Daily Mashriq


سنہری دور کی جانب

سنہری دور کی جانب

نئے سال کے آغاز پر پاکستان کے مختلف مشاہیر نے تہنیتی پیغامات جاری کیے ہیں ‘ کچھ نئی امیدیں دی ہیں ‘ کچھ عزائم کا اظہار کیا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے افلاس‘ ناخواندگی ‘ بے انصافی اور کرپشن کے خلاف جہاد کااعلان کیا ہے اور نوید دی ہے کہ 2019ء سنہری دور کا آغاز ہو گا۔ افلاس ‘ ناخواندگی ‘ بے انصافی اور کرپشن کی اصلی بنیاد عدم عدل و انصاف ہے۔ ان کی سیاسی پارٹی کا تو نام ہی تحریک انصاف ہے۔ انہوں نے ہر شعبہ زندگی میں عدل قائم کرنا ہے‘ ان کے دور کا آغاز پہلے پانچ ماہ پہلے ہو چکا ہے ۔ لیکن اس دوران میں معاشرے کے ہر شعبہ میں عدل قائم کرنے کے حوالے سے ان کی حکومت کی سمت نظر نہیں آئی۔ افلاس‘ ناخواندگی ‘ بے انصافی اور کرپشن کے اہداف کا ذکر تو انہوں نے کر دیا لیکن اس ہدف کے حصول کیلئے سمت بندی اور توانا پیش رفت کا اظہار نہیںہو رہا۔آج کی صورت حال میں توانائی عوام کے اعتماد‘ معیشت کی صورت حال کی بہتری کیلئے نظر آنیوالی کوشش سے حاصل ہوگی ‘ اس سمت میں ان کی حکومت کیا کوششیں کر رہی ہے کیا فیصلے لے رہی ہے یہ واضح نہیں ہے۔ اس پانچ ماہ کے دوران معیشت کے تقریباً تمام اشارئیے آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے ہٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور حکومت یا تو کسی بہتری کے انتظار میں نظر آتی ہے یا تذبذب کا شکار ہے یا فیصلہ سازی میں قاصر۔ یہ ٹھیک ہے کہ حکومت کو معاشی مسائل کا ایک انبار سابقہ حکومت سے ورثے میں ملا اور بقول مشیر حکومت عشرت حسین سابقہ حکومت نے جان بوجھ کر تحریک انصاف کی حکومت کیلئے مشکلات پیدا کیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے آئی ایم ایف سے امدادی پروگرام لینے کی بات چیت چل رہی ہے اور دوسری طرف یہ خواہش بھی نظر آ رہی ہے کہ آئی ایم ایف اپنی شرائط میں نرمی پیدا کر دے۔ اس دوران ایک طرف مہنگائی بڑھ رہی ہے دوسری طرف حکومت نے اب تک جو اقدامات کیے ہیں ان کی وجہ سے نہ درآمدات میں کمی ہوئی ‘ نہ برآمدات میں اضافہ‘ نہ سرمایہ کاری کیلئے موزوں ماحول پیدا ہوا ‘ نہ پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت میں کوئی کمی آئی بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ حکومت کے روپے کی قدر میں کمی کے اقدامات سے ملک کے بیرونی قرضوں میں بغیر قرضہ لئے خطیر اضافہ ہو گیا ہے۔ گردشی قرضوں کو بوجھ بڑھ گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاملت طے ہو جائیگی تو دیگر بین الاقوامی اداروں سے مدد حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ اسلئے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ آئی ایم ایف سے معاملت کی رکاوٹ کو جلد عبور کر لے۔ آئی ایم ایف کی متوقع شرائط سے پہلے ہی حکومت بہت سے اقدامات کر چکی ہے اور ان کے سخت اثرات مرتب ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ اسلئے حکومت کو چاہیے کہ وہ جلد آئی ایم ایف سے یا تو امدادی پروگرام حاصل کر لے یا یہ معاملت ختم کر دے تاکہ کسی مدد کا انتظار کیے بغیر اپنی صورتحال میں اپنے بل پر فیصلے کیے جائیں۔ دوست ملکوں سے جو تھوڑی بہت امداد مل رہی اس سے سانس لینے میں تو آسانی میسر آ رہی ہے لیکن توانا پیش رفت نظر نہیں آ رہی ۔ توانائی عوام کے اعتماد کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے ۔ جیسی بھی صورتحال ہے اس سے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے ان کے صبر و استقامت پر انحصار کیا جانا چاہیے اور مشکل دور میں ان طبقا ت کو ریلیف فراہم کرنے کی ترجیح قائم کی جانی چاہیے جو سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ فوری توجہ زراعت اور گھریلو صنعتوں پر مرکوز کرنا ضروری ہو گا۔ جہاں تک آئی ایم ایف کا سوال ہے پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے ایک شرط یہ رکھی ہے کہ اصغر خان کیس کو بند کر دیا جائے۔ پچھلے دنوں یہ خبر بھی آ چکی ہے کہ ایف آئی اے نے بھی ایسا ہی مؤقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ کیس 25سال پرانا ہے۔ شواہد نہیں مل رہے اور گواہوںکے بیانات ایک دوسرے سے نہیں مل رہے۔ لیکن یہ کیس اتنا پرانا بھی نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ اس کیس میں ملوث فوج کے ارکان سے متعلق معاملہ فوج کے اپنے عدالتی نظام کے سپرد کر چکی ہے اور اس میں ملوث سویلین افراد پر الزامات کے حوالے سے عدالتی کارروائی ہونا باقی ہے۔ اعترافی بیانات آ چکے ہیں اور میڈیا میں نشر ہو چکے ہیں۔ کیس کو بند کیاگیا تو انصاف کی بے توقیری ہو گی۔ ناجائز کام کیلئے پیسہ دینے والے اور لینے والے اطمینان سے محض عرصہ گزر جانے کے باعث بری الذمہ ہو جائیں گے۔ رضا ربانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان میثاقِ جمہوریت نہ ہوا ہوتا تو آمریت ملک میں عرصہ سے جڑ پکڑ چکی ہوتی۔اس حقیقت کو نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ اس میثاقِ جمہوریت ہی کے نتیجے میں این آر او ہوا اور ہزاروں لوگ جن میں ہر طرح کے جرائم کے ملزم شامل تھے یکایک بری الذمہ ہو گئے۔معاشرے میں انصاف بے توقیر ہو گیا ‘ اہلِ سیاست کو اس طرف متوجہ ہونا چاہیے تھا لیکن اہلِ سیاست عدلیہ کو نظام انصاف کی خرابی کا طعنہ دینے لگے جس کے جواب میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ انہوں نے طریق کار کی حد تک اپنا گھر درست کر لیا ہے آگے پارلیمنٹ کا کام ہے۔ اس سے پہلے وہ کئی بار یہ بتا چکے ہیں کہ کئی مسودہ ہائے قانون پارلیمنٹ کو ارسال کر چکے ہیں لیکن پارلیمنٹ میں قانون سازی کی باری ہی نہیں آ رہی۔ ملک سے جتنا بھی پیسہ باہر گیا ہے ‘ وہ پاکستان کے عوام کے مزدوروں اور کسانوں کی محنت کا ثمر ہے۔ یہ پھر پیدا ہو سکتا ہے لیکن بددیانتی کی توقیر معیشت کو پنپنے نہیں دے گی کیونکہ معیشت کی خرابی کی وجہ یہی بددیانتی کی توقیر اور عدل کی بے توقیری ہے۔ غربت ‘ ناخواندگی ‘ ناانصافی اور کرپشن کیخلاف جہاد معاشرے میں عدل قائم کرنے کا جہاد ہے۔ عدل کے تقاضوں کے مطابق ترجیحات قائم کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا عزم کیا جائے اور اس پر قائم رہا جائے تو سنہری دور کچھ زیادہ دور نہیں رہے گا۔ افلاس میں معاشرے قائم رہ سکتے ہیں عدل کے بغیر نہیں۔

متعلقہ خبریں