Daily Mashriq

متاثرین زلزلہ بارے چیف جسٹس کے دردمندانہ الفاظ

متاثرین زلزلہ بارے چیف جسٹس کے دردمندانہ الفاظ

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے اگر متاثرین زلزلہ کا مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ خود لوگوں کیساتھ بیٹھ کر احتجاج کریں گے۔ سپریم کورٹ میں زلزلہ متاثرین امداد کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ زلزلے کے بعد لٹے پٹے لوگوں کی امداد پوری دنیا سے کی گئی تھی۔ اس وقت کی حکومت نے متاثرین کی امانت میں خیانت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 25اپریل کو انہوں نے دورہ کیا اور رپورٹ وزیراعظم کو بھیجی آج تک اس پر کیا عمل ہوا؟ ہم چار گھنٹے کے نوٹس پر بالاکوٹ جا سکتے ہیں تو وزیراعظم کیوں نہیں؟ جماعت الدعوۃ نے وہاں ایکسرے مشین لگائی ہے، جماعت اسلامی نے بھی وہاں کام کیا ہے، کام نہیں کیا تو حکومت نے نہیں کیا، سرکار نے کچھ نہیں کیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کو غالباً اس معاملے کا پتہ نہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کمال ہے جس صوبے نے سب سے زیادہ محبت دی، اس کے مسائل کا وزیراعظم کو پتہ ہی نہیں۔ ایک دہائی سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد متاثرین زلزلہ کے مسائل حل نہ ہونے پر چیف جسٹس کی برہمی بے جا نہیں، چیف جسٹس خود جاکر متاثرین زلزلہ کی زبوں حالی کا جائزہ لے چکے ہیں۔ نیو بالاکوٹ سٹی رقم کی ادائیگی کے باوجود خریدی گئی اراضی کو واگزار کرانے میں ناکامی کے باعث شروع ہی نہیں ہو سکا۔ متاثرین زلزلہ ابتداء میں سخت سرد وگرم موسم اور طوفان باد وباران میں جن حالات سے گزرے اس کا اندازہ تو کجا ہم جیسے لوگ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ متاثرین زلزلہ جن حالات سے گزرے دنیا میں انسانوں پر جو سخت سے سخت حالات آسکتے ہیں وہ اس سے گزر چکے۔ ہزاروں اموات ہوئیں، بچے، ضعفاء اور خواتین سخت حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے جان سے گئے۔ ایک سنگین المیہ رونما ہوا اور رفتہ رفتہ سنگین اور سخت حالات سے گزرنے والوں نے ایک مرتبہ پھر زندگی کی ابتداء کی اور آج بہت سے خاندان اور بہت سے افراد اس ابتلاء کے دور سے گزر کر بسنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ بہت ساروں کے دن مالک کائنات نے اپنی خاص رحمت سے تبدیل بھی کئے، کتنے نوجوان لڑکے ان تیرہ سالوں میں اپنی تعلیم وہنر اور محنت ومشقت کے بل بوتے پر اپنے خاندان کا سہارا بنے اور باعزت زندگی کی طرف لوٹ آئے۔ کتنے خاندان اور افراد اب بھی بے آسرا ہیں جو حکومتی اداروں کی راہ تکتے تکتے مایوس ہو چکے ہیں۔ اس انسانی المیہ کے آثار ابھی باقی ہیں جن سے نمٹنے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس کے یہ ریمارکس ایک منصف کے درد بھرے الفاظ نہیں بلکہ اس میں ایک دردمند دل رکھنے والے شخص کا درد بھی چھپا ہے اس سے بڑھ کر اور حقیقت کیا ہوگی جب چیف جسٹس خود حکومت وقت کی متاثرین زلزلہ کے حق میں خیانت کی بات کر رہے ہیں، ان کو اس امر کا بھی احساس ہے کہ حکومت اور سرکار نے ان کیلئے کچھ نہیں کیا۔ دو تین حکومتیں اپنا دور گزار کر چلی گئیں مگر متاثرین بالاکوٹ کے مسائل ویسے کے ویسے ہی رہے۔ حکومتی اقدامات کی ناکامی کا تذکرہ اب انہیں اس وقت بھی اس کا آوازہ تھا جب یہ المیہ رونما ہوا تھا۔ اس وقت سے ہی اس حقیقت کا اعتراف ہونے لگا تھا کہ اس المئے سے نمٹنے میں سرکاری اداروں کی کارکردگی غیرتسلی بخش نہیں بلکہ ناکام تھی۔ تیرہ سال بعد چیف جسٹس کا علاقے کا دورہ کرنے اور حکومتی موقف اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد وہی الفاظ دہرا دینا حکومت کیلئے واضح اور کھلا پیغام ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چیف جسٹس کے وزیراعظم کا علاقے کا ازخود دورہ کرنے سے متعلق بات اس لئے بھی سنجیدگی سے لینے کا حامل معاملہ ہے کہ ماتحت ادارے اور سرکاری مشینری کی مکمل ناکامی ومایوسی واضح ہے۔ یہ درست ہے کہ اس المئے سے نمٹنے میں ناکامی کی ذمہ داری میں موجودہ حکومت کا بہت تھوڑا حصہ ہے لیکن یہ معاملہ کسی جماعت کی حکومت کا نہیں بلکہ ریاست اور حکومت کی ناکامی سے متعلق ہے اس لئے بطور وزیراعظم وقت عمران خان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔ وزیراعظم کے دورے سے جہاں ایک طرف ان کو صورتحال کا خود جائزہ لینے کی صورت میں آگاہی حاصل ہوگی تو دوسری جانب وزیراعظم کے دورے کی بناء پر بہت سے ایسے کاموں پر سرکاری مشینری کی توجہ مبذول ہوگی جو التواء کا شکار ہیں۔ جہاں تک اس معاملے کی مجموعی صورتحال کا تعلق ہے یہ مسئلہ اب وزیراعظم کی ذاتی توجہ ودلچسپی اور اپنی نگرانی میں معاملات کو آگے بڑھانے اور جہاں جہاں انتظامی سقم موجود ہیں ان کا ازخود سخت نوٹس لیکر سنجیدہ اقدامات کو یقینی بنائے بغیر ممکن نہیں۔ بالاکوٹ سمیت 2005ء کے متاثرین زلزلہ ہمارے ہی بھائی اور ہموطن ہیں ان کی دست گیری کا جو فریضہ بین الاقوامی اور برادر اسلامی ممالک نے انجام دینا تھا اس میں ہی کوتاہی نہیں کی گئی اُلٹا ان متاثرین کا حق بھی سرکاری مشینری کے بدعنوان عناصر کی نذر ہوگئی۔ فلاحی تنظیموں کی احسن کارکردگی بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں، یہ الیمہ اتنا سنگین ہے کہ اسے ریاست وحکومت کی مشینری ہی حل کر سکتی ہے مگر اس کی کارکردگی کیا رہی ہے اور کیا ہے اس کی چیف جسٹس کے الفاظ سے بہتر تشریح ممکن نہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو جلد سے جلد بالاکوٹ سٹی کی تعمیر میں درپیش رکاوٹیں دور کرنے اور متاثرین زلزلہ کی مکمل بحالی کی کوششوں کو ذاتی مساعی اور دلچسپی سے یقینی بنانا چاہئے یہ ایک سعادت ہوگی جسے حاصل کرنے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں