Daily Mashriq


ڈوبتی معیشت کا ماتم

ڈوبتی معیشت کا ماتم

اس بات کو ابھی دو سال کا عرصہ بھی نہیں بیتا کہ جب پاکستان کی مستحکم ہوتی معیشت کا ڈنکا ہر سو بج رہا تھا۔ عالمی صحافتی ادارے اور ماہرین جو سدا پاکستان کے ناقد رہے ہیں، اس کی ایک دہائی کے بعد خدشات کو شکست دیتی اور نمو پاتی معیشت کے گن گا رہے تھے۔ جون 2018ء میں ختم ہونیوالے معاشی سال کے اختتام پر پاکستان اپنے پچھلے تیرہ برسوں کے بلند ترین جی ڈی پی پر کھڑا تھا۔ ایسی حقیقی ترقی پچھلے تیرہ برس میں پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملی تھی گوکہ صدر مشرف کے دور میں پاکستانی معیشت کے غبارے میں مصنوعی طور سے ہوا بھری جاتی رہی، جس سے سٹاک ایکسچینج اور رئیل سٹیٹ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور بظاہر ترقی کا ایک تاثر قائم رہا، البتہ جلد ہی ان مصنوعی طور پر پھیلائے گئے معیشت، سیاست اور ترقی کے بلبلوں میں سے ہوا نکل گئی مگر آج کی کہانی یکسر مختلف ہے۔ رواں مالی سال میں پاکستانی معیشت کی شرح نمو صرف تین فیصد متوقع ہے، اس قدر کم شرحِ نمو پچھلے نو سالوں کے عرصہ میں دیکھنے کو نہیں ملی اور آئندہ دو سالوں میں بھی اس میں اضافے کے کوئی امکانات نہیں۔ غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی منڈی میں روپے کی قدر میں پچھلے ایک سال کے دوران دوتہائی کمی واقع ہوگئی۔ ترقیاتی منصوبوں میں تعطل اور دیگر عوامل پاکستانی معیشت کو لاحق شدید بحران پر ماتم کناں ہیں اور یہ بات کہنے میں کوئی باک نہیں کہ معیشت کو درپیش یہ بحران موجودہ حکومت کی نااہلی، نالائقی، لاعلمی اور لاپرواہی کے سبب ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو ملنے والی معیشت پچھلے تیرہ برسوں کی بلند ترین شرحِ نمو کی حامل تھی گوکہ اس وقت بھی گردشی قرضوں اورکرنٹ اکاؤنٹ خسارے بارے چند خدشات بہرحال موجود تھے۔ روپے کی قدر بھی کمزور ہونے کو تھی جس کی بنیادی وجہ پچھلی حکومت کے وزیرِ خزانہ کا اس معاملے سے متعلق غیردانشمندانہ رویہ ہے جنہوں نے روپے کی قدر کو انا کا مسئلہ بنا رکھا تھا اور جس نے کبھی نہ کبھی ٹوٹنا ہی تھا۔ یہ بات بھی عیاں تھی کہ اگر مسلم لیگ نواز کی حکومت دوبارہ بھی منتخب ہو گئی تو انہیں حکومت سنبھالنے کیساتھ ہی آئی ایم ایف پروگرام لینا ہی پڑیگا جبکہ موجودہ حکومتی پارٹی کے دعوؤں کے متضاد یہ بات عیاں تھی کہ انہیں بھی چارو ناچار آئی ایم ایف کے در پر دستک دینا ہی ہوگی۔ہم کسی بھی سیاسی پارٹی کی پالیسی سے اختلاف کر سکتے ہیں البتہ یہ بات ہمیں بہرحال ماننا ہوگی کہ ماضی میں حکومت میں آنیوالی تمام جماعتیں اپنا معاشی پلان وضح کرتی تھیں جس سے سرمایہ داروں، کاروباری حضرات اور عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوتا تھا اور انہیں کم از کم یہ غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہیں رہتاتھا کہ انہیں آئندہ کیلئے کیا توقعات رکھنا چاہئیں۔ مزید برآں ، موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور معاشی امور نمٹانے میں نااہلی کے باعث عالمی اداروں نے بھی اس ضمن میں پاکستان کی ریٹنگ کم کر دی ہے۔ اس حکومت نے اپنے دودوست ممالک سے فوری قرضے حاصل کر کے اپنے مرکزی بینک میں کم از کم اتنے ڈالر تو اکھٹے کر لئے ہیں کہ یہ خود کو دیوالیہ ہونے سے بچا گئی ہے مگر ان پیسوں کی اہمیت وہی ہے جو شدید غربت اور مفلسی کے دور میں آپ کا دوست آپ کو صرف اسلئے دیتا ہے کہ آپ کا بھرم سلامت رہے۔ مگر آپ کسی بھی طرح اس رقم کے مالک نہیں ہوتے بلکہ مالک تو کُجا ،آپ کو یہ رقم اپنے دوست کو جلد از جلد واپس کرنا پڑتی ہے اور وہ بھی سود سمیت۔ اس قرضے سے گوکہ حکومت کچھ دن اس کھوکھلی معیشت کو بہتر دکھانے میں کامیاب ہو جائیگی مگر یہ رقم کسی بھی طرح امداد نہیں، یہ ایک قرضہ ہے جو کہ واپس لوٹانا ہوگا ۔ سینٹ کے ایک سینئر ممبر کا کہنا ہے کہ اس بات کا تاثر دینا کہ اس رقم سے کسی بھی قسم کی سیاسی، معاشی یا عسکری شرائط یا مطالبات وابستہ نہیںایک مضحکہ خیز بات ہے۔ دوسری طرف ملک میں جاری یکطرفہ احتساب جہاں پاکستان تحریکِ انصاف کیلئے داد وتحسین کے نعرے لگوارہا ہے وہیں اس سیاسی ہلچل کے معیشت پر منفی اثرات بھی مرتب ہونگے اور وہ سرمایہ دار جنہیں اپنے سرمائے اور کاروبار کیلئے ایک استحکام اور تحفظ درکار ہوتا ہے وہ کسی بھی قسم کا اقدام لینے سے کترا رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ خزانہ کے آئی ایم ایف سے متعلق مبہم اور روزانہ بدلتے بیانات ان کے ذہنی الجھاؤ اور ان کی بابت نااہلی کے خدشات کو درست ثابت کر رہے ہیں وہ اپنے بیانات کے مصداق اس بات کے کلی طور پر مجاز ہیں کہ وہ آئی ایم ایف پروگرام لینے سے انکار کر دیں۔ اگر تو ان کے پاس ایسی کوئی جادو کی چھڑی آگئی ہے جو انہیں آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بچا لے تو پھر انہیں فوری طور پر ایک ایسے پلان کو وضح کرنا ہوگا جو پاکستان کو اس ہیجانی کیفیت سے نکال سکے اور اس کی ہچکولے کھاتی معیشت کو استحکام کی جانب گامزن کر سکے وگرنہ دوسری صورت میں ان کی لا پرواہی، کاہلی اور سستی ہر گزرتے دن کیساتھ پاکستان کے معاشی حالات کو مزید دگرگوں کرنے کا سبب بن رہی ہے۔

(بشکریہ: ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں