Daily Mashriq


جانے’’والو‘‘ تمہیں روئے گا زمانہ برسوں

جانے’’والو‘‘ تمہیں روئے گا زمانہ برسوں

وہ جو 2018ء نے جاتے جاتے ہم سے کئی اہل کمال کو جدا کر دیا تھا اور ہمارے کئی اہل قلم اور اہل فن موت کی وادی میں اُتر کر ہمشیہ کیلئے ہمیں داغ مفارقت دے گئے، وہ سلسلہ نئے سال میں بھی نہیں رکا اور 2019ء کے پہلے ہی روز دو اور اہم شخصیات ہم کو اُداس چھوڑ کر رخصت ہوگئیں، صرف دو کا ہندسہ لکھتے ہوئے میں نے خود کو خیبر پختونخوا تک محدود کر دیا ہے ورنہ تو پاکستان کی سطح پر ڈاکٹر سلیم اختر جیسی نابغہ شخصیت بھی پوری اُردو دنیا کو سوگوار کر کے رخصت ہوگئی ہے، اس لئے جن دو شخصیات کا تذکرہ میں کر رہا ہوں ان میں ڈاکٹر اقبال نسیم خٹک اور حامد سروش شامل ہیں۔ دونوں کا تعلق درس وتدریس کے شعبے سے تھا اور ان کے رخصت ہونے سے ان کے لاتعداد شاگرد غمزدہ ہوگئے ہیں۔ تاہم ایسے مواقع پر بھی بعض کرمفرما بلاوجہ اپنے دل کا بوجھ منفی رویوں کی شکل میں ہلکا کرنے سے بار نہیں آتے۔ یعنی بقول شاعر

کہاں تو ڈھونڈنے آیا گل اخلاص کی خوشبو

یہاں تو بغض اُگتا ہے محبت کی زمینوں میں

ڈاکٹر اقبال نسیم خٹک نہایت نفیس انسان اور خوش گفتار شخصیت کے مالک تھے، نہایت دھیمے لہجے میں گفتگو کرتے، چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ سجی رہتی، کرک کے علاقے عیسک چونترہ میں 1942ء میں جنم لیا، ابتدا ہی سے درس وتدریس کے شعبے کو اپنے لئے چُنا اور پھر پشاور اٹھ آئے جہاں پشتو شعر وادب میں تحقیق کی ذمہ داری سنبھالی اور خوشحال خان خٹک کے فکر وفن کو بطور خاص اپنا موضوع بنایا۔ ڈاکٹر اقبال نسیم خٹک خوشحال شناس کے طور پر اپنا ایک خاص مقام متعین کر چکے تھے، انہوں نے خوشحال خان خٹک پر بیگم خدیجہ کے پی ایچ ڈی مقالے کا ترجمہ کرکے ایک ادق کام کو نہایت عمدگی سے سرانجام دیا، اقبال نسیم خٹک نے سکول ٹیچر کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل پر ترقی کرتے ہوئے پشتو اکیڈیمی کے چیئرمین کے عہدے تک پہنچے جہاں انہوں نے لاتعداد شاگردوں کی رہنمائی کی اور آج پشتو ادب وشعر اور تدریس کے شعبے میں ان کے شاگرد ان کی تعلیمات کو آگے بڑھاتے ہوئے اس قافلے میں ہر سال مزید اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر اقبال نسیم خٹک جہاں پائے کے محقق اور اُستاد تھے وہیں وہ ایک اچھے شاعر بھی تھے اور ادبی محفلوں میں ان کی شرکت کو انتہائی لازم سمجھا جاتا تھا۔ اباسین آرٹس کونسل کے سہ لسانی مشاعروں میں ان کی شرکت ناگزیر ہوا کرتی تھی جبکہ اباسین ادبی مقابلوں کیلئے ہر دوسال بعد انہیں بطور جج ہم ان کی خدمات سے استفادہ کرتے اور انہوں نے ہمیں کبھی مایوس نہیں کیا کیونکہ اباسین ادبی ایوارڈز کیلئے کتابیں ان کے پاس بھیجتے ہوئے کونسل کی شرائط کے مطابق جب بھی ہم ان سے درخواست کرتے کہ وہ اس حوالے سے رازداری کو ملحوظ رکھیں گے تو انہوں نے آج تک کسی پر ظاہر نہیں کیا کہ وہ بھی تین ججوں میں سے ایک تھے، یہی حال مرحوم ڈاکٹر اعظم اعظم اور مرحوم پروفیسر داور خان داؤد کا تھا انہوں نے بھی ہماری توقعات کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائی اور ہمیشہ رازداری سے کام لیا اب جبکہ ڈاکٹر اقبال نسیم خٹک بھی ادبی اور عملی دنیا کو سوگوار چھوڑ کر رخصت ہوگئے ہیں تو ان کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ

خدا بخشے بہت خوبیاں تھیں مرنے والے میں

دوسرے دوست حامد سروش تھے جن کے بارے میں گزشتہ روز فیس بک پر ایک پوسٹ سے پتہ چلا کہ وہ بھی دنیا سے منہ موڑ کر رخصت ہو چکے ہیں، یہ میرے لئے ایک اطلاع تھی کہ مجھے کئی برس پشاور سے ملازمت کے سلسلے میں باہر رہنا پڑا اور مجھے وقت پر پتہ نہ چل سکا۔ حامد سروش اور ان کی بڑی ہمشیرہ سیدہ حنا نے بھی جب تک پشاور میں رہے بڑی بھرپور ادبی زندگی گزاری ہے۔ سیدہ حنا کا شمار خواتین افسانہ نگاروں کی صف اول کی افسانہ نگاروں میں ہوتا تھا جبکہ دونوں بہن بھائی بھی درس وتدریس سے وابستہ تھے۔ سیدہ حنا پی اے ایف کالج اور سید حامد سروش گورنمنٹ کالج میں پروفیسر تھے اور پشاور کی ادبی محفلوں کی جان ہوا کرتے تھے، دونوں بہن بھائی کا ہمارے ساتھ ریڈیو پروگراموں میں شرکت کا بھی ایک ناتا قائم تھا، سیدہ حنا بزم خواتین کے پروگراموں کیساتھ ساتھ ریڈیو کے ادبی پروگراموں میں جبکہ سید حامد سروش بھی کئی پروگراموں کیساتھ ساتھ ریڈیو کے ادبی پروگراموں کا حصہ ہوا کرتے تھے، ادب میں ان کا تعلق سرگودھا سکول آف تھاٹ کے بانی ڈاکٹر وزیر آغا سے تھا اور خود انہوں نے بھی ایک ادبی جریدہ بڑی کامیابی سے مدتوں تک چلایا، ریٹائرمنٹ کے بعد یہ خاندان پشاور چھوڑ کر نوشہرہ اٹھ گیا تھا جہاں انہوں نے ایک پرائیویٹ سکول کی بنیاد رکھی جس کا انتظام وانصرام سید حامد سروش کی اہلیہ محترمہ کے ذمے تھا کہ وہ بھی ایک اچھی مدرس ہیں۔ سید حامد سروش اور ان کی ہمشیرہ محترمہ نے جب اپنا ادبی جریدہ جاری کیا تو اس میں پشاور کے ادبی حلقوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی اور جب وہ پشاور چھوڑ کر نوشہرہ منتقل ہوئے تو پھر ان کا رابطہ ہی یہاں کے ادبی حلقوں سے تقریباً مکمل طور پر منقطع ہو چکا تھا اور ان کے رسالے میں دوسرے شہروں کے تخلیق کاروں کی نگارشات زیادہ چھپتی رہتی تھیں، اب اگر کچھ دوست ان کے حوالے سے پشاور کے ادبی حلقوں پر ان دونوں کے حوالے سے عدم توجہی کے الزامات لگار رہے ہیں تو یہ صرف اعتراض برائے اعتراض ہی ہو سکتا ہے اور حقیقت سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں کیونکہ مرحومین بہن بھائی نے ازخود ہی یہاں سے ادبی رشتہ توڑ دیا تھا تو پھر گلہ کس بات کا، اس لئے کوئی بھی بات کرنے سے پہلے اگر حقیقت کا ادراک کیا جائے تو بہتر ہے، حالانکہ اس حوالے سے بہت سی تلخ باتیں بھی کی جاسکتی ہیں مگر جب لوگ رخصت ہو جائیں تو پرانی باتوں کو بھول جانا ہی بہتر ہے۔

متعلقہ خبریں