Daily Mashriq

قومی اسمبلی میں سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں پر وفاقی حکومت کی لاپروائی پر تنقید

قومی اسمبلی میں سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں پر وفاقی حکومت کی لاپروائی پر تنقید

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے صوبہ سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں پر وفاقی حکومت کی ’لاپروائی‘ کی مذمت کی۔

 رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے اپوزیشن نے سندھ میں تباہ کن صورتحال سے نمٹنے کے لیے درکار اور منظور کردہ فنڈز فراہم نہ کرنے پرحکومت پر تنقید کی اور تنبیہ کی کہ اگر بروقت علاج کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو صورتحال بے قابو ہوسکتی ہے اور دوسرے صوبوں کو بھی اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

’ سندھ کے مختلف اضلاع میں ٹڈی دل کے حملوں‘ پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ فصلیں تباہ ہورہی ہیں اور اگر صوبائی اور وفاقی حکومتوں دونوں کی جانب سے اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا تو ملک میں گندم کی قلت ہوسکتی ہے۔

اجلاس کے دوران پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی خوراک تحفظ اور تحقیق عامر سلطان نے ایوان کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے نیشنل ایکشن پلان(این اے پی) کی منظوری کے علاوہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور کئی اجلاس میں منعقد کیے ہیں۔

جس پر نوید قمر نے کہا کہ ’ ہم یہ سننے میں دلچسپی نہیں رکھتے کہ آپ نے کمیٹیاں بنائیں ہیں اور اجلاس کررہے ہیں، ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ صورتحال پر قابو پانے کےلیے آپ نے کیا عملی اقدامات کیے ہیں‘۔

پیپلزپارٹی کے بدین کے رکن قومی اسمبلی غلام علی تالپور نے دعویٰ کیا کہ سندھ کے 12 اضلاع ٹڈی دل کے شدید حملوں سے متاثر ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل سیاہ بادلوں کی طرح آسمان پر چھاگئے تھے اور ایسا معلوم ہورہا تھا کہ 18ویں صدی ہے کیونکہ لوگ باقی فصلوں کو بچانے کے لیے اپنی کچھ فصلوں کو آگ لگارہےتھے۔

عامر سلطان نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کو حتمی شکل دینے کے علاوہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 46 کروڑ روپے کی منظوری دی تھی جو جولائی تک صورتحال پر قابو پانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اس حوالے سے رقم جلد جاری کی جائے گی۔

عامر سلطان نے کہا کہ حکومت پہلے ہی سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں کا مقابلہ کرنے اور اسپرے کے لیے 14 ہزار لیٹر ادویات کے لیے 30 کروڑ روپے خرچ کرچکی ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ماہ میں ایک لاکھ لیٹر ادویات کی درآمد کا آرڈر دے دیا ہے، انہوں نےمزید کہا کہ حکومت نے صورتحال کی نگرانی کے لیے ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی ہیں اور ڈپٹی کمشنرز کو 15 روز کی بنیاد پر رپورٹ دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں