Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

بن صالح ازدیؒ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ خلیفہ ہارون رشید حج کے لئے روانہ ہوئے۔ چنانچہ مدینہ منورہ پہنچ کر روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت کو گئے۔ وہاں قریش اور مختلف قبیلوں کے لوگ بھی تھے اور خلیفہ کے ساتھ موسیٰ بن جعفر بھی تھا۔جب موسیٰ بن جعفر روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر سلام ان الفاظ میں بھیجا:’’السلام علیک یا ابتا‘‘ اے ابا جان! آپ پر سلام ہو۔ (یہ سنتے ہی) ہارون رشید کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور کہا: ابوالحسن! حقیقی فخر تو یہی ہے یعنی جن الفاظ سے تم نے سلام کیا ایسا فخر سراہے جانے کے قابل ہے۔

پھر رمضان 79ھ میں ہارون رشید مکہ مکرمہ کے عمرے کی غرض سے گئے اور موسیٰ بن جعفر کو اپنے ساتھ بغداد لے گئے۔ ان کو وہاں قید کردیا اور بعد میں اسی قید میں ان کا انتقال ہوگیا۔ کہتے ہیں: جب موسیٰ بن جعفر کو قید میں زیادہ عرصہ ہوا تو انہوں نے ہارون رشید کو لکھ کر بھیجا: ابھی تو مجھ پر تنگی کے اور تمہارے اوپر فراخی کے دن گزررہے ہیں لیکن عنقریب ہم سب ایک ایسے دن تک پہنچ جائیں گے جو کبھی گزرنے والا نہیں‘ جس میں ظلم کرنے والے بڑے گھاٹے میں ہوں گے۔ (بحوالہ ’’مظلوم کی آہ‘‘ ص97: تا101)

حضرت عبداللہ بن مبارکؒ ایک مرتبہ حج سے فراغت کے بعد بیت اللہ میں سو گئے اور خواب میں دیکھاکہ دو فرشتے باہم باتیں کر رہے ہیں اور ایک نے دوسرے سے سوال کیاکہ اس سال کتنے لوگ حج میں شریک ہوئے اور کتنے افراد کا حج قبول ہوا؟

دوسرے نے جواب دیا کہ چھ لاکھ لوگوں نے فریضہ حج ادا کیا لیکن ایک فرد کا بھی حج قبول نہیں ہوا لیکن دمشق کا ایک موچی جو حج میں تو شریک نہیں ہوا خدا نے اس کا حج قبول فرما کے اس کے طفیل سب کا حج قبول کرلیا۔

خواب دیکھ کر بیداری کے بعد ابن مبارکؒ موچی سے ملاقات کرنے کیلئے دمشق پہنچے موچی نے اپنا واقعہ کچھ اس طرح بیان کیا کہ بہت عرصے سے میرے قلب میں حج کی تمنا تھی اور میں نے اس نیت سے تین سو درہم بھی جمع کرلئے تھے لیکن ایک دن پڑوسی کے ہاں سے کھانا پکنے کی خوشبو آئی تو میری بیوی نے کہا کہ اس کے ہاں سے تم بھی مانگ لائو ہم بھی کھالیں چنانچہ میں نے اس سے جاکر کہا کہ آپ نے جو کچھ پکایا ہے ہمیں بھی عنایت کریں لیکن اس نے کہا کہ وہ کھانا آپ کے کھانے کا نہیں ہے کیونکہ سات روز سے میں اور میرے اہل و عیال فاقہ کشی میں مبتلا تھے تو میں نے مردہ گدھے کا گوشت پکا لیا ہے۔یہ سن کر میں خوف خداوندی سے لرز گیا اور اپنی تمام جمع شدہ رقم اس کے حوالے کرکے یہ تصورکرلیاکہ ایک مسلمان کی امداد میرے حج کے برابر ہے۔حضرت ابن مبارکؒ نے یہ واقعہ سن کر فرمایا کہ فرشتوں نے خواب میں واقعی سچی بات کہی تھی اور خداتعالیٰ حقیقتاً قضا و قدر کا مالک ہے۔(تذکرۃ الائولیاء صفحہ123)

متعلقہ خبریں