Daily Mashriq

قوم کو اعتماد میں لینے کی ضرورت

قوم کو اعتماد میں لینے کی ضرورت

چین نے پاکستان کے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کیلئے 2ارب ڈالر دیکر روپے کی گرتی ہوئی قدر اور پاکستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرنے کا عندیہ وقتی مشکلات سے نکلنے میں مددگار ہوگا۔ چین کی جانب سے رقم دینے کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ چین دوست ملک پاکستان کو کسی بھی قسم کی معاشی بحران کا شکار نہیں ہونے دے گا۔ یہ مالیاتی پیکج وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کی پیشرفت ہے، چین کی جانب سے مالیاتی امداد دونوں ممالک کے مابین وسیع تر معاشی تعلقات کو ظاہر کرتا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے سعودی عرب کی جانب سے بھی بڑی امداد کا عندیہ دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت اگر آئی ایم ایف سے رجوع کئے بغیر دوست ممالک کی مدد سے روپے کی گرتی ہوئی شرح پر قابو پانے اور ادائیگیوں کے توازن میں کامیابی حاصل کر پائے تو ملک معاشی استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ ایک جانب دوست ممالک سے امداد ملنے کی توقعات ہیں تو دوسری جانب حکومت آئی ایم ایف سے بڑا مالیاتی پیکچ لینے کی مساعی میں مصروف ہے جو شکوک شبہات کا باعث ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کو بالآخر آئی ایم ایف سے بھاری قرضہ لینا پڑے گا اس طرح کے امکانات حکومت اور ملک وقوم کا درد رکھنے والوں کیلئے کوئی نیک شگون نہ ہوگا۔ حکومت کو اس ضمن میں ایک واضح سمت کا تعین کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر دوست ممالک کی امداد سے معاشی بحران کو ٹالا جا سکتا ہے تو یہ نہایت خوش آئندہوگا لیکن اگر آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تو اس قسم کا تاثر دینا کہ دوست ممالک کے امداد سے پاکستان معاشی بحران سے نکل سکتا ہے موزوں طرزعمل نہیں، حکومت جو بھی ممکنہ صورتحال بنتی ہے اس سے قوم کو آگاہ رکھے تاکہ عوامی توقعات کا خون نہ ہو اور حکومت کو بھی خواہ مخواہ کی جگ ہنسائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ٹیکس نادہندگان کیخلاف خصوصی مہم سنجیدہ ہونی چاہئے

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ملک بھر میں بڑے ٹیکس نادہندگان سے ریکوری کیلئے سپیشل یونٹ قائم کرکے ٹیکس نادہندگان کیخلاف کارروائی شروع کرنے کی تیاریاں خوش آئند اور وقت کی ضرورت ہے جس کا عوام کو شدت سے انتظار ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے باربار نوٹس دینے کے باوجود ٹیکس نادہندگان کی طرف سے ٹیکس جمع نہ کرنے پر ملک بھر میں بڑے ٹیکس نادہندگان کیخلاف کارروائی کیلئے حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ اس سلسلے میں ایف بی آر میں سپیشل یونٹ قائم کر دیا گیا ہے جبکہ آئندہ چند روز میں سپیشل یونٹ ٹیکس نادہندگان کیخلاف کارروائی شروع کرے گا۔ اس سلسلے میں چاروں صوبوں میں ایف بی آر کے دفاتر کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملکی محصولات اور آمدنی کے ضمن میں ایف بی آر بنیادی کردار کا حامل ادارہ ہے لیکن اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے کہ ایف بی آر کبھی بھی ریوینو اکھٹا کرنے کے ہدف کو پانے کی صلاحیت کا حامل ثابت نہیں ہوا ہے، ایف بی آر کے قوانین سہل سادہ اور ٹیکس دہندگان کیلئے آسان ہونے کی بجائے جس قسم کی پیچیدگی کا باعث ہیں ٹیکس نادہندگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔ اس ملک کا عام آدمی اور سرکاری ملازمین ہی ٹیکس دیتے ہیں بااثر افراد سے ٹیکس وصولی کا تو رواج تک نہیں جب تک اس قسم کی صورتحال رہتی ہے اس وقت تک ملکی خزانے میں محصولات کی مد میں وہ رقم آنہیں سکتی جو آنی چاہئے۔ ٹیکس نادہندگان کوئی پوشیدہ مخلوق نہیں اور نہ ہی نامعلوم ہیں اور اگر ان کے حوالے سے درست معلومات دستیاب نہ ہوں تو اس کیلئے کوشش کی جاسکتی ہے لیکن اس کے باوجود ایف بی آر کی وہ مساعی نظر نہیں آتی جو ٹیکس وصولی کیلئے درکار ہیں۔ بہرحال اب جو خصوصی مہم کا عندیہ دیا جا رہا ہے توقع کی جا رہی ہے کہ ایف بی آر کے حکام اس مہم کو مؤثر بنا کر صرف ایونیو کا مطلوبہ ہدف حاصل کریں گے بلکہ اس میں اضافہ کر کے ملکی خزانے کو سہارا دینے کی اپنی بنیادی ذمہ داری بطریق احسن نبھائیںگے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس ضمن میں جلد ہی نظر آنے والے اقدامات سامنے آئیں گے اور ٹیکس نادہندگان کیخلاف نہ صرف گیرا تنگ کیا جائے گا بلکہ ٹیکس رقم کی وصولی کر کے قومی خزانے میں جمع کرنے کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں