Daily Mashriq

وزیراعظم کا عزم صمیم اور چند قابل توجہ امور

وزیراعظم کا عزم صمیم اور چند قابل توجہ امور

وزیراعظم عمران خان نے غربت‘ جہالت‘ ناانصافی اور کرپشن کیخلاف جہاد کو سال نو کا عزم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انشاء اللہ اس سال میں پاکستان میں سنہرے دور کا آغاز ہوگا۔ عزم سال نو کے چار نکاتی ایجنڈے پر دو آراء ہرگز نہیں۔ یہی وہ بنیادی مسائل ہیں جن پر ترجیحاً توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم سے بڑھتی ہوئی طبقاتی تقسیم سے پیدا شدہ صورتحال افسوسناک ہے۔ پچھلے چند ماہ کے دوران مہنگائی اور بیروزگاری میں جس تیزی کیساتھ اضافہ ہوا اس سے صرف نظر ممکن نہیں۔ حکومت نے اگلے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کچھ کمی کی ہے مناسب ہوگا اگر مزید نظرثانی کرلی جائے اور اس کیساتھ بجلی وگیس کی قیمتوں میں پچھلے چار ساڑھے چار ماہ کے دوران ہوئے اضافوں کا بھی انسانی ہمدردی سے دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ شہریوں کی امداد کے مختلف منصوبہ جات اپنی جگہ درست ہوں گے لیکن مناسب یہ ہے کہ ان منصوبوں کی مد میں رکھی گئی رقوم کا پہلے مرحلہ پر 50فیصد امدادی پروگرام اور 50فیصد غربت وبیروزگاری کے مستقل خاتمہ کیلئے مختص کیا جائے۔ غربت وبیروزگاری کا مستقل خاتمہ امدادی پروگراموں سے نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات سے ممکن ہے، امدادی پروگراموں میں 50فیصد کٹوتی کرکے اس رقم سے بڑے چھوٹے صنعتی یونٹوں اور کاٹیج انڈسٹری کو رواج دیا جائے تو فقیروں کی فوج پیدا کرنے کی بجائے کچلے ہوئے طبقات کو بہتر معیار زندگی کی فراہمی سے انہیں کارآمد شہری بنایا جاسکتا ہے۔ صحت کے شعبہ کا حال بھی بہت پتلا ہے، وفاقی وصوبائی بجٹوں میں صحت کیلئے رکھی گئی رقوم کو اگر فی کس پر تقسیم کے حساب سے دیکھا جائے تو مشکل سے 61روپے سالانہ بنتے ہیں۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا 61روپے سالانہ کافی ہیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ صحت کے شعبہ کو فنڈز فراہم کرتے وقت دو باتیں بطور خاص مدنظر رکھی جائیں۔ اولاً یہ کہ اس رقم کا کتنا حصہ تنخواہوں‘ یوٹیلٹی بلز اور تعمیر ومرمت اور ضروریات کی خریداری پر صرف ہوتا ہے اور کتنا حصہ شہریوں کے علاج معالجہ پر۔ اس طور سے 61فیصد فی کس کا حساب تقریباً 28 روپے فی کس ہو جاتا ہے باقی کے 33 روپے تو اس شعبہ کے دیگر اخراجات پر اُٹھتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر عرض کرنا مقصود ہے۔ صحت کے شعبہ کیلئے پالیسیاں بنانے والے مسائل، ضرورتوں اور دیگر امور کو بھی بطور خاص مدنظر رکھیں۔ ہمیں یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ غربت‘ بیروزگاری اور دیگر مسائل کی طرح فروغ علم میں بھی حکومت کیساتھ ساتھ اگر نجی شعبہ بھی خدمت خلق کے جذبہ سے آگے بڑھ کر کردار ادا کرے تو عشروں کا سفر سالوں میں طے ہوسکتا ہے۔ ناانصافی کے خاتمے کیلئے عدالتی نظام کیساتھ پراسیکیوشن کے نظام میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان دونوں شعبوں میں رشوت ستانی کا خاتمہ تو ضروری ہے ہی اس کیساتھ ساتھ انہیں جدید خطوط پر منظم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس طرح کرپشن کا معاملہ ہے، عام تاثر یہ ہے کہ کرپشن صرف سیاستدان کرتے ہیں حالانکہ یہ بات مجموعی طور پر درست نہیں ہے کرپشن دیگر اداروں میں بھی ہے مگر بدقسمتی سے کچھ نے تقدس کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ اندریں حالات یہ عرض کرنا ہی پڑتا ہے کہ بلاامتیاز احتساب کے بغیر کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں اس حوالے سے کسی ایک طبقے کو تسلسل کیساتھ نشانہ بناتے چلے جانا دوسرے کرپٹ لوگوں سے توجہ ہٹانے کے سوا کچھ نہیں۔ امید واثق ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ سنہری دور کے آغاز کیلئے یکساں اصولوں پر عمل کیاجائے گا۔ اس امر سے انکار نہیں کہ تحریک انصاف کو عوامی پذیرائی بلاامتیاز احتساب کے نعرے سے ملی سو اگر تحریک کی قیادت اور حکومتی ذمہ داران سے بصد احترام یہ دریافت کرلیا جائے کہ نیواسلام آباد ایئرپورٹ کیلئے زمین کی خریداری اور تعمیر وتکمیل کے مراحل میں ہوئی کرپشن کے حوالے سے ایف آئی اے نے جن لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ان کیخلاف کارروائی کرنے میں امر مانع کیا ہے تو اس کا برا ہرگز نہیں منایا جانا چاہئے۔ کرپشن کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ثانیاً یہ کہ خود تحریک انصاف اور حکومت میں شامل جن افراد کیخلاف نیب یا دوسرے اداروں میں بعض معاملات کی وجہ سے تحقیقات ہو رہی ہیں ان افراد کو تحقیقات اور انصاف کے تقاضے پورے ہونے تک غیرفعال کیا جائے۔ ایسا کیا جانا اسلئے ضروری ہے کہ انصاف کا یکساں معیار قائم کئے بغیر انصاف ممکن ہے نا ایک ایسے نظام اور سماج کی تشکیل جہاں قانون طاقتور طبقات کا غلام نہ ہو بلکہ اس کی حاکمیت مسلمہ ہو اور قانون شکنی کا مرتکب شخص وہ چاہے کوئی بھی ہو اس کا احتساب ہوسکے۔ حرف آخر یہ کہ مسائل ہیں۔ یقینا کچھ ورثے میں بھی ملے ہیں لیکن یہ بھی دیکھا جانا چاہئے کہ کون سے مسائل حکومتی پالیسیوں سے پیدا ہوئے ہیں تاکہ مسائل کے حل کیلئے ٹھوس حکمت عملی وضع کرکے اگلا قدم اُٹھایا جا سکے۔ ثانیاً یہ کہ احتساب کے عمل سے سیاسی انتقام کی بو نہیں آنی چاہئے۔ عدالتوں میں الزام ثابت ہونے سے قبل اگر کسی فریق کو میڈیا ٹرائل کے ذریعے مجرم ثابت کرنا درست ہے تو پھر اس میں پسند وناپسند کیوں۔ جس جس پر الزام ہے وہ مجرم ہوا یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی حاجی ثناء اللہ ہو اور کوئی مجرم۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قانون کی حاکمیت‘ بلاامتیاز احتساب‘ انصاف کی غیرطبقاتی فراہمی یہی وہ چیزیں ہیں جن پر عمل سے نیک نامی کمائی جاسکتی ہے۔ امید واثق ہے ان معروضات پر بھی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں