Daily Mashriq

فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ کو ہندو مخالف کہنا مضحکہ خیز ہے: جاوید اختر

فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ کو ہندو مخالف کہنا مضحکہ خیز ہے: جاوید اختر

بھارت کے معروف شاعر، مصنف اور ادیب جاوید اختر نے فیض احمد فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ کو ہندو مخالف سمجھنا انتہائی مضحکہ خیز قرار دے دیا۔

گزشتہ سال دسمبر سے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف شہریت کے متنازع  قانون پر مظاہرے جاری ہیں جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، اترپردیش اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے طلبہ پیش پیش ہیں۔

گزشتہ روز بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر کانپور میں انڈیا انسٹی ٹیوٹ  آف ٹیکنالوجی نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے خلاف ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جو احتجاج کے وقت فیض احمد فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ پڑھ رہے تھے۔

یہ کمیٹی ایک فیکلٹی ممبر کی شکایت پر بنائی گئی ہے اور فیکلٹی ممبر نے دعویٰ کیا ہے کہ نظم کا ایک یہ مصرعہ’’جب ارضِ خدا کے کعبے سے، سب بت اٹھوائے جائیں گے" اور دوسرا "بس نام رہے گا اللہ کا" ہندو مذہب کے خلاف ہے۔

اس پر ردعمل دیتے ہوئے معروف بھارتی شاعر جاوید اختر نے کہا کہ فیض احمد فیض انقلابی شاعر تھے اور ان کی نظموں میں تو برصغیر بٹنے کا دکھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نظم تو فیض نے جب لکھی تھی جب پاکستان میں ضیاءالحق کا دور تھا لہٰذا اس نظم کو  ہندو مخالف کہنا اتنا مضحکہ خیز ہے کہ اس پر سنجیدہ گفتگو ممکن ہی نہیں۔

جاوید اختر کا کہنا تھا کہ فیض کی نظم آزادی اظہارپر پابندیوں کے خلاف ہے، اس نظم کے خلاف بات کرنا جاہلانہ سوچ ہے ۔

متعلقہ خبریں