Daily Mashriq

ٹرمپ کی دھمکی

ٹرمپ کی دھمکی

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تمام سفارتی آداب کے برعکس عامیانہ زبان میں پاکستان کی امریکی امداد بند کرنے کی دھمکی اچانک نہیں۔ ٹرمپ کے سابقہ بیانات بھی اسی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیتے رہے ہیں۔ یہ بھی توقع کی جا سکتی ہے کہ صدر ٹرمپ پاکستان کے بارے میں مزید سخت رویہ اپنائیں گے۔ جہاں تک امریکی امداد بند کرنے کی بات ہے پاکستان کی طرف سے گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد بار کہا جا چکا ہے کہ پاکستان امداد نہیں چاہتا بلکہ اعتماد اور وقار چاہتا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کی قربانیوں اور کامیابیوں کے حوالے سے اس کا حق ہے۔ ان قربانیوں اور کامیابیوں کو بین الاقوامی کمیونٹی پر واضح کرنے میں پاکستان کی سفارت کی ناکامی کی وجہ سے ٹرمپ کو یہ حوصلہ ملا ہے کہ اسے پاکستان مخالف رویہ کا اظہار کرتے ہوئے امریکی عوام اور بین الاقوامی کمیونٹی کے سامنے ندامت کا خوف نہیں ہوا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے کے عادی دکھائی دیتے ہیں تاہم پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں جو بین الاقوامی اہمیت کا کردار ادا کیا ہے اگر یہ امریکہ اور بین الاقوامی کمیونٹی کے عوام پر صحیح انداز میں واضح ہوتا تو شاید ایسا رویہ اختیار نہ کرتے جس میں انہوں نے پاکستان کو جھوٹا اور فریب کار کہا ہے۔ جہاں تک ان کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ امریکہ نے گزشتہ 15برسوں کے دوران پاکستان کو 33ملین ڈالر کی امداد دی ہے تو یہ بے بنیاد ہے۔ خود امریکی کانگریشنل ریسرچ کے ادارے کے مطابق امریکہ نے اس عرصہ میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف امداد کے فنڈ کے تحت 19ار ب ڈالر دینے کا وعدہ کیا جس میں سے 14ارب ڈالر ابھی تک واجب الادا ہیں۔ یہ رقم امداد کے طور پر نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اخراجات میں حصہ ڈالنے کیلئے دی گئی ہے جس میں سے ایک خطیر رقم امریکہ نے ادا نہیں کی ۔ جب کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے 65ہزار فوجی اور سویلین شہید ہوئے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کو 120ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے لیکن صدر ٹرمپ ٹوئٹر پر بات کرتے ہیں میڈیا کے سامنے ایسے اعلانات نہیں کرتے کہ جہاں انہیں اپنی بات ثابت کرنی پڑتی اور سوالوں کے جواب دینا پڑتے پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی کولیشن سپورٹ فنڈ سے حاصل ہونے والی رقوم کیلئے جنگ نہیں لڑی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی اپنی جنگ ہے جو امریکہ نے پاکستان پرمسلط کی ہے۔ روس کی افغانستان سے پسپائی کے بعد امریکہ افغانستان میں استحکام کی بنیادیں قائم کیے بغیر وہاں سے نکل جانے کے بعد یہ دہشت گردی پاکستان میں داخل ہوئی۔ پاکستانی سرزمین پر دہشت گردوںنے کمین گاہیں بنائیں جنہیں پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے ختم کیا۔ اور اب ان کے رہے سہے عناصر کی سرکوبی کیلئے آپریشن ردالفساد جاری رہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ذریعے پاکستان نے ساری بین الاقوامی کمیونٹی کو دہشت گردی سے بڑی حد تک محفوظ و مامون کیا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ اب بھی دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے باعث پاکستان سے فرار ہو کر ہزاروں شدت پسند افغانستان میں پناہ گزین ہوئے جہاں گزشتہ سولہ سال سے امریکی فوجیں مقیم ہیں۔ ان افواج نے پاکستان مخالف دہشت گردوں کو افغانستان میں کمین گاہیں بنانے سے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی کیونکہ امریکی فوجیں افغانستان میں امن قائم کرنے میں ناکامی کے بعد افغانستان کے چند شہروں میں محدود اور محصور ہیں۔ ٹرمپ نے پاکستان کی امداد بند کرنے کا ٹوئٹر بیان اس وقت دیا ہے جب جیسا کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ پاکستان یہ واضح کر چکا ہے کہ اسے امداد کی ضرورت نہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی واضح کرچکا ہے کہ پاکستان کسی کی جنگ نہیںلڑے گا۔ ٹرمپ کے ڈو مور کے جواب میں پاکستان پہلے ہی نو مور کہہ چکا ہے۔ امریکی پابندیاں ایک بار پہلے بھی 1990ء کے عشرے میں پاکستان پر عائد ہوئی ہیں اور پاکستان کے عوام نے ان کے باوجود گزارا کر لیا۔ حکومت پاکستان نے یہ صائب فیصلہ کیا ہے کہ ٹرمپ کے الزامات کا جواب شواہد اور دلائل کے ساتھ دیا جائے گا اور دنیا پر ثابت کیا جائے گا کہ امریکہ کے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ پاکستان کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش ہے جو پاکستان کی اپنی نہیں ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ جو جنگ افغانستان میں وہ سولہ سال تک نہیں جیت سکا پاکستان اس کیلئے وہ جنگ لڑے لیکن پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور پرامن ہمسائیگی کے اصول پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان کا کسی کیلئے جنگ نہ لڑنے کا اصولی فیصلہ ہے۔ صدر ٹرمپ کے مقاصد کو آگے بڑھانے کیلئے پاکستان پر دباؤ ڈالے جانے کے امکانات ہیں۔ امریکہ کا نیا اتحادی بھارت پاکستان کے خلاف لائن آف کنٹرول پر محاذگرم رکھے ہوئے ہیں۔ اس محاذ میں تیزی آ سکتی ہے لیکن بھارت کو یقین ہونا چاہیے کہ اس میں اسے نقصان ہی ہو گا۔ بھارت کی طرح پاکستان بھی ایک ایٹمی قوت ہے بلکہ بھارتی میڈیا کہہ رہا ہے کہ پاکستان کے پاس بھارت سے بہتر ایٹمی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ بھارت ایسی غلطی نہیں کر سکتا جس سے خطے میں تباہی پھیل جائے۔ جہاں تک اس کے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرین کی بات ہے وہ پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے۔ پاکستان کی فوج سرحدوں پر مستعد ہے اسلئے بھارت کو ایڈونچر کی کڑی سزا ملے گی۔ افغانستان کی طرف سے اگر بیرونی سرپرستی میں کسی ایڈونچر کی کوشش کی گئی تو اس کی سزا بھی تاریخی ہو سکتی ہے۔ ان دونوں ممالک کو یہ معلوم ہے کہ پاکستان ‘ بھارت اور افغانستان ایک جغرافیہ کے ممالک ہیں ‘ انہیں اسی جغرافیہ میں رہنا ہے ۔ اسلئے پاکستان کی طرف سے خیر سگالی کی پہل کاریوں کا مثبت جواب ہی دانشمندی ہے۔

اداریہ