حکمرانوں کے مسائل

حکمرانوں کے مسائل

سردی کی سرد شاموں میں دوستوں کی محفل میں بیٹھنا کتنا اچھا لگتا ہے، اس وقت تو بہت ہی لطف آتا ہے جب بجلی ہم سے روٹھ کر پیا کے دیس سدھار جاتی ہے اور ہم سب دوست یو پی ایس کی ناتواں روشنی میں سردی کی ٹھٹھرتی ہوئی شام سے لطف اندوز ہوتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سب کسی الف لیلیٰ داستان کا حصہ ہوں۔ بجلی کی آنکھ مچولی تو اب ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن کر رہ گئی ہے۔ حالات حاضرہ کے حوالے سے بات چیت ہو رہی تھی، ہم نے کہا کہ نئے سال کی آمد کیساتھ ہی مہنگائی کا نیا ریلا آیا ہے، مساجد کے اخراجات مہنگائی کے اس دور میں بڑی مشکل سے پورے کئے جا رہے ہیں۔ مسجد کی انتظامی کمیٹی ہر مہینے علاقے کے لوگوں سے کچھ رقم وصول کرتی ہے جس کا اندراج ایک رجسٹر میں بڑی باقاعدگی کیساتھ کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی مسجد کا رجسٹر ایک آدھ بار دیکھنے کا اتفاق ہوا تو یقین کیجئے ہمارے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔ ایک صاحب جو ایک عدد پلازہ کے مالک ہیں ان کے نام کے آگے صرف پچاس روپے لکھا ہوا تھا۔ حیرت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال میں سے لوگ اس کے گھر کیلئے پیسے دینے میں بھی بخل سے کام لیتے ہیں۔ جب مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اس مرتبہ بجلی اور گیس کے بل بہت زیادہ آئے ہیں اسلئے اس مہینے چندہ دل کھول کر دیا جائے تو ہمیں واقعی بڑی شرمندگی ہوتی ہے۔ میاں جی نے ہماری بات بڑے غور سے سننے کے بعد کہا کہ مسئلہ یہ نہیں ہے تو ہمارے کان کھڑے ہوگئے کیونکہ وہ جب بھی کہتے ہیں کہ مسئلہ یہ نہیں ہے تو ہم سمجھ جاتے ہیں کہ موصوف کوئی کتاب پڑھ کر آئے ہوئے ہیں اور اب یہ اس کتاب کے حوالے سے ایک فصیح وبلیغ قسم کا خطبہ ارشاد فرمائیں گے، ان کا کمال یہ ہے کہ وہ بڑی فنکاری کیساتھ اپنی تازہ ترین پڑھی ہوئی کتاب کے موضوعات کو زیر بحث لے آتے ہیں۔ ان کی اس قسم کی گفتگو کی غرض وغایت یہ ہوتی ہے کہ دوستوں کو اپنی علمیت سے مرعوب کیا جائے۔ آپ ہی پھر بتایئے کہ مسئلہ کیا ہے؟ ہم نے زچ ہو کر ان سے سوال پوچھ ڈالا۔ انہوں نے پہلو بدلتے ہوئے کہا کہ دراصل بات یہ ہے کہ ابن خلدون نے اپنی مشہور زمانہ تصنیف مقدمہ میں قوموں اور حکومتوں کے حوالے سے بڑی اچھی اور سیر حاصل بحث کی ہے جسے پڑھ کر بہت کچھ سمجھا جا سکتا ہے۔ آپ نے مساجد کے حوالے بات کی ہے اگر آپ زرا زحمت فرمائیں تو آپ کو اپنے ارد گرد ایسے بہت سے سنجیدہ مسائل نظر آئیں گے جن کا حل کرنا بہت ضروری ہے لیکن صاحبان اقتدار اس طرف توجہ ہی نہیں فرماتے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ مساجدکو گیس اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی سے معاف رکھا جائے یہ تو اللہ کا گھر ہے، حکومت وقت کا یہ فرض ہے کہ وہ مساجد کے اخراجات کیلئے کوئی مناسب بندوبست کرے۔ یہ سب کچھ اسی وقت ہوسکتا ہے جب سب کچھ ایک مضبوط اور عمدہ نظام کے تحت ہو۔ ابن خلدون کہتا ہے کہ حکومت اتنی توانا ومضبوط ہو کہ وہ رعایا کو اپنے قابو میں رکھ سکے۔ ٹیکس وصول کرنے میں اسے کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ سرحدوں کی حفاظت کیلئے فوج اس کے احکام کی تعمیل کرسکے۔ حکومت کی تین شکلیں ہیں۔ ملوکیت، سیاست عقلی اور خلافت۔ سیاست عقلی سے ابن خلدون کی مراد جمہوریت ہے۔ جمہوریت کو سیاسی قوانین کی بنا پر قائم کیا جاتا ہے جسے سب تسلیم کرتے ہیں اس کے قوانین اور دستور کو قوم کے رہنماء مل جل کر بناتے ہیں۔ جب تک ان قوانین کا احترم باقی رہتا ہے، نظم ونسق بڑی عمدگی سے چلتا رہتا ہے لیکن جونہی یہ احترام اُٹھتا ہے سارا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ ظلم کی بہت سی صورتیں ہیں ظلم یہی نہیں ہے کہ کسی کا مال واسباب اور جائیداد چھین لی جائے یا کسی کے قبضہ واقتدار پر چھاپہ مارا جائے۔ یہ بھی ظلم ہے کہ کسی شخص سے کسی کام کا بغیر کسی استحقاق کے مطالبہ کیا جائے۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ لوگوں سے بیگار لی جائے۔ ان کی پوری محنت ادا نہ کی جائے۔ ہم نے میاں جی کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ آج کل اکثر اخبارات میں اس قسم کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ فلاں محکمہ اپنے ملازمین کو پچھلے چھ ماہ سے تنخواہ نہیں دے رہا یا پھر آج کے سلگتے ہوئے مسائل میں یہ مسئلہ بھی بڑا اہم ہے کہ نجی سکول جہاں طلبہ سے فیس کے علاوہ مختلف حیلے بہانوں سے ہزاروں روپے ماہانہ وصول کئے جاتے ہیں لیکن ان اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ کرام کا بڑی بے دردی کیساتھ استحصال کیا جاتا ہے۔ بڑے اچھے اداروں میں پندرہ بیس ہزار سے زیادہ تنخواہ نہیں دی جاتی اور ایسے نجی سکول تو بہت ہیں جہاں اساتذہ اور اُستانیوں کو تین سے پانچ ہزار روپے میں ٹرخا دیا جاتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا انہوں نے حکومت کا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی بل ہی ماننے سے انکارکر دیا تھا، دراصل وہ شتر بے مہار کی طرح جس طرف ان کا جی چاہے منہ اُٹھائے گھومنا چاہتے ہیں۔ ویسے صوبائی حکومت تو تعلیمی اصلاحات میں بڑی دلچسپی لے رہی ہے ہمیں پورا یقین ہے کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کا قبلہ درست کرنے میں بھی کامیاب ہو جائے گی۔ میاں جی نے ایک مرتبہ پھر ابن خلدون کے حوالے سے کہا کہ وہ کہتا ہے کہ عمل ومحنت کے بغیر تو ہم قدرتی ذرائع سے بھی استفادہ نہیں کرسکتے۔ قدرتی ذرائع تو وطن عزیز میں بہت زیادہ ہیں لیکن حکمران تو اپنے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں؟۔

اداریہ