Daily Mashriq

فلسطینی سفیر کی واپسی

فلسطینی سفیر کی واپسی

اتھارٹی نے لاہور میں اپنے ہی حق میں ہونیوالے ایک مظاہرے میں شرکت کی بنا پر اسلام آباد میں مقیم فلسطینی سفیر ولید ابوعلی کو واپس بلالیا ہے۔ لاہور میں ہونیوالے اس مظاہرے میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید بھی موجود تھے چونکہ حافظ سعید بھارت اور امریکہ کیلئے ’’سرخ رومال‘‘ بن چکے ہیں اسلئے بھارت نے اس مظاہرے میں فلسطینی سفیر کی شرکت پر احتجاج کیا جس کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یروشلم ریلی میں فلسطینی سفیر کی شرکت کو ایک نادانستہ غلطی تصور کیا گیا ہے جہاں وہ افراد بھی موجود تھے جن پر دہشتگردی کی حمایت کے الزامات ہیں۔ اس غلطی پر فلسطینی ریاست کی طرف سے سفیر کو واپسی کا حکم دیا گیا ہے۔ فلسطین کی وزارت خارجہ نے عالمی فورم پر بھارت کی حمایت پر شکریہ بھی ادا کیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی اس صورتحال پر محتاط سا بیان جاری کرتے ہوئے فلسطینی سفیر کی بیت المقدس کے حوالے سے منعقدہ ریلیوں میں شرکت کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں کسی شخص سے آزادی اظہار کا حق سلب نہیں کرتیں۔ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے اپنے سفیر کی واپسی ظاہر ہے کہ بھارت کے دباؤ کا نتیجہ ہے اور فلسطینی اتھارٹی اس وقت تنی ہوئی رسی پر چل رہی ہے۔ فلسطینی عوام کو اپنی جدوجہد کیلئے دنیا کے ہر حلقے کی حمایت درکار ہے اور بھارت کی حمایت تو اس وقت ان کیلئے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں کیونکہ اسرائیل اور بھارت اس وقت یک جان وقالب ہیں۔ دونوں کشمیر اور فلسطین کی تحریکوں کو ملکر باہمی اتحاد وتعاون سے کچل رہے ہیں اور اس کام کیلئے ایک دوسرے کے ہتھیاروں کو استعمال کرنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ آج فلسطینی اتھارٹی پر یاسر عرفات کی پی ایل او کا غلبہ ہے۔ اتھارٹی کے صدر محمود عباس یاسر عرفات کے دست راست رہ چکے ہیں۔ یاسر عرفات کی بھارتی حکمرانوں بالخصوص اندرا گاندھی سے گاڑھی چھنتی رہی ہے مگر پاکستان اس وقت بھی فلسطینی کاز کا حمایتی رہا۔ یاسر عرفات کی قیادت کے پورے عہد میں انہوں نے پاکستان کی حمایت کے جواب میں ایک بار بھی کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت نہیں کی مگر جب وہ رام اللہ کے کمپاؤنڈ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں محصور ومجبور تھے تو بھارت اسرائیل کیساتھ اپنے تعلقات کو گہرا اور وسیع کر رہا تھا۔ بھارت نے اسرائیلی اقدامات کی مخالفت میں مذمت کا ایک جملہ تک ادا نہیں کیا۔ اسی کی دہائی میں شیخ احمد یاسین کی قیادت میں فلسطین میں حماس فیکٹر کے اُبھرنے کے بعد فلسطین کی سیاسی حرکیات میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی۔ رفتہ رفتہ فلسطینی حریت پسندوں کا ایک قابل ذکر حلقہ پاکستان کے قریب آتا چلا گیا۔ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے بھارت کیلئے تشکر کے جذبات اور سفیر کو واپس بلانے کا اقدام بلاشبہ پاکستان میں ان لوگوں کو اِترانے پر مجبور کریگا جو پاکستان کی فلسطین اور اسرائیل پالیسی کو تصورات اور نظریات کی بجائے مفاد اور زمینی حقائق پر استوار کرنے کے حامی ہیں۔ یہ کمزور نہیں بلکہ ایک بااثر طبقہ اور حلقہ ہے صرف وقتی مصلحت کی خاطر کبھی کبھار اپنے ’’اسرائیل کو تسلیم کرو‘‘ ساز کی لے کم کرتا ہے۔ حافظ سعید کے بارے میں فلسطینی اتھارٹی کے کسی اقدام پرکوئی ناک بھوں چڑھانا اس لحاظ سے قرین انصاف نہیں ہوگا کہ خود پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف امریکہ میں حافظ سعید کو بوجھ قرار دے چکے ہیں۔ پاکستانی عوام حافظ سعید کو کیا سمجھتے ہیں؟ دنیا کیلئے شاید یہ بات اہم نہیں، اہم بات یہ ہے کہ ریاست پاکستان کے وزیر خارجہ انہیں کیا سمجھتے ہیں؟۔ اقوام متحدہ کی حیثیت اور اہمیت کیا ہے؟ اس سے ایک زمانہ آگاہ ہے۔ فلسطینیوں کیساتھ عملی طور پر شریک جدوجہد حزب اللہ، حسن نصراللہ بلکہ خود حماس اور اس کی قیادت کے بارے میں اقوام متحدہ نے کس دباؤ اور عجلت میں تبصرے کئے ہیں؟۔ اگر یہ تبصرے مقدس اور محترم قرار نہیں پاتے تو پھر کسی پاکستانی شہری کے بارے میں بھی اقوام متحدہ کا تبصرہ بس تبصرے سے زیادہ اہمیت اور تقدس کا حامل کیسے ہو سکتا ہے؟۔ بھارت نے یروشلم کے حوالے سے قرارداد کا ساتھ فلسطینیوں کی محبت میں کیا ہے اسرائیل کیساتھ اس کے تعلقات کے تناظر میں اس کا جواب نفی میں ہے۔ عالمی سطح پر تنہائی اور رسوائی کا خوف تھا کہ جس نے بھارت کو اپنے جگری یار اسرائیل اور سرپرست امریکہ کی مخالف سمت میں جانے پر مجبور کیا مگر یہ بھارت کی فلسطین دوستی کا مستقل مظاہرہ نہیں تاہم فلسطین کے کاز کیساتھ پاکستانی عوام کی حمایت میں ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کا کاروباری اصول کارفرما نہیں بلکہ یہ غیر مشروط حمایت ہے جس کا تعلق قبلۂ اول کی حرمت اور اسرائیل کی غیر قانونی توسیع پسندی سے ہے۔

اداریہ