈالر دیئے، پاکستان نے ستر ہزار شہریوں کی قربانی دیکر دہشتگردی کی وہ جنگ لڑی جسے امریکیوں نے افغانستان سے پاکستان کی سرحد کے اندر دھکیلا تھا۔ ہمارے تئیں سی آئی اے اور آئی ایس آئی کی حریفانہ سرگرمیاں روز اول سے تھیں، خاص طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغانستان میں پاکستان کیخلاف متحرک قوتوں کی سرپرستی سے سی آئی اے منکر نہیں ہو سکتی، جہاں تک اس کے علاوہ سیاسی وعسکری قیادت اوردنوں ممالک کے درمیان تعلقات کا معاملہ رہا ہے، سفارتی نمائش کا لفظ اس کی بہتر تشریح کیلئے کافی ہے۔ ویسے بھی ممالک کے درمیان کبھی بھی اس طرح کے تعلقات ممکن ہی نہیں کہ کوئی ملک تشنگی محسوس نہ کرے، یہاں تک کہ پاکستان اور چین بھی نہیں، سعودی عرب بھی نہیں کیونکہ ہر ملک کا اپنے مفاد کو مقدم رکھنا ہی حقیقت ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات پاک چین اور پاک سعودی عرب کی طرح ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، ان دونوں ممالک کا اپنے ملک کے بہترین مفاد میں ہی فیصلہ کرنا مجبوری تھی۔ امریکہ نے جتنی بھی امداد دی ہوگی اور پاکستان نے اس کا جو بھی بدلہ چکایا ہوگا وہ وقت اور ضرورت اور اس ملک کا مفاد ہوگا۔ نہ امریکا نے پاکستان کی محبت میں ڈالروں کی برسات کی ہوگی اور نہ ہی پاکستانی قیادت نے امریکہ کیلئے وہ کچھ کیا ہوگا جو توقعات سے بڑھ کر ہو، جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد کے حالات کا تعلق ہے تو ٹرمپ کا شروع ہی سے پاکستان کیلئے لب ولہجہ موزوں نہ تھا مگر اس کے باوجود پاکستان کیساتھ مختلف سطحوں پر تعلقات میں بہتری کی مساعی کی گئی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب صدر ٹرمپ نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر کی جانب سے وضع کی جانیوالی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں بھی کہا گیا تھا کہ ہم پاکستان پر اس کی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جاری کوششوں میں تیزی لانے کیلئے دباؤ ڈالینگے کیونکہ کسی بھی ملک کی شدت پسندوں اور دہشتگردوں کیلئے حمایت کے بعد کوئی بھی شراکت باقی نہیں رہ سکتی۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور اس کے رہنماؤں کیساتھ تعلقات میں بہتری آنے کے بارے میں ٹوئیٹ کی تھی۔بہر حال پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں مدوجزر نئی بات نہیں اور ٹرمپ کا حالیہ بیان بھی اسی زمرے میں آتا ہے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات دونوں ہی ممالک کی مجبوری اور ضرورت ہیں ۔ امریکی صدر کو اس امر کو مد نظر رکھنا چاہیئے کہ اتحادی ایک دوسرے کو تنبیہ جاری نہیں کیا کرتے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ تمام صورتحال کوئی غیر معمولی صورتحال نہیں اور نہ ہی امریکی لب ولہجہ پہلی مرتبہ دھمکی آمیز رہا ہے لیکن امریکی صدر کی ٹوئیٹ سنجیدہ معاملہ ضرور ہے صورتحال اس امر کا متقاضی ہے کہ ہماری سیاسی وعسکری قیادت پوری طرح یکجا ومتحد ہو کر صورتحال کا مقابلہ کیا جائے اور کوئی ایسی خلا باقی نہ رہے جس سے امریکہ کو شیر بننے کا موقع ملے امریکہ کو اس حقیقت کو جان لینا چاہیئے کہ جب تک وہ افغانستان میں موجود ہے خواہ وہ رسد کی صورت میں یا کسی اور شکل میں پاکستان سے امریکہ کو خواہی ونخواہی روابط رکھنے ہی ہوں گے۔

متعلقہ خبریں