Daily Mashriq

سیاسی ڈبہ فلمیں نئے سال میں بھی چلیں گی؟

سیاسی ڈبہ فلمیں نئے سال میں بھی چلیں گی؟

2017 بھی گزر ہی گیا۔ پاؤں ننگے ہیں، بینظیروں کے اور ہر بلاول دیس کا ایک لاکھ تیس ہزار روپے کا مقروض ہے۔ صورتحال قریب قریب کے دنوں مہینوں اور سال دو سال میں بدلتی ہوئی دیکھائی بھی نہیں دیتی۔ گزرے برس میں دہشت گردی کی لہر مزید 400 معصوم شہریوں کو نگل گئی۔ وفاقی حکومت کی ساری توجہ میاں نواز شریف کے مقدمات پر تھی اور مقدمات پر ہی ہے۔ نئے وزیرداخلہ احسن اقبال کو ساری دنیا کی خبریں ہوتی ہیں بس اپنے پیش رو چودھری نثار علی خان کی طرح اپنی ہی وزارت بارے کچھ پتہ نہیں، وزارت داخلہ ہے کہ چلتی جا رہی ہے خدا کے سہارے، ویسے چلنے کو تو یہ ملک بھی خدا کے سہارے ہی چل رہا ہے۔ ثبوت یہ ہے کہ کوئی شخص یا ادارہ اپنا کام تو بالکل نہیں کرنا چاہتا البتہ دیگر امور میں مہارت ثابت کرنے کی سرتوڑ کوششیں کی جاتی ہیں۔ کوششیں ریت پھانکتی ہیں اور سر وہ حسب دستور لوگوں کے ہی ٹوٹتے ہیں۔ ہمارے دوست سیدی عماد کاظمی کہتے ہیں کہ 2017 کا مقبول عام کلام مجھے کیوں نکالا؟ رہا۔ اس کلام کے خالق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ہیں، البتہ دسمبر کے آخری ہفتے میں پیر ومرشد، سید خورشید شاہ کے اس جملے کو بہت مقبولیت ملی کہ ’’نواز اور عمران دونوں لاڈلے کھیلن کو مانگیں چاند رے‘‘۔ لال حویلی والے عبدالرشید بٹ المعروف شیخ رشید احمد کی2017 والی ساری پیشنگوئیاں ڈبہ فلم ثابت ہوئیں۔ ان دنوں وہ نئی فلم کی کہانی لکھنے میں مصروف ہیں۔ عائشہ گلالئی نے تحریک انصاف (جی) بنانے کا اعلان کیا مگر اعلان میں جان پڑنی باقی ہے۔ قبلہ ممدوح ملت جنرل پرویز مشرف دہلوی سرکار ان دنوں ایسا تگڑا وکیل تلاش کر رہے ہیں جو انہیں وہ نسخہ بتائے جس کے استعمال سے وہ عدالتوں کا سامنا کرنے کے قابل ہو سکیں، وکیل اور نسخہ مل گیا تو بجا ورنہ جی بہلانے کے سامان اور بھی ہیں۔2018 کے پہلے دن وفاق نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے کر رعایا پر مہنگائی کا بھیڑیا چھوڑ دیا، ساتھ ہی یہ تسلی بھی دی کہ ابھی پیٹرولیم کی قیمتیں بھارت اور بنگلہ دیش سے کم ہیں۔ پالیسی ساز بابوؤ ان ملکوں سے زیادہ بھی قیمتیں کرلوگے تو کسی نے کیا کہنا ہے۔ عمران خان2017 میں بھی وزیراعظم نہیں بن سکے، البتہ سوشل میڈیا پر ان کا لشکر کشتوں کے پشتے لگانے میں مصروف ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو لیکر ڈاکٹر طاہرالقادری پھر ’’میدان‘‘ لگانے والے ہیں، ان کی مہربانی اور شکریہ کہ ہمارے درجن بھر پنجابی کمرشل لبرلز بیروزگاری سے بچ گئے اور اب وہ پرانی تنخواہ پر ڈھٹائی کیساتھ قاتلوں کو مسیحا ثابت کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارتے رہیں گے۔ بلاول نے اپنی والدہ محترمہ بینظیر بھٹو کی دسویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممدوح ملت پرویز مشرف کو للکارا تو مشرف نے جواب میں کہا بلاول عورتوں کی طرح میرے خلاف نعرے نہ لگائیں بلکہ مرد بن کر ثابت کریں۔ فقیر راحموں نے جنرل پرویز مشرف کو جواب الجواب ایک پیغام بذریعہ ٹوئٹر بھیجا ہے، تادم تحریر اس کا جواب نہیں آیا جونہی جواب موصول ہوا قارئیں کے استفادے کیلئے پیغام اور جواب دونوں ان سطور میں لکھ دئیے جائیں گے۔ 2017 کا سال ہمارے افغان بھائیوں کیلئے پچھلے تاریک اور خونی سالوں جیسا ہی ایک سال ثابت ہوا۔ اللہ ان پر کرم کرے اور افغانستان میں امن وخوشی کا دور دورہ ہو۔ اچھا ویسے کہنے والے کہتے ہیں کہ وزیراعظم عباسی نے ’’کہیں کسی سے‘‘ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ21 جنوری تک حکومت اور اسمبلی کو چلتا کر دیں گے۔ پہلو میں دل کی طرح21 جنوری کا شور بہت ہے دیکھتے ہیں پردہ غیب سے کیا ظہور ہوتا ہے۔پچھلے برس عالمی سطح پر دو ہی شخصیات کے بڑبولے پن کو ’’سند‘‘ ملی، اولاً امریکی صدر ٹرمپ اور ثانیاً پاکستان کی سابق دختر اول مریم نواز کو، اُمید ہے کہ 2018 میں ان دونوں کا ریکارڈ برقرار رہے گا۔ اس کے ٹوٹنے کی یا یوں کہہ لیجئے کہ ریکارڈ کے ’’مٹنے‘‘ کی واحد صورت یہ ہے کہ گھانا امریکہ پر حملہ کرکے قبضہ کر لے اور گھانا کا صدر امریکہ کا وائسرائے ہو، مریم نواز کے ابو جان وہ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں جس کے وہ اپنی صاحبزادی کے سمدھی چودھری منیر رحیم یار خان والے کے توسط سے بذریعہ عرب امارات ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ خیر ہم ہندی مسلمانوں کی عقیدتوں کے گھٹالے بہت ہیں کبھی کبھی ان عقیدتوں پر حیرانی ہوتی ہے۔معاف کیجئے گا کچھ سطور زیادہ سنجیدہ ہوگئیں پھر سے ہلکے پھلکے انداز میں بات کرتے ہیں۔ 2018 میں کھڑکی توڑ انتخابات کی اُمیدوں سے بندھے ہوئے لوگوں کی تڑپ دیدنی ہے۔ مگر اس سے زیادہ تڑپ ان کی دیکھنے والی ہے جو اُمیدوں پر مچل رہے تھے کہ وہ وزیر شزیر بننے والے ہیں۔ پردہ غیب سے کیا برآمد ہو اس بارے آج کل کچھ سیاپا فروشوں نے نجومیوں سے رابطہ کر لیا ہے۔ نجومی بابے اور بابیاں اپنی ہی دھن میں مگن ہیں۔ فقیر راحموں کا خیال ہے کہ اکثر نجومی بابے اور بابیاں شیخ رشید کے مرید ہیں اور ان کے علم نجوم کا وہی حال ہے جو شیخ کی باتوں کا ہے۔ حرف آخر یہ ہے کہ کچھ لوگوں کا دعوی ہے کہ شریف خاندان کے تین افراد شہزادہ طلال اور ایک اور شہزادے کی بھارت میں انوسٹمنٹ کے حصے دار ہیں۔ ذاتی طور پر ان لوگوں کی باتوں اور اطلاعات پر جی نہیں مانتا۔ ماننا نہیں چاہئے، بہرطور دعا کیجئے کہ امسال پچھلے سال جیسے حالات کا ذائقہ نہ چکھنا پڑے۔ نیا سال جمہوریت، سماج، معیشت کیلئے اچھی خبریں لائے۔

اداریہ