Daily Mashriq

مسیحائوں کا بے نقاب چہرہ

مسیحائوں کا بے نقاب چہرہ

دفعہ کالم میں طب کے شعبے سے متعلق مراسلات کا چناؤ کیا گیا ہے، حسن اتفاق سے ان مراسلات ہی میں مسائل کی نشاندہی اور ان کی وجوہات اس طرح سے بیان کی گئی ہیں کہ مسائل پوری طرح اُجا گر ہونے کیساتھ ان کے حل کی ضرورت بھی پوری ہوتی ہے، کہ اگر ان بنیادی معاملات میں بہتری لائی جائے اور خاص طور پر سینئر ڈاکٹرز اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ایمانداری کا مظاہرہ کریں تو کئی ایک مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے۔ خیبر پختونخوا حکومت بلاشبہ فنڈز بھی دیتی ہے اور انتظامی بہتری کیلئے بھی کوشاں رہتی ہے مگر سینئر ڈاکٹرز اس کی ایک چلنے نہیں دیتے گوکہ سارا الزام سینئر ڈاکٹروں کو نہیں دیا جاسکتا لیکن آج کے دستیاب مواد میں وہی کٹہرے میں دکھائی دیں گے۔ ایک خاتون ہونے کے ناتے اس بات کا خاص طور پر افسوس ہے کہ یہاں عورت ہی عورت کی دشمن ہے کا مقولہ درست ثابت ہوجاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک مسئلہ آپ کی توجہ اور توجہ کے نتیجے میں ایک بھرپور کالم کا تقاضہ کرتا ہے۔ اُمید ہے آپ ایک خاتون صحافی ہونے کے ناتے اس مسئلہ کو کماحقہ اُجاگر کریں گی۔مسئلہ ہے ایک انتہائی ظلم کا، جس میں ظالم بھی خواتین اور مظلوم بھی خواتین ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ یہ ظالم اور مظلوم خواتین کوئی ان پڑھ جاہل نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایک نہایت مقدس پیشے سے وابستہ ہیں، ظالم طبقہ اس مسئلہ میں وہ خواتین ڈاکٹرز ہیں جو گائنی کے پروفیسرز (CPSP) ہیں۔ تدریسی ہسپتالوں میں گائنی وارڈز کے انچارج ہیں اور کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز آف پاکستان کے منظور شدہ ٹریننگ سپروائزر ہیں۔ مظلوم طبقہ وہ خواتین ڈاکٹرز ہیں جو بحیثیت ٹرینی میڈیکل ان کیساتھ منسلک ہیں اور عرصہ چار سال(TMO) آفیسرPCPS-ll تک ظلم کی چکی میں پستی رہتی ہیں چونکہ چار سال بعد کے امتحان میں ان مظلوموں کی شہہ رگ انہی ظالموں کے ہاتھ میں آنی ہوتی ہے اسلئے دوران تربیت ان کے ظالمانہ رویہ کیخلاف زبان کھولنے کی جرأت نہیں کر سکتیں۔ ٹی ایم اوز کیساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ کوئی گھریلو نوکرانی سے بھی روا نہیں رکھتا۔ بات بات پر مریضوں اور اُں کے اٹینڈنٹس کے سامنے بے عزتی روز کا معمول ہوتا ہے۔ 24 گھنٹے کی ڈیوٹی سرانجام دینے کے بعد مزید 6 گھنٹے کی ڈیوٹی پر بطور نوکرانی پروفیسروں اور دیگر سینئر ڈاکٹروں کیساتھ وارڈ کا راؤنڈ کرنا پڑتا ہے۔ ٹی ایم اوز کو سینئرز کے کلینکوں سے پک شدہ مریضوں کی خدمت الگ سے کرنی پڑتی ہے۔ جسمانی اور ذہنی تھکے ہارے ینگ ڈاکٹرز سے غلطیوں کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ جن کا خمیازہ انہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ سینئرز تو خود کلینک میں پریکٹس اور کمائی کرتی ہیں جبکہ اپنے مریضوں کا بوجھ وارڈ کو ریفر کرتی ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ کام کے دوران کوئی وقفہ بھی نہیں دیا جاتا۔ ہمارے شیرخوار بچوں کیلئے کوئی مناسب انتظام نہیں جس کی وجہ سے ان کی اپنی صحت اور بچوں کی صحت پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گھریلو مسائل جنم لیتے ہیں، کام کا معیار متاثر ہوتا ہے اور ہم ذہنی توڑ پھوڑ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان شکایات کا میرے پاس تو کوئی جواب نہیں سوائے اسکے کہ میں مردان میڈیکل کمپلیکس کے گزشتہ روز کے واقعے کا حوالہ دوں کہ اس سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں کے اعصاب جواب دے چکے تھے، وگرنہ اس قدر تذلیل انسانیت کی کسی ہوشمند ذی روح فرد سے توقع مشکل ہے۔ آگے چلیں تو ایک اور قاری حبیب خان خٹک کرک سے شکایت کرتے ہیں کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کرک میں گریڈ انیس کی ایک گائنا کالوجسٹ نے ہسپتال کیساتھ ہی ایک گھر کو کلینک میں تبدیل کر رکھا ہے اور وہ سرکاری اوقات کار میں ہسپتال کی ڈیوٹی کیساتھ کلینک بھی چلا رہی ہیں۔ ہسپتال کی او پی ڈی میں آنیوالی خواتین مریضوں کو خصوصی نرسز کلینک کی راہ سمجھا دیتی ہیں، ضلع ناظم اور ہسپتال کے ایم ایس کو صورتحال کا پوری طرح علم ہے مگر وہ سیاسی دباؤ کے باعث مجبور ہیں، ان کی دانست میں سیکریٹری سے کم عہدے کا عہدیدار اس مسئلے کو حل نہیں کر سکے گا۔ ایک اور تفصیلی مراسلہ ملا ہے جس کی تفصیلات قابل بیان نہیں، مختصراً گزشتہ دنوں خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں قومی اور بین الاقوامی پروفیسر صاحبان نے تعلیم کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہارکچھ اس طرح سے کیا جس سے محسوس یہ ہو رہا تھا کہ جیسے زمین وآسمان کے قلابے آج ہی ملائے جائیں گے، لیکن شام موسیقی اور رنگا رنگ تقریبات اس انداز سے شروع ہوئیں کہ اللہ کی پناہ۔ اخلاقیات کے وہ جنازے نکالے گئے جس کی توقع ان تعلیم یافتہ پروفیسر صاحبان سے نہیں تھی۔ اس محفل میں فحاشی وعریانی کی حدیں پار کی گئیں۔ یونیورسٹی کے اندر اس قسم کے محافل سجانے کا کیا جواز بنتا ہے؟۔ اس پروگرام کی آڈیو، ویڈیو حاضرین محفل کے پاس محفوظ ہیں۔ گزارش ہے کہ وائس چانسلر سمیت تمام پروفیسر صاحبان کو روزن خیال کے ذریعے پیغام دیا جائے کہ خدارا! یہ عمر آپ کے ناچ گانے کا نہیں۔ آپ کی کرسی، آپ کا مقام، آپ کو واقعتاً اس کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ کو تو رول ماڈل ہونا چاہئے تاکہ آپ کے عمل اور کردار سے نئی نسل مثبت سرگرمیوں کی جانب گامزن ہو نہ کہ بے راہ روی کی طرف۔ دوسری گزار ش یہ ہے کہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کے ایک پروفیسر کو پرنسپل کی پوسٹ سے ہٹایا گیا ہے لیکن وہ ابھی بھی پرنسپل کے مراعات کا مزے لے رہا ہے۔ پیٹرول، ڈیزل، سرکاری گاڑی اور سرکاری ڈرائیور پوسٹ سے ہٹائے جانے کے بعد بھی پروفیسر صاحب کے استعمال میں ہیں۔ کیا یونیورسٹی انتظامیہ بشمول وائس چانسلر اور رجسٹرار اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ وہ ایک پروفیسر سے پوسٹ سے ہٹائے جانے کے بعد گاڑی، ڈرائیور واپس نہیں لے سکتے، دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ خیبر میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ اتنی بے بس ہو چکی ہے کہ کہیں اخلاقیات کے جنازے نکل رہے ہیں تو کہیں پہ انصاف کے جنازے۔

اداریہ