فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو سرکاری تحویل میں چلایا جائے

فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو سرکاری تحویل میں چلایا جائے

کی جانب سے جماعت الدعوۃ اور اس کے سربراہ کیخلاف کارروائی کا عندیہ ایک ایسے موقع پر دیا گیا جب پاکستان کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت بیان سامنے آیا ہے۔ اگر سیاسی وعسکری قیادت کی جانب سے اٹھا رہ دسمبر کو اس کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا تو اس پر عملدرآمد میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے تھی۔ قبل ازیں اگر یہ عمل کر لیا جاتا تو امریکی دباؤ میں آنے کا تاثر نہ اُبھرتا، اس طرح کی کارروائیوں کیخلاف جماعت الدعوۃ کی قیادت عدالتوں سے رجوع کر کے ریلیف حاصل کر تی رہی ہے، اس مرتبہ بھی انہوں نے قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے دفاع کا اعلان کیا ہے اور عدالت سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جماعت الدعوۃ پر پابندی اور اس کیخلاف کارروائی اپنی جگہ، جماعت کی جانب سے سیاسی دھارے میں شامل ہونے اور سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کی سعی اور ضمنی انتخابات میں اس کی سرگرمیوں اور باقاعدہ طور پر اُمیدواروں کی حمایت کر کے ان کی مہم چلانے سے ان کا سیاسی رخ اختیار کرنے کی کوشش ایک مثبت امر کے زمرے میں آتا ہے مگر ان کو اس کی بھی آزادی نہ دی گئی حالانکہ اگر قابل اعتراض معاملات سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا عندیہ دینے والی اس تنظیم کو سیاسی دھارے میں شامل ہونے کا موقع دیا جاتا تو بہتر تھا۔ جماعت الدعوۃ کی فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اس کے تعلیمی ادارے اور دیگر منصوبوں کو پنجاب حکومت کی طرف سے چلانے کا عندیہ تو دیا گیا ہے مگر اس سعی کی کامیابی مشکل ہے کیونکہ اولاً تو ان کے سرکاری تحویل میں جانے کے بعد حیثیت ختم ہوگی دوئم یہ کہ اس کیلئے وسائل حکومت کو فراہم کرنا ہونگے کیونکہ عطیات دہندگان ہاتھ کھینچ لیں گے اور یوں ہر مشکل گھڑی میں پیش پیش اور معمول کے حالات میں بھی لوگوں کی خدمت کرنے والے یہ ادارے غیر فعال ہو کر رہ جائیں گے جس سے مشکل کے وقت عوام کا متاثر ہونا فطری عمل ہوگا۔ پنجاب حکومت اگر اس کے موجودہ منتظمین کو قانونی دائرہ کار میں نگرانی کیساتھ اس کا انتظام وانصرام انہی کو سونپ دے تو عوامی فلاحی کاموں کا سلسلہ کم متاثر ہوگا۔ جہاں تک اس کے مرکز کا تعلق ہے اس کی صوبائی حکومت کے کنٹرول میں لینے کے بعد جماعت الدعوۃ کی مرکزیت خودبخود ختم ہوجائیگی۔ کارروائی کی آڑ میں فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو زیادہ متاثر ہونے نہ دیا جائے صرف اس کی نگرانی کا عمل باقاعدہ بنانا چاہئے۔ بہتر ہوگا کہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی سرگرمیاں سرکاری نگرانی میںجاری رکھی جائیں اور اسے بھی دیگر فلاحی اداروں کی طرح عوام کی خدمت کرنے کا موقع دیا جائے۔
انجینئروں کی خالی آسامیاں جلد پُر کی جائیں
ذہین طالب علموں کی اکثریت میڈیکل یا پھر انجینئرنگ کی تعلیم کا شعبہ چنتی ہے، طب اور انجینئرنگ کی تعلیم پر نہ صرف طلبہ کو پوری طرح محنت کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس پر اخراجات بھی کافی آتے ہیں۔ حصول تعلیم کے بعد ڈاکٹروں اور انجینئروں کا بڑی تعداد میں بیروزگار ہونا افسوسناک مسئلہ بن چکا ہے۔ ڈاکٹر برادری اور انجینئروں کا حکومتی مراعات وسہولیات کی کمی پر اعتراض تو رہا ہے مگر اب ان کو بیروزگاری جیسے سنگین مسئلے سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اگر اعلیٰ ذہانت وقابلیت کے حامل افراد اس طرح سے مایوس ہونے لگیں گے تو لامحالہ دانش کی ملک سے فرار کی شرح بڑھے گی اور ہمارے جوہر قابل ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جائینگے۔ اسطرح کی صورتحال سے تنگ آئے ہوئے بیروزگار انجینئروںکا صوبائی اسمبلی کے سامنے مظاہرہ لمحہ فکریہ ہے۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ انجینئروں کی آسامیاں خالی ہونے کے باوجود سرکاری ادارے ان پر بھرتیوں سے احتراز برت رہے ہیں، جس کا صوبائی حکومت کو نوٹس لینا چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ سخت محنت سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنیوالے ہمارے نوجوانوں کو مایوس نہ کیا جائیگا اور حکومت انجینئروں کی تمام آسامیوں پر جلد سے جلد مروجہ طریقہ کار کے تحت خالصتاً میرٹ پر بھرتی یقینی بنائیگی۔
انتظامیہ اور پولیس کی ناک کے نیچے یہ تماشا!
گدھا گاڑیوں، چنگ چی اور رکشوں کی ریس لگا کر اس پر شرطیں لگانا جوے کی ایک قسم ہے جس کا انتظامیہ کی جانب سے نوٹس نہ لینا ملی بھگت کے تنازعے کا باعث امر ہے، صوبائی دارالحکومت میں انتظامیہ، پولیس اور ٹریفک پولیس کے ہوتے ہوئے سڑکیں ٹریفک کیلئے بند کر کے شرطیں لگا کر ریس لگانے کی آزادی حیران کن ہے، اس دوران حادثات کا رونما ہونا اور ٹریفک کا متاثر ہونا ثانوی معاملہ ضرور ہے لیکن اس سے صرف نظر ممکن نہیں۔ اس طرح کی چشم پوشی سے صوبائی حکومت کی کمزور انتظامی گرفت اور لاعلمی ظاہر ہوتی ہے جو اپنی جگہ قابل توجہ امر ہے۔ آئندہ اس طرح کی کوشش کرنیوالے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

اداریہ