Daily Mashriq


گورنر راج کا قصہ تمام مگر

گورنر راج کا قصہ تمام مگر

سندھ میں گورنر راج لگے یا نہ لگے قانون کو اپنی عملداری کیلئے راستہ درکار ہے۔ اس وقت عالم یہ ہے کہ سندھ کی حکومت، بیوروکریسی اور انتظامیہ کی بنیاد پر قانون کی عملداری کی راہ روکے ہوئے ہے مگر گورنر راج اس پہلو کا انتہائی اور ناپسندیدہ قدم ہوتا۔ یہ افواہ کہاں سے چلی اور کون اسے اُڑاتا رہا، یہ معلوم نہ ہو سکا۔ وفاق اور اس سے متعلقہ افراد گورنر راج کے نفاذ کی تردید کرتے رہے۔ سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی بھی گورنر راج کی افواہوں کیخلاف تلواریں سونت کر ٹی وی سٹوڈیوز کے میدان میں اُتری تھی مگر وہ بھی اس بات کا واضح اظہا کرنے سے قاصر تھی کہ کس نے گورنر راج کا پیغام دیا ہے۔ اس کے باوجود ٹی وی سٹوڈیوز میں اس موضوع پر زوردار بحث کا سلسلہ جاری رہا۔ بھلا ہو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کا جنہوں نے کم ازکم وفاق اور سندھ کی اس کھینچاتانی میں گورنرراج کے آپشن کو مکھن سے بال کی طرح نکال باہر کیا۔ انہوں نے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کو طلب کرکے کہا کہ گورنر راج لگا تو ایک منٹ میں ختم کر دیں گے۔ کسی کو جے آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر سندھ حکومت کو گرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ گورنر راج کی حد تک ’’تین سال والے‘‘ پیپلزپارٹی کی مدد کو آئے اور انہوں نے اس آپشن کا امکان ہی ختم کر دیا۔ ابھی چند دن آصف زرداری عدلیہ اور فوج کو تین سال والے قرار دیکر دوسرے لفظوں میں خود کو یا اپنی کلاس کو تاحیات قرار دے رہے تھے۔ پاکستان کی سیاست میں تاحیات اور ناگزیریت کے خبط نے بہت سی غلطیوں اور حماقتوں کو جنم دیا ہے۔ اس زعم نے بہت سے غلط فیصلے کروا کر بارہا سیاست کو بندگلی میں پہنچایا ہے۔ جوابدہی اور حساب کتاب پر تین سال والے اور تاحیات کے طعنے اور جملے پاکستان کے سیاست کو صحت مندانہ بنیاد پر استوار ہونے میں بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔ عدالت کی طرف سے گورنر راج کا باب بند کرنے کے بعد قانون ابھی بے بسی کی تصویر ہے۔ سندھ میں جرم وسز ا کی بلاؤں کا صندوق کھلا ہے اور بلائیں داستانوں اور کہانیوں کی صورت ایک ایک کرکے باہر آرہی ہیں۔ ان بلاؤں کی بازپرس قانون کا اختیار اور حق ہے مگر سندھ حکومت عدم تعاون کی راہ پر چل رہی ہے، شاید اسی عدم تعاون کو تعاون میں بدلنے کیلئے گورنر راج کی افواہ چلا دی گئی تھی۔ یہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ہلہ شیری دینے کا ایک انداز ہو سکتا تھا۔ مفاہمت کے بادشاہ کہلانے والے آصف زرداری اس وقت سندھ میں جلسوں جلوسوں میں مگن ہیں۔ بے نامی اکاؤنٹس کے حوالے سے عدالت کی قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد ان کے لہجے کی تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔ رپورٹ کیا ہے یہ تو تحیر وتجسس اور سنسنی خیزی سے بھرپورکسی جاسوسی ناول کا کوئی باب ہے، ہالی ووڈ کی کسی فلم کا سکرپٹ ہے۔ اب یہ عدالت پر منحصر ہے کہ وہ اس متحیر کر دینے والی رپورٹ کو تسلیم کرتی ہے یا نہیں؟ اگر یہ سب واقعی ہوچکا ہے تو اس شخص کی ذہانت قابلِ رشک ہے جس نے مال بنانے کے یہ سب طریقے اور انداز ایجاد کئے ہیں۔ کاش یہ ذہانت پاکستان کے مسائل حل کرنے کے کام آئی ہوتی تو شاید ملک کہیں سے کہیں پہنچ گیا ہوتا۔ آصف زرداری سندھ میں ایک نئی سیاسی صف بندی کرنے میں مصروف ہیں تاکہ ان کی گرفتاری کی صورت میں سندھ میں احتجاجی سیاست کا آغاز ہو سکے۔ آصف زرداری کا اندرون سندھ کا یہ سفر، شعلہ بیانی اور اشاروں اور کنایوں میں طنزیہ باتوں کے لحاظ سے نوازشریف کے نااہلی کے بعد جی ٹی روڈ کے سفر سے قطعی مطابقت رکھتا ہے۔ آصف زرداری مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مندرجات پر بات نہیں کرتے ان کا سٹائل اشاروں کنایوں میں پیغام پہنچانے جیسا ہے۔ اگر یہ ہوا تو یہ ہو سکتا ہے اور یوں ہوا تو یوں ہو سکتا ہے۔ وہ اب سندھ کے احساس محرومی کی بات بھی کرنے لگے ہیں اور یہ وہی سندھ ہے جس میں ان کی جماعت دس سال سے سیاہ وسفید کی مالک ومختار ہے۔ آصف زرداری اب مولانا ابولکلام آزاد کی کتاب بند کرنے کی بات بھی کر رہے ہیں۔ یہ سیدھے سبھاؤ ’’سندھ کارڈ ‘‘ ہے۔ یہ ایک متروک سکہ ہے جو ماضی میں تو استعمال ہوتا رہا مگر اب سیاست کی حرکیات بڑی حد تک تبدیل ہو چکی ہیں۔ سیاست سے نظریات کا عنصر غائب ہو چکا ہے اور اقتصادیات کا عنصر غالب آچکا ہے۔ کرپشن کا دفاع اس لئے نہیں کیا جا سکتا کہ پاس پڑوس میں بھی یہ کام ہور ہا ہے۔ ہر شخص اپنے اعمال اور کردار کا جواب دہ ہے۔ ہر شخص کو اپنا حساب کتاب ٹھیک رکھنا ہوتا ہے۔ ’’صرف ہمارا ہی احتساب کیوں‘‘ قطعی غیرصحت مندانہ سوچ ہے۔ کہیں سے آغاز تو ہونا ہی ہوتا ہے ہاں اگر احتساب کا عمل اچانک کہیں پہنچ کر رک جائے تو پھر وقت اس کے مصنوعی اور جانبدار ہونے کا فیصلہ دینے میں لمحوں کی تاخیر نہیں کرے گا مگر ابھی تو شروعات ہیں۔ بڑے سکینڈلز کو بھگتانے کے بعد اس احتساب کا نقارہ ہر بدعنوان کے گھر اور گلی میں بجنا چاہئے۔ کسی کو یہ موقع نہیں ملنا چاہئے کہ وہ احتساب کو یک طرفہ اور انتقام قرار دے مگر یہ کہنا کہ ہمارا ہی احتساب کیوں؟ ایک غلط رویہ ہے۔ سیاستدانوں کا رویہ ’’ہمارے ساتھ ساتھ دوسروں کا احتساب بھی کیجئے‘‘ ہونا چاہئے اور دوسروں کا احتساب ہونا بھی چاہئے یہی پاکستان میں نئی طرزسیاست کی بنیاد بن سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کیلئے شکر کا پہلو تو یہ ہے سندھ گورنر راج سے بچ گیا اور قانون ہی اس عمل کی راہ میں دیوار بن گیا مگر سندھ میں قانون کو آگے بڑھنے اور اپنی عملداری کیلئے راستہ درکار ہے۔ مراد علی شاہ اور ان کا آئینی اختیار یہ راستہ تادیر نہیں روک سکتے۔

متعلقہ خبریں